جموں و کشمیر میں طبی شعبے کا ایک اور سنگ میل قائم

سرینگر //مرکزی زیر انتظام جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ ڈاکٹروں نے یرقان اورلبلبہ کے کینسر میں مبتلا 50سالہ مریض کے پتہ کی سوزش اور لبلبے کے سرطان کو دور کرنے اور سٹنٹ کی تنصیب کیلئے لپراسکوپی کی مدد سے جراحی انجام دی ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے شعبہ سرجری میں ڈاکٹروں نے 7گھنٹے تک جاری رہنے والی جراحی کے دوران یرقان اور لبلبہ کے سرطان میں مبتلا مریض کی چھوٹی اور بڑی آنت، پتہ اور معادے کے ایک حصہ اور کینسر سے متاثرہ حصہ کو نکال دیا اور مریض کو سٹنٹ بھی لگایا۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں شعبہ سرجری کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر ایم آر اتری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ہارون سے تعلق رکھنے والا ایک مریض پتلی میں سوزش کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہوا اور مزید تشخیص کے دوران معلوم ہوا کہ مریض یرقان اور للبہ کے کینسرمیں بھی مبتلا  ہے ‘‘۔ڈاکٹر اتری نے بتایا کہ مریض کے لبلبے کے تینوں حصے کینسر سے متاثر ہونے لگے تھے اور اس کے لبلبے کو مزید نقصان سے بچانے کیلئے جراحی ناگزیر بن گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مریضوں کا 90فیصد لبلبہ سرطان سے متاثر ہوتا ہے اور اسکی وجہ سے ان مریضوں کے بچنے کی اُمید کافی کم ہوتی ہے۔ پروفیسر اتری نے بتایا کہ ایسے مریضوں کی جراحی کیلئے پورے پیٹ کو کھولنا پڑتا ہے لیکن جموں و کشمیر میں ہم نے پہلی مرتبہ یہ جراحی لپراسکوپی کی مدد سے انجادی۔ڈاکٹر اتری نے بتایا کہ جراحی انجام دینے کیلئے مریض کے پیٹ میں 5سراخ کئے گئے جہاں سے بیماری سے متاثرہ حصہ کو باہر نکالاگیا ۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ حصوں کو نکالنے اور اعضاء کو اپنی ہیت میں رکھنے کا کام کافی مشکل تھا ، لیکن  7گھنٹوں تک اس مشکل ترین جراحی کا عمل مکمل کیا گیا ۔ انکا کہنا تھا کہ اس ضمن میں کو یڈ ایس او پیز پر بھی عمل پیرا ہونا پڑا۔پروفیسر اتری نے بتایا کہ سرجری12روز قبل کی گئی جو کامیاب رہی ہے کیونکہ مریض اب انتہائی نگہداشت والے وارڈ سے باہر لایا گیا ہے۔جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ کی گئی انتہائی نازک جراحی میں سرجیکل یونٹ 6کے سربراہ پروفیسر اتری کے علاوہ اسسٹنٹ پروفیسر جی ایم نائیکو، سینئر ریذیڈنٹ ڈاکٹر یاسر عرفات اور ڈاکٹر توسیف ارجمند نے حصہ لیا جبکہ پوسٹ گریجویٹ طالب علم ڈاکٹر سرتاج، ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر اذان نے بھی معاونت کی۔ پروفیسر اتری نے بتایا کہ یہ ہماری دیرینہ خواہش رہی ہے کہ ہم اس طرح کے مریضوں کو اعلیٰ اور معیاری علاج معالجہ جموں و کشمیر میں ہی فراہم کریں تاکہ مریضوں کو بیرون ریاستوں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے پرنسپل جی ایم سی سرینگر ڈاکٹر سامیہ رشید ، ایچ او ڈی سرجری اور دیگر معاون ڈاکٹروں کا بھی شکریہ ادا کیا ۔