جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ سے ایس ایس جی سیکیورٹی واپس لیے جانے کا امکان

 
سری نگر// جموں و کشمیر کے چار سابق وزرائے اعلیٰ بشمول فاروق عبداللہ اور غلام نبی آزاد ، محبوبہ مفتی اور عمرعبداللہ سے اسپیشل سیکیورٹی گروپ (ایس ایس جی) واپس لئے جانے کا امکان ہے۔ حکام نے جمعرات کو کہا کہ یونین ٹیریٹری کی انتظامیہ نے ایلیٹ یونٹ ، جو2000میں قائم کیا گیا تھا، کو سمیٹنے کا فیصلہ لیا ہے۔
 
یہ اقدام 31مارچ 2020 کو مرکز کی طرف سے ایک گزٹ نوٹیفکیشن جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن (ایڈاپٹیشن آف سٹیٹ لاز) آرڈر، 2020جاری کرنے کے 19 ماہ بعد ہوا ہے، جس میں سابقہ اسپیشل سیکورٹی گروپ ایکٹ میں ترمیم کی گئی تھی۔ جموں وکشمیر حکومت نے سابق وزرائے اعلیٰ اور ان کے اہل خانہ کو ایس ایس جی سیکورٹی فراہم کرنے والی شق کو ختم کر دیا ہے۔
 
عہدیداروں نے کہا کہ یہ فیصلہ سیکورٹی ریویو کارڈی نیشن کمیٹی نے لیا ہے، جو جموں و کشمیر میں اہم لیڈروں کی حفاظت پر معمور ہیں۔
 
حکام نے کہا کہ ایلیٹ فورس کی تعداد کو کم سے کم کر کے ایس ایس جی کو "رائٹ سائزڈ" کیا جائے گا۔ اس کی سربراہی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے درجے سے نیچے کا افسر کرے گا جیسا کہ ڈائریکٹر کے مقابلے میں، جو انسپکٹر جنرل آف پولیس اور اس سے اوپر کا درجہ رکھتا ہے۔
 
تاہم، حکام کا کہنا کہ ایس ایس جی کے سائز کو کم کرنے پر دوبارہ غور کیا گیا ہے کیونکہ پولیس فورس کے اندر کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے ایلیٹ یونٹ کی تیاری متاثر ہو سکتی ہے۔
 
ایس ایس جی کو اب حاضر سروس وزرائے اعلیٰ اور ان کے قریبی خاندان کے افراد کی حفاظت سونپی جائے گی۔
 
اس فیصلے کے تحت فاروق عبداللہ، غلام نبی آزاد اور دو دیگر سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کی حفاظتی حصار کو ایک ایسے وقت میں واپس لیا جائے گا جب سری نگر میں متعدد عسکریت پسندانہ واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
 
بتا دیں کہ آزاد کے علاوہ یہ تمام سابق وزرائے اعلیٰ سری نگر میں مقیم ہیں۔
 
تاہم، فاروق عبداللہ اور آزاد کو نیشنل سیکیورٹی گارڈ، جنہیں بلیک کیٹ کمانڈوز بھی کہا جاتا ہے، کی حفاظت فراہم کی جاتی رہے گی۔
 
عمر عبداللہ اور محبوبہ کو جموں و کشمیر میں رہتے ہوئے زیڈ پلس سیکیورٹی کور حاصل رہے گا، لیکن امکان ہے کہ یوٹی سے باہر سیکیورٹی میں کمی واقع ہو گی۔
 
عہدیداروں نے کہا کہ لیڈروں کو ضلع پولیس کے ساتھ ساتھ سیکورٹی ونگ تشخیص کی بنیاد پر سیکورٹی فراہم کرے گا۔
 
انہوں نے کہا کہ ایس ایس جی کے کچھ اہلکاروں کو جموں اور کشمیر پولیس کے سیکورٹی ونگ کے ساتھ "قریبی حفاظتی ٹیم" کے لیے تعینات کیا جائے گا۔
 
حکام نے کہا کہ ایس ایس جی کے باقی ماندہ اہلکاروں کو دوسرے ونگز میں تعینات کیے جانے کا امکان ہے تاکہ پولیس فورس ان کی تربیت اور علم کا بہترین استعمال کر سکے۔
 
مزید کہا گیا کہ ایس ایس جی کی گاڑیاں اور دیگر آلات جموں و کشمیر پولیس کے سیکورٹی ونگ کو منتقل کیے جائیں گے۔