جموں و کشمیر میں دو نئے ہوائی اڈے بنائے جائیں گے: جیوتیرا دتیہ سندھیا

سرینگر //مرکزی شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر جیوتیرادتیہ سندھیا نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں دو نئے ہوائی اڈے جلد قائم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے یہ بات ضلع سرینگر کے ہارون بلاک میں ڈی ڈی سی ، بی ڈی سی ممبران ، پی آر آئی اور مقامی لوگوں کے ساتھ ایک بات چیت پروگرام کے دوران کہی ۔ ایک بڑی پیش رفت کے طور پر وزیر نے کہا کہ ایک ہوائی اڈہ ،جس کی مالیت 1500 کروڑ روپے ہے ،کشمیر میں 25 ہزار مربع میٹر پر قائم کیا جائے گا جبکہ ایک اور ہوائی اڈہ 650 کروڑ روپے کی لاگت سے 22 ہزار مربع میٹر زمین کے احاطہ پر جموں میں قائم کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ جموں و کشمیر میں ہوائی اور سڑک دونوں رابطوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ، اس لئے ایک بڑا سڑک نیٹ ورک بشمول ہائی ویز ، رنگ روڈ ، ٹنل اور دیگر منصوبے جموں کشمیر اور لداخ میں تعمیر کئے جا رہے ہیں ۔ سندھیا نے ہوائی اڈے پر ایک جائزہ میٹنگ بھی کی اور پھر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ساتھ ایک گھنٹہ تک طویل بات چیت کی جس میں ہوا بازی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر نے کہا کہ انہوں نے سنہا سے درخواست کی ہے کہ ایوی ایشن ٹربائن فیول پر VAT کو ایک فیصد تک کم کرنے پر غور کیا جائے جس سے جموں و کشمیر کی طرف مزید ایئر لائنز کو راغب کرنے میں مدد ملے گی۔سندھیا نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے 10 اکتوبر تک جموں ائیرپورٹ کی توسیع کے لیے درکار 122 ایکڑ اراضی کو ائیرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا کو منتقل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی دن فزیبلٹی اور ڈیزائن سٹڈیز شروع کی جائیں گی۔ سندھیا اور سنہا نے جموں و کشمیر میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ہیلی کاپٹر خدمات کے استعمال کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا کیونکہ یہ اتراکھنڈ جیسی ریاستوں میں کیا جاتا ہے۔سردیوں کے موسم میں ہوائی ٹکٹوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ، سندھیا نے کہا کہ وہ مبینہ کارٹیلائزیشن کی تحقیقات کریں گے۔انہوں نے مزید کہا ، "اگر کوئی کارٹیلائزیشن ہو تو ہم اسے روک دیں گے۔ اس کے علاوہ ، اس قسم کی مشق کو چیک کرنے کا بہترین طریقہ رابطہ بڑھانا ہے۔ ہم اس سمت میں اقدامات کر رہے ہیں۔وزیر موصوف نے کہا کہ سرینگر ہوائی اڈے پر بین الاقوامی فلاء آپریشن دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے کیونکہ یہاں اور شارجہ کے درمیان خدمات شروع کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔  انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرینگر ہوائی اڈے پر ٹرمینل کو 25 ہزارمربع میٹر سے بڑھا کر 63 ہزارمربع میٹر کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سرینگر سے شارجہ (متحدہ عرب امارات می)کا پہلا بین الاقوامی فلائٹ کنکشن جلد شروع کیا جائے گا۔ کوششیں جاری ہیں تاکہ بین الاقوامی مسافر براہ راست سرینگر آئیں، اور یہ نہ صرف جموں کشمیر بلکہ پورے ملک کیلئے ایک تاریخی فیصلہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جموں ائیر پورٹ پر رن وے کو 8000 فٹ تک بڑھا دیا گیا ہے اور یکم اکتوبر سے ہوائی اڈے پر پروازوں پر کوئی لوڈ جرمانہ نہیں ہوگا۔وزیر نے کہا کہ 15 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے سری نگر ہوائی اڈے پر ایک نیا کارگو ٹرمینل یکم اکتوبر کو فعال ہو جائے گا۔یہاں ہوائی اڈے پر لینڈنگ آپریشن کے معاملے پر ، انہوں نے کہا کہ شہری ہوا بازی کی وزارت اور جموں و کشمیر انتظامیہ خراب موسم کی وجہ سے پرواز کی منسوخی پر قابو پانے کے لیے CAT-II ILS سسٹم کی تنصیب کے لیے وزارت دفاع کے ساتھ بات چیت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر میں امن ، ترقی کا دور شروع ہو چکا ہے اور لداخ سمیت تینوں خطے مل کر ملک میں تعمیر و ترقی میں نمبر ون بننے کے راستے پر آ گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دیگر بڑے منصوبوں میں 3000 کروڑ روپے مالیت کے رنگ روڈ پر کام جاری ہے جبکہ 100 فیصد گھروں کو بجلی کی فراہمی اور 80فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی قیادت والی حکومت نہ صرف جموں و کشمیر میں بدعنوانی پر قابو پانے میں کامیاب رہی ہے بلکہ ان برسوں کے دوران یو ٹی میں صحت ، تعلیم اور دیگر شعبوں نے بھی ترقی کی ہے ۔شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ ایئر انڈیا کی نجکاری کا عمل جاری ہے اور اس حوالے سے بولی لگانے سے قبل بولی کے ٹیکنیکل امور کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔ تاہم انہوں نے بولی لگانے والے افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی بھی جانکاری فراہم نہیں کی ۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ تکنیکی بولیاں موصول ہوئی ہیں اور مالی بولیاں ابھی بھی لفافہ میں بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسوقت ٹیکنکیل بولیوں کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی بولیاں تبھی کھولی جائیں گی جب ٹینکیکل بولیوں کی جانچ پڑتال مکمل ہوگی۔
 

اگلے 3 برسوں میں 60 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری آئیگی : راجیو چندر شیکھر 

نیوز ڈیسک
 
بڈگام//اگلے 2 سے 3 برسوں میں جموں و کشمیرترقیاتی خوشحالی کا نیا دائرہ دیکھے گا ۔ حکومت بھارت نے صرف جموں و کشمیر میں 60 ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ،یہ رقم روز گار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے ، نوجوانوں کو مائیکرو آمدنی پیدا کرنے والے یونٹس کے قیام اور مقامی معشیت کو فروغ دینے کیلئے استعمال کی جائے گی ۔ ان باتوں کا اظہار مرکزی وزیر مملکت برائے مہارت ترقی انٹر پرنیور شپ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی مسٹر راجیو چندر شیکھر نے آئی ٹی آئی کمپلیکس وڈی پورہ بڈگام میں ان کے اعزاز میں منعقدہ کنونشن کم سیمنار میں آئی ٹی آئی اور پولی ٹیکنک طلباء کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر نے کہا کہ میں نے ذاتی طور پر دیکھا ہے کہ کشمیر کے مقامی نوجوان ہُنر اور مہارت سے بھر پور ہیں ۔ وزیر نے کہا کہ انہیں حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ، انتہائی ہُنر مند تربیت حاصل کرنے میں دلچسپی دکھائیں ، توانائی سے بھر پور رہیں کیونکہ روز گار کے مواقع دستیاب ہیں ۔ وزیر نے کہا کہ ’ ہم یہاں پیشہ وارانہ مقصد اور ڈیلیوری کے عزائم کے ساتھ آئے ہیں ، ہمارے دورے نتائج پر مبنی ہوں گے ۔ وزیر نے متعلقہ حکام کی تعریف کی کہ ہُنر مندی کی ترقی میں بہت زیادہ کام کیا گیا ہے لیکن پھر بھی اس کو مزید فروغ دینے اور آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ وزیر نے آئی ٹی آئی بڈگام کے آٹو موبائیل ٹریننگ سنٹر کا معائینہ کیا ۔ بعد میں وزیر نے کانفرنس ہال بڈگام میں بلائے گئے افسران کے اجلاس کی صدارت کی جہاں ہر شعبے کا تفصیلی جائیزہ لیا گیا ۔ ڈی سی بڈگام نے ایک پاور پوائینٹ پرذنٹیشن کے ذریعے ضلع کے اب تک کے ترقیاتی اور فلاحی منظر کو تفصیل سے پیش کیا ۔ اس موقع پر وزیر نے موبائیل ایپلی کیشن اور زوف ( ہیلتھ کئیر موبائیل ایپ ) ، میری آواز ( واٹر باڈیز کنزرویشن ) ، کووڈ کئیر سروس بڈگام اور ای سروسز پورٹل بھی لانچ کیا ۔