جموں کشمیر انتظامیہ کی کورونا سے متعلق اہم میٹنگ| تعلیمی ادارے فی الحال بند

 سرینگر// جموں کشمیر انتظامیہ نے آئندہ احکامات تک سبھی تعلیمی ادارے بشمول سکول اورکوچنگ مراکزبند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف سیکریٹری ارون مہتا، جو سٹیٹ ایگزیکٹیو افسر بھی ہے، کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری صحت و طبی تعلیم اتل ڈلوکے علاوہ پرنسپل سیکریٹری داخلہ، صوبائی کمشنروں،ضلع ترقیاتی کمشنروں،پولیس سپرانٹنڈوں اور دیگر افسراں نے شرکت کی۔میٹنگ کے بعد جاری احکامات میں کہا گیا ہے”تمام اسکول اور اعلیٰ تعلیمی ادارے بشمول کوچنگ سینٹر، آئندہ احکامات تک عملی تعلیم و ذاتی طور پر پڑھانے کے لئے بند رہیں گے “۔
تاہم تعلیمی اداروں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ انتظامی مقاصد کےلئے محدودپیمانے پر ٹیکہ لگانے والے عملے کی ذاتی حاضری طلب کرسکتے ہےں۔حکومت نے یہ بھی دہرایا کہ جموں و کشمیر کے کسی بھی ضلع میں ہفتہ وار کرفیو نہیں ہوگا البتہ تمام اضلاع میں رات 8 بجے سے صبح 7 بجے تک رات کا کرفیو نافذ رہے گا۔ سرکاری حکم نامہ میں مزید کہا گیا کہ اندروانی اجتماعات کیلئے زیادہ سے زیادہ25افراد کی موجودگی ہوگی۔تمام ڈپٹی کمشنروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے میڈیکل بلاکس کی مثبت شرح پر توجہ دیں۔حکم نامہ میں کہا گیا”ضلع ترقیاتی کمشنرکوویڈ مینجمنٹ اور سرگرمیوں کی پابندی سے متعلقہ اقدامات ، ان بلاکس میں کریں گے جہاں بھی کیسوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جائے“۔
ڈپٹی کمشنروںسے کہا گیا کہ وہ بلاکوں میں مثبت شرح کی فعال نگرانی رکھیں اور اگر ہفتہ وار مثبت شرح 4 فیصد سے تجاوز کر جائے تو ان بلاکوں کی بند جگہوں جیسے کہ سرکاری اور نجی دفاتر ، کمیونٹی ہالز ، شاپنگ مالوں ، بازاروں میں سخت کنٹرول کے اقدامات کو لاگو کرنے پر غور کریں ۔میٹنگ میں ہفتہ وار مجموعی کیسوں، مجموعی مثبت کیسوں،بستروں پر موجود بیماروں،اموات کی شرح،ٹیکہ کاری اور کویڈ مناسب برتاﺅ کی عملداری کا احاطہ کیا گیا۔ میٹنگ میں اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ گزشتہ ہفتہ کے برعکس تمام اضلاع میں کویڈ صورتحال میں غیر معمولی بہتری آئی ہے،تاہم کویڈ کو روکنے اور اس سے نپٹنے کیلئے مزید کچھ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ضلع مجسٹریٹوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ کویڈ مناسب برتاﺅ کی عملداری کو سختی کے ساتھ یقینی بنائے اور خلاف ورزی کے مرتکبین کو آفات سماویٰ قانون اور تعزیرات ہند کے تحت کارروائی عمل میں لائے۔ متعلقین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کویڈ کے حوالے سے جانچ، تلاش، علاج اور ٹیکہ کاری کے مہم کو مستحکم کریں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ مثبت کیسوں کا پتہ لگایا جائے تاکہ دیگر لوگوں کو ان سے دور اور علیحدہ رکھا جائے۔ مثبت کیسوں میں مبتلا مریضوں کو ہسپتالوں اور طبی سہولیات مراکز میں علاج کی سہولیات بہم رکھنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔ضلع مجسٹریٹوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پولیس اور ایگزیکٹو مجسٹریٹوں کی ٹیموں کو کویڈ مناسب برتاﺅ کی عملداری کیلئے تشکیل دیں،اور یہ ٹیمیں روزانہ کی بنیادوں پر اپنی کارکردگی کی رپورٹیں اور احاطوں پر مبنی تجزیہ پیش کریں۔