جموں کشمیر میں شدید معاشی بحران دستک دینے کے قریب

سرینگر //کورونا لاک ڈائون کے نتیجے میں موجودہ سال کے اشاریے کوئی تسلی بخش نہیں ہیں حالانکہ پچھلے سال جموں وکشمیر کی معیشت کویومیہ270کروڑ کے نقصان سے دوچار ہونا پڑاتھا۔کشمیر چیمبر آف کامرس کا کہنا ہے کہ صرف وادی کی معیشت کو رواں برس لاک ڈائون میں اب تک کروڑوں کا نقصان ہوچکا ہے۔ چیمبر کا کہنا ہے جموں و کشمیر کی آمدنی،جو ہندوستان کی جی ڈی پی کا 0.77 فیصد حصہ بنتا ہے ، کو پچھلے سال یومیہ 270 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا تھا ۔ معلوم رہے کہ آرٹیکل 370 کو منسوخی کے بعد ، اگست 2019سے چار ماہ میں کشمیر کی معیشت کو 17878 کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا۔اس نقصان کا اندازہ جموں وکشمیر کی 18۔2017 کی مجموعی گھریلو پیداوار کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ گذشتہ سال نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن کے بعد اس سال اُس وقت صورت حال مزید بگڑ گئی جب کورونا (کورونا) وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لئے پابندیوں میں اضافہ کیا گیا۔اس سے کشمیر کی پہلے سے کمزور معیشت پر بدترین اثرات مرتب ہوئے۔چھوٹے بڑے نجی کارخانے، بینکوں سے قرضوں پر لئے گئے کاروباری منافع بخش یونٹ،ہوٹل انڈسٹری اور اس سے جڑے دیگر کاروباری شعبے، سیاحت اور اس سے جڑی دیگر کاروباری سرگرمیاں اور چھوٹے اداروں کا انحصار،شکارا، ہاوس بوٹ، ٹرانسپورٹ، دکاندار، ہنڈی کرافٹس مصنو عا ت ، شال بافی کاروبار اور سیاحت سے جڑے دیگر سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ رہیں اور یوں معاشی اشارے منفی میں چلے گئے۔اسکے علاوہ فروٹ انڈسٹری اور دیگر منافع بخش کاروباری شعبے لگاتار خسارے سے دوچار ہورہے ہیں۔اکیوٹ ریٹنگس اینڈ ریسرچ لمیٹیڈ، جو سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا میں رجسٹر شدہ ہے اور ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے تسلیم شدہ کریڈٹ اسسمنٹ ادارہ ہے، نے پچھلے سال پورے ملک میں کورونا لاک ڈائون کا خسارہ 35000کروڑ کا لگایا تھا۔ان اعدادوشمار کو دھیان میں رکھتے ہوئے، چونکہ جموں کشمیر کا حصہ ملک کی جی ڈی پی کامحض0.77فیصد بنتا ہے، لہٰذا اس بات کا اندازہ لگایا گیا تھا کہ کشمیر میں 150کروڑ کا نقصان ہوا تھا، کیونکہ کشمیر کا جموں کشمیر کی جی ڈی پی میں 55فیصد حصہ ہے۔جموں کشمیرکی جی ڈی پی سالانہ1.30لاکھ کروڑ بنتی ہے۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے مطابق کورونا کی دوسری لہر پر قابو پانے کیلئے لاک ڈائون کے 28روز کے دوران کشمیر کی معیشت کو لگ بھگ مزید 5ہزار کرڑو سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ صرف تاجروں کو یومیہ ڈیڑھ سو کروڑ کا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے ۔ چیمبر کے صدر شیخ عاشق کے مطابق ابھی لاک ڈائون جاری ہے اور چیمبر اپنی طرف سے یہ اعداد وشمار بھی جمع کر رہا ہے کہ کتنا نقصان ہوا ہے لیکن ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے کشمیر کی معیشت اس لاک ڈائون سے تباہ ہو رہی ہے اور اب مزید لگ بھگ 5ہزار کروڑ کا نقصان ہر ایک شعبہ میں ہونے کا امکان بڑھ رہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مانتے ہیں کہ صرف 20فیصد کاروبار، جس میں لازمی خدمات شامل ہیں، کو چھوٹ ہے، لیکن اسی پر یہاں کی معیشت نہیں چل رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب بھی کشمیر میں لاک ڈائون ہوتے ہیں’ ہم کہتے ہیں کہ سرکار مزدوروں اور کاروباری طبقہ کے علاوہ محنت کشوں کا دھیان رکھے کیونکہ لاک ڈائون ان کیلئے کسی بڑی مصیبت سے کم نہیں ہوتے ۔عاشق نے کہا کہ لاک ڈائون سے ہر ایک شعبہ میں 4سے 5لاکھ لوگ بیروزگار ہو جاتے ہیں ۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ لاک ڈؤان کے دوران یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب یہاں کے تجارت پیشہ افراد کو کروڑوں کا نقصان جھیلنے پڑ رہا ہو۔کشمیری تاجر اس طرح کی صورتحال کا سامنا گذشتہ تین برس سے کرتے آرہے ہیں۔ 5 اگست 2019 کے بعد کم وبیش 13 ماہ تک مجموعی طور پر تجارتی سرگرمیاں بند رہیں۔ پھر رہی سہی کسر 2020 کے کورونا لاک ڈؤان نے پوری کرلی اور اب 2021 میں نئے سرے سے نافذ کئے گئے لاک ڈاؤن کے28 دن مکمل ہو چکے ہیں۔