’جموں وکشمیر کیلئے بجٹ مایوس کن‘

 سرینگر// پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے جموں و کشمیر کے بجٹ کو معمول کی مشق قرار دیتے ہوئے سی پی آئی (ایم) نے کہاہے کہ یہ خطے کے عوام کے لئے مایوس کن ہے کیوں کہ اس میں بکھرتی معیشت کو بحال کرنے کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔ایک بیان میں سی پی آئی (ایم) نے کہاکہ بدقسمتی سے جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے یہ سب سے مایوس کن بجٹ ہے۔ بیان میں کہاگیا کہ 5اگست 2019 کو دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے بعد جموں و کشمیر کی ساری تجارت بکھری ہوئی ہے اور اسکی بحالی اور ان لوگوں کی مدد کرنے کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے جن کو بھاری نقصان ہوا۔ بیان میں کہاگیاکہ 5اگست 2019 کے بعد ، جموں و کشمیر کی معیشت عملی طور پر گر گئی ہے کیونکہ سیاحت ، تجارت اور دیگر اہم شعبے بری طرح متاثر ہوگئے اور جو لوگ پہلے ہی اپنی روزی روٹی کمارہے تھے انہیں اس سے محروم کردیا گیا۔ بیان میں کہاگیا کہ جموں و کشمیر میں بے روزگاری کی سطح انتہا کو پہنچ چکی ہے لیکن بجٹ میں اس کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے، ایک سال سے زیادہ عرصے سے روزانہ مزدوروں ، کارکنوں ، نریگا کارکنوں ، ٹھیکیداروں ، آنگن واڑی کارکنوں / مددگاروں ، آشاورکروں ، سی پی ڈبلیوز ، مڈ ڈے میل ورکروں اور دیگر طبقہ جات اجرت کی عدم ادائیگی سے بڑی تشویش میں مبتلا ہیں جسکو سرکار ایڈریس کرنے میں ناکام رہی ہے۔بیان میں کہاگیاکہ لوگوں کے روزگار کے مسائل کو بجٹ میں مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔جموں و کشمیر ایک زرعی علاقہ اور اس شعبے پر منحصر آبادی کا بڑا حصہ ہونے کے باوجود ہماری معیشت یعنی زراعت اور باغبانی کے بنیادی شعبوں کو حکومت نے بالکل نظرانداز کیا ہے، تمام فصلوں کے لئے کم سے کم امدادی قیمت کو یقینی بنانے کے لئے کاشتکاروں کو مناسب قیمت کا اجرا ان کی طویل التوا مطالبہ ہے، لیکن بجٹ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ زراعت کے بعد دستکاری کشمیر کی معیشت کا ایک اہم شعبہ ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق ، اس شعبے سے تقریبا چار لاکھ کاریگر وابستہ ہیں ، جن میں سے دو لاکھ کے قریب اس شعبہ میں رجسٹرڈ ہیں۔ لیکن بجٹ میں ان کا بھی ذکر نہیں ہے۔ یہاں تک کہ وہ زیر التوامنصوبے جو سال 2014 میں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے سے پہلے یو پی اے II  سرکارمیں شروع ہوئے تھے وہ ابھی تک نامکمل ہیں۔ بیان میں کہاگیا کہ موسم گرما میں جموں اور موسم سرما میں کشمیرمیں بجلی کا بحران ہوتا ہے بجٹ میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔ 2014 میں بی جے پی کی زیر اقتدار حکومت آنے کے بعد سے شاہراہ اور ریلوے لائن منصوبے کو ایک ترجیح دی جانی چاہئے تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں قومی شاہراہ کی حالت بد سے بدتر ہو چکی ہے۔ اس بجٹ سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ حکومت غریبوں اور مزدوروں کی حالت زار کے لئے صرف زبان چلاتی ہے۔