جموں کشمیرکاسالانہ بجٹ مایوس کن :تاجرانجمنیں

سرینگر// مرکزی حکومت کی جانب سے جموں کشمیر کیلئے بجٹ کو تاجروں و کارباریوں کیلئے مایوس کن قرار دیتے تجارتی انجمنوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت جموں کشمیر میں گزشتہ3برسوں کی صورتحال کو مد نظر رکھے گی۔ مرکزی حکومت نے پیر کو جموں کشمیر کیلئے قریب ایک لاکھ13ہزار کروڑ کا بجٹ پیش کیا۔ کشمیر اکنامک الائنس نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ مرکزی حکومت جموں کشمیر کی موجودہ پوزیشن کو مد نظر رکھتے ہوئے تاجروں،کارباریوں اور صنعت کاروں کیلئے پیکیج کا اعلان کریں گی۔ الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے کہا کہ تعمیراتی ٹھیکیداروں کے600کروڑ روپے بھی واجب الادا ہیں،جس کے نتیجے میں تعمیراتی کاموں میں سست رفتاری کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ میزانیہ کا 3حصہ آمدنی سے متعلق اخرجات(روینو ایکسپنڈیچر) ہیں اور سرمایہ اخرجات(کیپٹل ایکسپنڈیچر) کیلئے بہت کم رقومات کو مختص رکھا گیا ہے،جس سے وہ نا امید ہوگئے ہیں۔ ڈار نے امید ظاہر کہ لیفٹنٹ گورنر کی سربراہی والی انتظامیہ بجٹ کا بغور جائزہ لے گی اور چھوٹے تاجروں اور کاروباریوں کی راحت کیلئے اقدامات اٹھائے گی۔ شہر خاص کارڈی نیشن کمیٹی کے سربراہ نذیر احمد شاہ نے  بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں کو امید تھی کہ انکا خیال رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آسان قرضوں کی دستیابی،کم سود،ادائیگی کی مدت میں اضافہ اور دیگر رعایات بجٹ میں نظر نہیں آرہی ہے۔شاہ نے کہا کہ وادی میں گزشتہ3برسوں سے کارو باریوں اور چھوٹے تاجروں کی صورتحال بہت خراب ہوگئی ہے،اور مرکزی حکومت کو چاہے کہ وہ اس کا جائزہ لیں۔ کشمیر ٹریڈر س اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن(راتھر) کے ترجمان اعلیٰ ہلال احمد منڈوں نے کہا کہ تاجروں نے پہلے ہی انتظامیہ کو اپنی تجاویز پیش کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر حکومت کو چاہے کہ وہ تاجروں کا ہاتھ تھام لے،کیونکہ وادی میں تجارت گزشتہ3برسوں کے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تاجروں کو امید تھی کہ مرکزی حکومت ایک جامع پیکیج کا اعلان کرے گی،تاہم کاروباریوں کو پھر سے تنہا چھوڑ دیا گیا۔ منڈوں نے کہا کہ اگر بجٹ میں کئی شعبوں کیلئے بہترین رقومات کو مختص رکھا گیا ہے،تاہم مجموعی طور پر تجارتی برادری کیلئے کچھ نہیں ہے۔ کشمیر ٹریڈرس فیڈریشن کے ایک اور دھڑے کے صدر شاد حسین اور جنرل سیکریٹری حاجی نثار نے بھی بجٹ پر ردعمل ظار کرتے ہوئے اس کا تاجروں کیلئے مایوس کن قرار دیا۔