جموں وکشمیر میں زعفران کی پیداوار میں اضافہ: تومر

نئی دہلی// مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں اور تکنیک کی بدولت زعفران کی زراعت کرنے والے کسانوں کی آمدنی دوگنی ہوگئی ہے ۔ تومر نے فکی کی جانب سے منعقدہ 10 ویں ایگرو کیمسٹری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جموں کشمیر کے زعفران پیدا کرنے والے کسانوں اور ان کی پیداوار کے داموں میں اضافہ ہوا ہے، اب زعفران کے دام 1لاکھ روپے فی کلو گرام سے بڑھکر2 لاکھ روپے فی کلو گرام ملنے لگے ہیں، ایسا وہاں زعفران پارک کے قیام، نئی تکنیک اختیار کرنے ، گریڈنگ، برانڈنگ اور پیکجنگ کرنے کے سبب ممکن ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی آمدنی دو گنی ہونے کی ایسی کئی مثالیں ہیں اور آنے والے وقت میں آمدنی دوگنی کرنے کی ہر ممکن کوششیں کی جائیں گی۔انہوں نے کہاکہ کھیت میں کیمیائی کھاد کے استعمال سے پیداوار میں کافی زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن ضرورت سے زیادہ استعمال پر پابندی ہونی چاہیے ۔ کیمیائی ، نامیاتی اور قدرتی کاشتکاری کے درمیان توازن ہونا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ اگر کوئی شخص فطرت کے خلاف جاتا ہے تو اس کے نتائج بھی اسے بھگتنا پڑتے ہیں۔ زراعت میں کیمیکلز سے یکسر دوری مناسب نہیں ہے ۔ کسانوں کو کیمیکل کے ساتھ نامیاتی کاشتکاری پر بھی زور دینا چاہیے ۔ مسٹر چند نے کہا کہ زمانہ نامیاتی کا ہے اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کیمیائی اور نامیاتی کاشتکاری ایک ساتھ کرنے پر زور دے رہی ہے ۔ میک اپ کاسمیٹکس میں بھی خواتین کیمیکلز کا کم سے کم استعمال چاہتی ہیں۔ انہوں نے کیمیکل کے مضر اثرات کو کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے جس سے اس سے وابستہ صنعتوں کو خطرہ ہو۔ انہوں نے زرعی پیداوار بڑھانے میں کیمیکلز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سبز انقلاب کے دوران جپسم کے استعمال کی وجہ سے ریگستانی زمین میں فصلوں کی اچھی پیداوار ہوئی تھی ۔ کھیتی میں کیمیائی مادوں کے بہتر نتائج کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیجوں میں کیمیکل کا استعمال اچھا ہوتا ہے ، پودوں میں بیماری نہیں لگتی اور غذائی اجزاء کا بہت اچھا فائدہ ملتا ہے ۔ کٹائی سے پہلے اور بعد میں کیمیکل کی ضرورت ہوتی ہے ۔