جموں وکشمیر میں سکولوں کو کھولنے کیلئے والدین کے بعد اب علماء بھی میدان میں آگئے

احتیاطی تدابیر کے ساتھ تعلیمی اداروں کھولنے کا مطالبہ 

عظمیٰ یاسمین
 تھنہ منڈی // سب ڈویژن تھنہ منڈی کے تمام مکاتب فکر کے علماء نے بیک آواز گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ تین برسوں سے بند پڑے تعلیمی اداروں میں از سر نو تعلیمی سرگرمیاں بحال کر کے نئی نسل کو مزید تباہی سے بچایا جائے۔علماء کرام نے کہا کہ پچھلے تین سالوں سے تعلیمی نظام درہم برہم ہے لیکن سرکار کو ٹس سے مس نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسکولوں کی مسلسل بندشوں سے بچوں کا مستقل پوری طرح سے تاریک ہو گیا ہے اور ان کی زندگیاں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں لیکن حکومت وقت توجہ نہیں دے رہی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کا مستقبل جان بوجھ کر خراب کرنے کی ناپاک کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ ملک میں بھر میں انتخابی ریلیاں و دیگر معمول کی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں، تمام شعبہائے زندگی اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں، بڑے بڑے شاپنگ مال کھلے ہیں ، دینی سیاسی اور سماجی تقریبات میں لاکھوں لوگ جمع ہو رہے ہیں ، سیر و سیاحت وغیرہ پر کوئی روک ٹوک نہیں تو پھر اسکول بند کرنے کی کیا وجہ ہے؟ ۔علماء نے کہا کہ تعلیمی سلسلہ منقطع ہونے اور تعلیمی اداروں کی مسلسل بندشوں کے بعد بچے مختلف نوعیت کی ذہنی الجھنوں میں مبتلا ہو کر منشیات و دیگر غیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کی جانب راغب ہو نا شروع ہو گئے ہیں۔مرکزی جامع مسجد تھنہ منڈی ، غوثیہ جامع مسجد تھنہ منڈی اور حنفیہ جامع مسجد تھنہ منڈی کے علاوہ دیگر تمام مساجد میں علماء نے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر تعلیمی اداروں پر لگی پابندیاں ختم کرکے تعلیمی نظام کو بحال کیا جائے ۔
 
 

سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں کو جلد کھولا جائے: مولانا سید انعام نقوی

عشرت حسین بٹ
منڈی//سرکاری و غیر سرکاری سکولوں کو جلد کھولنے کی مانگ کرتے ہوئے امام جمعہ جامعہ مسجد المصطفیٰ منڈی مولانا سید انعام علی نقوی نے کہا کہ سرکار کی جانب سے کرونا وائرس کے چلتے دو برس قبل تعلیمی اداروں کو بند کیا تھا جنہیں اب کھولنے کی ضرورت ہے۔ نماز جمعہ کے اپنے خطبے کے دوران انہوں نے سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرکار ہر طرح کی سرکاری تقاریب منعقد کر رہی ہے جن میں سینکڑوں لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے بیماری پھلنے کا خطرہ لاحق نہیں ہوتا ہے تو سکولوں کو لھولنے سے کرونا وائرس کیسے پھیل سکتا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برس سے طلباء و طالبات ذہنی بیماریوں کا شکار ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے آئین نے عوام کو اپنے ہر بات رکھنے کا حق دیا ہے اور تعلیم طلباء و طالبات کا بنیادی حق ہے جس کو کسی بھی وجہ سے چھینا نہیں جا سکتا ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی حکومت مبینہ طورپر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کو کورونا وائرس کا بہانہ کر کے تعلیم سے دوررکھنے کی کوششیں کررہی ہے ۔نقوی کا کہنا تھا کہ اسلام میں مرد اور عورت پر تعلیمی زیور سے آراستہ ہونا واجب کام ہے جس کو کرونا بیماری کی آڑ میں سرکار چھین رہی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ سرکار کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد تعلیمی اداروں کو کھول دیں تاکہ موجودہ نسلیں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکیں۔ ادھر پرائیوٹ سکول ایسوسی ایشن ضلع پونچھ کے صدر وحید بانڈے نے بھی سرکار سے تعلیمی اداروں کو جلد کھولنے کا مطالبہ کیا ہے یہاں جاری بیان میں موصوف نے کہا ہے اگر چہ ملک کی دوسری ریاستوں میں سکول کھولے گئے ہیں تو جموں و کشمیر میں کیوں نہیں کھولے جارہے ہیں جبکہ یہاں پر بھی سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں سرکار اعلی کالاسوں کو سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دے رہی ہے جو کہ نئی نسل کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ جلدازجلد سکولوں کو کھولا جائے ۔
 

 

مینڈھر میں نماز جمعہ کے دوران علماء کے خطاب 

بچوں کے مستقبل کو بچانے کیلئے عملی اقداما ت اٹھانے کی مانگ 

جاوید اقبال 
مینڈھر //مینڈھر میں نماز جمعہ کے دوران علماء نے جموں وکشمیر و مرکزی انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جلدازجلد سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم نظام کو بحال کیا جائے تاکہ طلباء کا مستقبل بچایا جا سکے ۔مرکزی جامع مسجد مینڈھر میں مولانا محمد سلطان نقشبندی نے اپنے خطاب میں کہاکہ ملک کے دیگرحصوں میں جہاں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہیں وہائیں جموں وکشمیر میں بھی سکولوں کے علاوہ لگ بھگ سبھی سرگرمیاں معمولات کے مطابق چلائی جارہی ہیں لیکن دو برسوں سے تعلیمی اداروں کو مکمل طورپر بند کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے بچوں کا نقصان ہوا ہے ۔ دانشگاہ دارالعلوم محمودیہ قاسم نگر مینڈھر کے بانی و مہتمم، سینئر نائب صدر تنظیم علماء اہلسنت والجماعت ضلع پونچھ مولانا فتح محمد نے جامع مسجد انور مینڈھر میں جمعہ کے خطاب میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے تعلیمی ادارے کھولنے کی پر زور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہم دنیاوی لحاظ سے ایک نظم و ضبط کے پابند ہیں، بغاوت ہمارا مزاج بالکل نہیں، امن و سلامتی کے ہم داعی ہیں، آزادی رائے ہمارا حق ہے، اپنی بات حکومت کے سامنے رکھنا ہمارا حق ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ بازار کھلے ہوئے ہیں، دیگر ادارے کھلے ہوئے ہیں، ملک کی بہت سی ریاستوں میں عملاً الیکشن کی گہماگہمی ہے، ائیرپورٹ، ریلوے اسٹیشن آباد ہیں لیکن تعلیمی ادارے بند ہیں۔ دو سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ ہمیں خدشہ لاحق ہے کہ خدا نخواستہ ہماری آئندہ نسلیں علم سے محروم نہ ہوجائے ۔مولانا فتح محمد نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ بچپن میں قرآنی مکاتب میں ہمیں بتایا جاتا تھا کہ ایک دن سبق کی غیر حاضری سے چالیس دن کا نقصان ہوتا ہے، اور آج ہم کہتے ہیں کہ ایک سال کا تعلیمی نقصان ایک صدی کا نقصان ہے۔ اور دو چار سال کا نقصان یہ تو آئندہ نسلوں کی علم سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے۔ مولانا نے مزید کہا کہ بازار، شراب خانے، سینما، ایرپورٹ آباد ہیں، بڑی بڑی سیاسی ریلیاں نکل رہی ہیں، وہاں ملک کی بڑی سرکاری ہستیاں بیٹھی ہوئی ہیں، ان ریلیوں میں محکمہ صحت کی ہدایات کی پابندی بھی نہیں ہوتی لیکن اس سب کے باوجود جموں وکشمیر میں تعلیمی اداروں کو بند رکھا گیا ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ جلدازجلد تعلیمی اداروں کو کھولا جائے ۔