جموں کشمیر و لداخ کے 22اضلاع میں 3651 آبی پناہ گاہیں سرکاری کاغذات میں درج

سرینگر// قدرتی آبی ذخائر اورآبگاہوںکے نزدیک آبادی کے پھیلائو،غیر قانونی طور پراراضی پر قبضہ،ماحولیاتی آلودگی اور فطری تبدیلی کے نتیجے میںانکا سکڑنا شدید خطرے کی علامت تصور کیا جارہا ہے۔ ماہرین ماحولیات نے ان کی بحالی اور تحفظ کیلئے’’ویٹ لینڈ منیجمنٹ پلان‘‘ کی وکالت کرتے ہوئے آبی پناگاہوں کے عالمی دن پر جموں کشمیر کے آبی پناہگاہوںکو تحفظ فراہم کرنے کیلئے حکمت عملی مرتب کرنے کا مشورہ دیا ہے۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم سرما شروع ہوئے ہی آبی پناہ گاہیں لاکھوںمہاجر پرندوں کی مسکن بن جاتی ہیں جو کشمیر کی بے پناہ خوبصورتی میں چار چاند لگاتے ہیں۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق جموں کشمیرولداخ کے 22اضلاع میں کل 3651چھوٹی بڑی آب گاہیں موجود ہیں جن میں پانچ آب گاہیں عالمی شہرت کی حامل ہیں ۔ان میںہوکر سر اور ولر جھیل کے علاوہ جموں کی دو آبگاہیں سرنسر اورمانسرشامل ہیں۔ لیکن زمانے کے بے رحم ہاتھوں اور لوگوں کی لالچ نے ان پناہ گاہوں کو تباہ کر کے  انکے ارد گرد رہائش اختیار کرکے ان پر غیر قانونی طور قبضہ جمایا ۔گرمائی دارالحکومت سرینگر کی خوبصورتی دوبالا کرنے والا جھیل ڈل حالیہ برسوں کے دوران تیزی کے ساتھ سکڑ تا گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی کثافت،ناجائز قبضہ،شہری آبادی میں پھیلائو،ماحولیاتی تبدیلی اور زمین کے کٹائو کے نتیجے میں آبی ذخائر کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ارضیات کے ماہر شکیل احمد رومشو نے اپنی تحقیق میں کہا ہے کہ آبی ذخائر کے خاتمے کی ایک وجہ ڈرینج سسٹم بھی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان آبی ذخائر کے گردونواح  میں واقعہ علاقوں سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں ٹن غلیظ اور گندھا پانی ان آبی پناگاہوں میں چلا جاتا ہے جس کے نتیجے میں آب گاہوں کی کثافت میں اضافہ ہوتا ہے، ان کا پانی زہر آلودہ بن جاتا ہے اور نتیجے کے طور پر پانی کے اندر نباتات اور مچھلیوں کے علاوہ دیگر چھوٹے کیڑے مکوڑے، جو گندی چیزوں کو کھاکر آب گاہوں کو زندہ رکھنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں، مر جاتے ہیں۔زہر آلودہ پانی سے انسانوں میں بھی طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہورہی ہیں۔ انہوں نے اپنی تحقیق میں مزید کہا  ہے کہ یہ بیشتر آبی پناہ گاہیںسیلابی پانی کو جمع کرنے کیلئے بھی استعمال میں لائی جاتی تھیں،تاہم ان کے سکڑنے کے نتیجے میں اب ان میں پانی جمع ہونے کا حجم کم ہوگیا ہے۔ محقق عبدالرشید کی تحقیق کے مطابق غیر منصوبہ بند شہری پھیلائو،ناجائز قبضے اور آبادی کے دبائو کے نتیجے میںسال1911سے لیکر2004 تک سرینگر میں91.2مربع کلو میٹر آبی پناگاہوں کا خاتمہ ہوا۔انہوں نے کہا ہے کہ جھیل ڈل کبھی 75مربع کلو میٹر پر پھیلا ہواتھا۔ سال1859میں اس کا حجم32کلو میٹر رہ گیا اور فی الوقت اندرونی علاقوں سمیت جھیل ڈل 24 مربع کلو میٹر پر محیط ہے،جس میںپانی کا رقبہ10.5کلو میٹررہ گیا ہے۔فضل اور امین نامی اسکالروں نے اپنی تحقیق میں کہا ہے کہ1971میں براری نمبل ایک مربع کلو میٹر پر پھیلی تھی جس میں،0.28مربع کلو میٹر پانی اور0.72کلو میٹر دلدل تھا تاہم اب یہ0.75کلو میٹر تک محدود ہوگئی ہے۔ شکیل رومشو اور عبدالرشیدکی تحقیق کے مطابق ہوکر سر کا رقبہ1969میں18.75مربع کلو میٹر تھا جو اب 13مربع کلو میٹر تک رہ گیا ہے۔ آنچار جھیل اب صرف 30فیصد بچا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کاپریشان کن انکشاف کیاگیا ہے کہ شہر سرینگر میں موجود قدرتی آب گاہیں اور جھیلیں غیر قانونی قبضہ کی وجہ سے ختم ہوگئے ہیں ۔ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سرینگر میں 50فیصد آب گاہیں اور قدرتی جھیلیں ختم ہوچکی ہیںاور شہر میں 95سال کے دوران آبی پرندوں کی پناہ گاہوں کے رقبہ میں7018مربع کلومیٹر کی کمی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق1911میں سرینگر شہر میں آبی پرندوں کی پناہ گاہیں 13,425.90 مربع کلومیٹر پر پھیلی تھیں جو سال 2017کے آخر تک 6,407.14مربع کلو میٹرتک سکڑ چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرینگر میں ان آبی پناگاہوں کو غیر ضروری سمجھا جا رہا ہے اور انکے تحفظ کی منصوبہ بندی کبھی نہیں کی جاتی ہے۔غیر قانونی تجاوزات ہٹانے، قبضہ مافیا کیخلاف کارروائی کرنے اور ڈل کو اسکی اصل ہیت میں برقرار رکھنے کی زمہ داری لیکس اینڈ واٹر وئز ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ آبی ذخائر کو ماحولیاتی کثافت سے بچانے کیلئے اقدامات اٹھانے کے علاوہ شہری پھیلائو کی با ضابطہ منصوبہ بندی اور گرین زونز کو قائم کرنے کیلئے عوامی سطح پر آگاہی لازمی ہے۔