جموں کشمیر معیشت کے استحکام کی طرف گامزن جی ایس ٹی کے تحت14ہزار،ایم ایس ایم ای کے تحت ڈیڑھ لاکھ کاروباری ادارے درج

بلال فرقانی

سرینگر// جموں کشمیر میں سال گزشتہ14ہزار کے قریب تجارتی اداروں کی اشیاء و خدمات ٹیکس کے تحت رجسٹریشن ہوئی،جس کے نتیجے میں دسمبر 2023میں سرکار 492کروڑ روپئے جی ایس ٹی وصول کرنے میں کامیاب ہوئی،تاہم ایک لاکھ45ہزار سے زائد چھوٹے و درمیانہ درجے کے اداروں(ایم ایس ایم ای) کا’اُدئم‘ (آن لائن ادھیوگ آن لائن راجسٹریشن)کے تحت انداراج ہوا۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ضلع جموں میں سب سے زیادہ تجارتی اداروں کا اشیاء و خدمات ٹیکس کے تحت اندراج ہوا جن کی تعداد3017تھی جبکہ ضلع شوپیاں میں سب سے کم254کاروباری ادارے جی ایس ٹی کے تحت درج ہوئے۔ ضلع گڈ گورننس انڈیکس رپورٹ میں سٹیٹ ٹیکس افسران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گرمائی دارالحکومت سرینگر میں1149 جبکہ بارہمولہ میں570،گاندربل میں295اور بانڈی پورہ میں281 تجارتی اداروں کا اندراج ہوا۔ اعداد شمار کے مطابق ضلع بڈگام میں744،اننت ناگ میں676،پلوامہ میں287کپوارہ میں557اور کولگام میں444کاروباری اداروں کا اندراج گزشتہ برس جی ایس ٹی کے تحت ہوا۔ جموں صوبے کے بارے میں تفصیلات ظاہر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال2023میں ریاسی میں 334،کشتواڑ میں465سامبا میں446پونچھ میں573اور ادھمپور میں458اداروں کو درج کیا گیا۔

 

اعدادو شمار کے مطابق کھٹوعہ میں676ادارے گزشتہ برس جی ایس ٹی کے تحت درج ہوئے جبکہ راجوری میں727ڈوڈہ میں517اوررام بن میں296اداروں کا اندراج عمل میں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر دسمبر2023کے آخر تک14066 اداروں کو درج کیا گیا۔ جموں و کشمیر میں 2022 کی اسی مدت کے مقابلے ستمبر 2023 کے لیے گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی وصولی میں غیر معمولی 32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔گزشتہ برس کے دوسرے سہہ ماہی میں جی ایس ٹی کے تحت563 کروڑ روپے کے ٹیکس جمع کیے گئے اورستمبر 2022 میں 428 کروڑ روپے کی وصولی کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ کامیابی جموں و کشمیر کو قومی اوسط سے بھی آگے ہیں، جو اس کی مسلسل مالی کارکردگی کو ظاہر کرتی ہے۔مزید ، خطہ نے جون میں جی ایس ٹی کی وصولی میں سال بہ سال 58 فیصد کی غیر معمولی نمو کا تجربہ کیا، جو جموں کشمیر کی بڑھتی ہوئی اقتصادی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔جموں و کشمیر کے لیے نومبر کے مہینے میں جی ایس ٹی کی آمدنی میں پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 9 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔مرکزی وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2023 میں جموں و کشمیر کی جی ایس ٹی کی وصولی 469 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جوخاص طور پر پچھلے سال کی اسی مدت میں 430 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ محکمہ شماریات کا مزید کہنا ہے کہ تاہم گزشتہ برس کے دوران جمون کشمیر میں ’اُدئم ‘کے تحت ایک لاکھ45ہزار800 کاایم ایس ایم ای‘ کا اندراج عمل میں لایا گیا۔محکمہ شماریات کی طرف سے ظاہر کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق سال گزشتہ طریقہ کار کے تحت سرینگر میں25ہزار2ایم ایس ایم ای کا اندراج کیا گیا جبکہ پونچھ میں سب سے کم819ایم ایس ایم ای درج ہوئے۔ اعدادو شمار کے مطابق بارہمولہ میں 12453، کپوارہ میں9464،گاندربل میں 7135، اننت ناگ میں15204اور بڈگام میں 13290چھوٹے اور درمیانہ درجے کے اداروں کا اُدئم کے تحت اندراج عمل میں لایا گیا۔ شوپیاں میں5188،پلوامہ میں12097 ، کولگام میں6913 اور باںڈی پورہ میں5745کاروباری اداروں کی راجسٹریشن ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق جموں ضلع میں گزشتہ برس16277ادارون کا ادراج عمل میں لایا گیا جبکہ کھٹوعہ میں5992،سامبا میں،1906اور رام بن میں2199ایم ایس ایم ای کا اندراج کیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ ادھمپور میں3500 راجوری میں9639اورسامبا 3667ڈوڈہ میں3271،ریاسی میں 1906 ایم ایس ایم ای کا اندراج عمل میں لایا گیا۔