جموں وکشمیر معیشت کے6اہم ستون | مجموعی گھریلو پیداوارمیںشعبہ زراعت اورباغبانی کا حصہ 30فیصد

عظمیٰ نیوز سروس

سرینگر//مارچ2023میں مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کی جانب سے پارلیما ن میں پیش کردہ جموں وکشمیر کے سالانہ بجٹ 2023-24 میں یہ امکان ظاہرکیاگیا تھا کہ رواں مالی سال کے دوران جموں و کشمیر کی معیشت میں10 فیصد کا اضافہ متوقع ہے۔بجٹ میں کہاگیا ہے کہ جموں وکشمیرکی مجموعی گھریلو پیداواریعنیGDP 2.30 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر نے کی اُمید ہے ۔ بجٹ 2023-24میں قرض،جی ڈی پی کا تناسب49 فیصد بتایا گیا ہے، جوملک میں دوسرے سب سے زیادہ قرض،جی ڈی پی تناسب پر ہے۔سالانہ بجٹ2023-24کیلئے جی ڈی پی کی ترقی کا تخمینہ 2,30,727 کروڑ روپے لگایا گیا ہے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 10 فیصد کی ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔ بجٹ میںیہ بھی کہاگیاہے کہ مشکلات کے باوجود، جموں و کشمیر نے ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا اور آمدنی اور ترقی دونوں کے تحت اخراجات کا تیزی سے انتظام کیا۔ معیشت کے 10 فیصد کی شرح سے ترقی کی توقع ہے اور جی ایس ٹی، ایکسائز اور سٹیمپ ڈیوٹی کے تحت وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر کی پوری معیشت6اہم ستونوں پر کھڑی ہے ۔زراعت جموں اور کشمیر کی معیشت کا سب سے اہم شعبہ ہے، جو ریاست کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 20 فیصد ہے اور ریاست کی 70 فیصد آبادی کو روزگار فراہم کرتا ہے۔جموں و کشمیر کا باغبانی کا شعبہ 10000 کروڑ روپے سالانہ آمدنی پیدا کرتا ہے اور یہ جموں وکشمیرکے جی ایس ڈی پی میں 9.5 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے جبکہ شعبہ باغبانی پر7لاکھ کنبے یعنی تقریباً33لاکھ نفوس کاانحصار ہے ۔کشمیر ڈویژن نے مالی سال2022-23 کے دوران سیب اور دیگرمیوہ جات کی مجموعی پیداوار24.53 لاکھ میٹرک ٹن ریکارڈ کی تھی ۔جموں وکشمیرکی معیشت کا تیسرا ہم شعبہ یا ستون سیاحت ہے ،جس کا مجموعی گھریلو پیداوارمیں حصہ7.2فیصد بنتا ہے جبکہ ،دستکاری کا حصہ2.5فیصد،صنعتی سیکٹر26فیصد اورسروسز سیکٹرکاحصہ 36.5فیصد ہے۔