جموں وکشمیر میں روزگارکے ذرایع زوال پذیر: ناصروانی

سرینگر//مرکز کی طرف سے 5اگست 2019کے بعد مسلسل سخت ترین کرفیو اور بندشوں نے جموں وکشمیر کو ہر لحاظ سے پیچھے دھکیل دیا اور اس دوران یہاں بے روزگاری حد سے تجاوز کر گئی اور جو کسر باقی رہ گئی تھی اُسے کورونا وائر س کی وجہ سے لگائے گئے لاک ڈائون نے پوری کردیا اور آج حالت یہ ہے کہ یہاں کا تجارتی و کاروباری سیکٹر دم توڑنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے پارٹی ہیڈ کوارٹر پر پرائیویٹ سیکٹر کے روزگار سے محروم ہوئے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ایک وفد کیساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی دلی میں براجمان بھاجپا کی سرکار نے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کیلئے ملک بھر میں یہ جواز دیا کہ دفعہ370اور35اے جموںو کشمیر کی تعمیر و ترقی میں حائل ہے لیکن آج مرکزی حکومت کے یہ سارے فریبی اور من گھڑت دعوے سراب ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ CMIE کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق جموں وکشمیر میں گذشتہ ایک سال کے دوران بے روزگاری کی شرح16.2فیصد پہنچ گئی۔ ناصر اسلم وانی نے کہاکہ گذشتہ14ماہ سے جموں و کشمیر میں روزگار فراہم کرنے والے تمام شعبہ تنزلی کا شکار ہے اور روزگار کے ذرائع ہر دن گذرنے کے ساتھ زوال پذیر ہورہے ہیں۔