جموں کشمیرکے کاروباری کووِڈ- 19سے سخت متاثر

سرینگر//جموں کشمیر کے کاروباری گزشتہ تین برس کے دوران کووِڈ- 19سے زبردست متاثر ہوئے اوران کے نئے قائم کئے گئے یونٹوں کی بقاء حکومتی امداد اوربینکوں سے قرضہ حاصل کرنے کے باوجودمشکل تھی۔جموں کشمیر یوتھ اینٹری پرنیورس فیڈریشن کے صدربابر چودھری نے ایک بیان کے مطابق جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی کاروباریوں کیلئے ایک خصوصی پیکیج کا اعلان کیاجائے تاکہ تمام تجارتی یونٹ جو سخت بحران کا شکار ہے کی بقاء ممکن ہواور یہ ایک امدادہوگی جس کے ثمرآورنتائج برآمد ہوں گے۔  جموں کشمیر یوتھ اینٹری پرنیورس فیڈریشن کے صدر نے لیفٹیننٹ گورنر پر زوردیا کہ وہ جموں کشمیر کے کاروباریوں کیلئے قرضہ پرخصوصی سود کی شرح کااعلان کریںتاکہ تجارتی ادارے وقت پرقرضہ اداکرسکے۔ بابرچودھری نے کہا کہ گزشتہ تین سال کے دوران کووِڈ- 19وباء کی وجہ سے جموں کشمیر کے کاروباری طبقے کوسخت مشکلات درپیش ہیں جن میں بینک قرضوں کی ادائیگی،ملازمین کی تنخواہ وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے مزیدکہا کہ نئے کاروباری یونٹ قائم کرنے کیلئے کاروباریوں کو متعلقہ حکام سے تمام اجازت نامے حاصل کرنے ہوتے ہیں،لیکن گزشتہ تین برس کے دوران جموں کشمیر میں تجارت کی بقاء کیلئے کچھ نیا نہیں کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیرکی نئی نسل میں خواتین کاروباری میدان میں آکر بے روزگاری کو مات دینے کے چیلینج کامقابلہ کررہی ہیںاوروہ انٹرنیٹ بندش ،سیاسی عدم استحکام اور لاک ڈائون کے باوجودتجارتی مواقع سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ خوراک سے لیکرفیشن تک ان کاروباری خواتین نے سوشل میڈیامیں ایک ساتھی کو پایا ہے جو ان کے کاروبار کوتیزی سے پھیلا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کاروباریوں کو برسوں مختلف محکموں سے کوئی اعتراض نہیں کی سند حاصل کرنے میں لگ جاتے ہیں۔