جموں و کشمیر میں ابتک17ادویات غیر معیاری قرار

 پرویز احمد

سرینگر //محکمہ فوڈ اینڈ ڈرگ کنٹرول آرگنائزیشن نے مالی سال-23 2022 میں وادی کے مختلف نجی اور سرکاری اسپتالوں سے اٹھائے گئے نمونوں میں سے 17ادویات کو غیر معیاری قرار دیا گیا ہے اور ان کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ستمبر 2022تک 17ادویات کو غیر معیاری قرار دیا گیا ، جن میں جموں و کشمیر میڈیکل سپلائی کارپوریشن کی جانب سے سپلائی کی گئیں 2 دوائیاں بھی شامل ہیں جبکہ دیگر 15ادویات بھارت کی مختلف ریاستوں میں قائم ادویات بنانی والی کمپنیوں نے سپلائی کی تھیں۔ آرگنائزیشن کی وئب سائٹ پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کارپوریشن کی جانب سے سپلائی کی گئی ادویات میں Compound sodium lactate، اور راجوری میں جے کے ایم ایس سی ایل کی جانب سے سپلائی کئے گئےOfloxacin opthalamic solution IP 3% کو بھی غیر معیاری قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرینگر کے پانپور سے جن اوشدھی کے folic Acid Tableta IP 5gmکو بھی غیر معیاری قرار دیا گیا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال محکمہ فوڈ اینڈ ڈرگ کنٹرول آرگنازیشن نے 68ادویات کو غیر معیاری قرار دیا تھا.۔