جموں وکشمیر میں 73برس بعد خود حکمرانی کا نفاذ

سرینگر// بی جے پی کے سینئر لیڈر اور وزیر اعظم دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ علاقائی پارٹیوں کے کھوکھلے نعروں سے دور ، جموں و کشمیر کے لوگ پہلی بار زمینی سطح پرجمہوریت میں پنچایتی راج نظام کی شکل میں 73 سال کے وقفے کے بعد حقیقی خود حکمرانی اور خود مختاری کا مزہ چکھ رہے ہیں۔  ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ پہلی بار جموں و کشمیر میں 73 سال کے وقفے کے بعد نچلی سطح پر جمہوریت کی روشنی نظر آرہی ہے۔ ان کا کہنا تھاگذشتہ 50 سالوں سے علاقائی پارٹیاں خود مختاری اور خود حکمرانی کے ڈھول پیٹ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ واحد مسئلہ 1994 میں پارلیمنٹ میں منظور کی جانے والی قرارداد ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ، پاکستان کے تحت کشمیر کا دوسرا حصہ غیر قانونی کنٹرول میں ہے اور اسے بازیاب کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر جتیندر نے کہا ، بنیادی طور پر ، وہ صرف 10 فیصد ووٹ ڈال کر انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے اپنے لئے خود مختاری اور خود حکمرانی چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات ، جس کا دوسرا مرحلہ منگل کو ہونے جا رہا ہے، بنیادی طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کا جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ نچلی سطح پر جمہوریت کے اصل معنی کو سمجھنے کا عہد ہے۔ بی جے پی  لیڈر نے کہا’’میں یہ کہوں گا کہ یہ کشمیر میں جمہوریت کی تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ انتخابات جموں و کشمیر کے لوگوں کیلئے خود احتسابی کا بھی ایک موقع ہے۔انہوں نے کہا کہ پولنگ کے پہلے مرحلے میں جہاں50 فیصد سے زیادہ ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ، جو پچھلے لوک سبھا انتخابات سے کہیں زیادہ ہے۔جتندر سنگھ نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں لوگ مایوس ہوچکے تھے اور ان کی خواہشات بھی مایوسی کا شکار ہوگئیں۔جتیندر سنگھ نے کہا کہ سیاستدان صرف 10 فیصد رائے دہی  سے کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور پارلیمنٹ میں داخل ہوئے۔ انہوں نے کہا’’آج کے انتخابات مقامی خودمختاری کے ذریعہ امنگیں بھر آنے کی کڑی ہے اور یہ لوگوں کے جوش و خروش کا عکاس ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مقامی سیاست دان جو دفعہ370 کو منسوخ کرنے پر ڈھول پیٹ رہے ہیں ، انہیں پارلیمنٹ سے استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا۔جتندر سنگھ نے کہا’’ انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا اور اسی مسئلے کے ساتھ لوگوں کے پاس کیوں واپس نہیں گئے۔ اس کے بجائے ، انہوں نے پارلیمنٹ میں بیٹھ کر لطف اندوز ہونے کا فیصلہ کیا۔
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ان ممبران پارلیمنٹ نے اس وقت خاموشی اختیار کی اور کوئی آواز نہیں اٹھائی۔اس دوران اننت ناگ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا ’ من گھڑت بیانات دیکر لوگوں کو ٹھگنے کی کوشش کی جارہی ہے ،یہ گپکار الائنس ،در اصل گفتار الائنس ہے ‘۔انہوں نے کہا ’ یہ لوگ خاند انی سیاست کو بچانے کے لئے متحدد ہوئے ہیں ،لیکن اب جموں وکشمیر میں حقیقی جمہوریت پروان چڑھ رہی ہے ‘۔فیض احمد فیض کی غزل کا یہ مصرع ’جب تخت گرآ جائیں گے، جب تاج اچھالے جائیں گے‘‘پڑھ کر ڈاکٹر سنگھ نے کہا ’ ’اب تاج اچھالے جائیں گے اور خاندانی تخت گر جائیں گے ‘ ‘۔ان کا کہناتھا کہ جموں وکشمیر میں تعمیر وترقی کا ایک نیا دور شروع ہوچکا ہے جبکہ بی جے پی واحد جماعت ہے جہاں خاندانی سیاست پر یقین نہیں رکھا جا تا  ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں قابلیت ،ذہانت اور شعور کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے ،تاہم جموں وکشمیر کی سیاست کو دو خاندانوں نے یر غمال کرکے رکھ دیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ ڈی ڈی سی انتخابات میں لوگوں کی بھاری شرکت اس بات کی عکاس ہے لوگ خاندانی سیاست سے تنگ ہوچکے ہیں اور اصل جمہوریت کیساتھ یہاں تعمیر وترقی کے خواہاں ہے اور یہ صرف صرف بھاجپا کی حکومت میں ہی ممکن ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے ۔