جموں کشمیرمیں اسمبلی حلقوں کی حدبندی ضروری نہیں تھی

سری نگر//سابق مرکزی وزیر یشونت سنہاکی قیادت میں سابق حکام اورسیاسی تجزیہ نگاروں پر مشتمل ایک وفد دو روزہ دورے پرمنگل کو سرینگرپہنچ گیا۔یہاں پہنچنے کے بعدیشونت سنہا نے حدبندی کمیشن کی سرگرمیوں پرسوال اُٹھاتے ہوئے کہاکہ جموں وکشمیر میں اسمبلی حلقوں کی حد بندی کی ضرورت نہیں تھی۔کے این ایس کے مطابق سابق مرکزی وزیر خزانہ یشونت سنہا نے یہاں پہنچنے کے بعدکہاکہ خصوصی پوزیشن اورریاستی درجے کی بحالی کیلئے قائم کئی سیاسی جماعتوںکے اتحاد’ پی اے جی ڈی ‘کی جانب سے جموں و کشمیر میں ریاستی درجہ کی بحالی کے بعد ہی انتخابات منعقد کرائے جانے کی مانگ جائز اور صحیح ہے۔اس دوران معلوم ہواکہ سری نگرمیں قیام کے  دوران یشونت سنہا اوراُن کی ٹیم میں شامل سابق ائرمارشل کپل کاک اورسوشابھا باروے کئی سیاسی اور سماجی اور تجارتی جماعتوں کے رہنماوں سے ملاقات کریں گے۔ جبکہ وفد کا سیول سوسائٹی کے ممبران سے بھی ملنے کا پروگرام ہے۔ سابق مرکزی وزیر خزانہ یشونت سنہا نے اپنے دورے کے اغراض و مقاصد سے متعلق ایک نجی نیوزچینل کوبتایاکہ بار بار کشمیر کے سیاسی، سماجی اور دیگر جماعتوں سے ملنے کا مقصد یہاں کے لوگوں کی آواز ملک کے کونے کونے تک پہنچانا ہے، تاکہ کشمیر کے لوگ جس کرب اور مشکلات سے اس وقت گزر رہے ہیں، ملک کے سبھی لوگ اس سے واقف ہوں۔حد بندی کمیشن کے دورے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں یشوونت سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہاں حد بندی کرانے کے بجائے مرکزی سرکار کو یہاں کے دیگر اہم مسائل کی طرف توجہ مرکوز کرنی چائیے تھی۔انہوں نے کہا کہ اچھا ہوتا کہ مرکزی سرکار ریاستی درجے کی بحالی کے بعد جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کراتی اور یہاں کے عوام کو درپیش مسائل و مشکلات سے کچھ حد تک باہر نکلا جاتا۔انہوں کہا کہ عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کی جانب سے ریاستی درجے کی بحالی اور پھر انتخابات کرانے کا مطالبہ حق بجانب ہے،جس پر مرکزی سرکار کو غور کرنا چائیے۔واضح رہے کہ یشونت سنہا کی سربراہی میں یہ وفد نیشنل کانفرنس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی، سی پی آئی ایم کے ریاستی صدر ایم وائی تاریگامی اور دیگر سیاسی رہنماوں سے بھی ملاقات کررہاہے۔