جموں وکشمیر سے جڑے مسائل کے حل میں پاکستان کا رول نہیں

 مرکزی مالی معاونت کا کبھی صحیح استعمال نہیں کیا گیا:گورنر

 
پٹنہ( بہار)//ریاستی گورنرستیہ پال ملک نے کہاہے کہ مرکز کی طرف سے ریاست جموں و کشمیر کو دی جانے والی مالی معاونت کوریاست میں قائم ہونے والی حکومتوں نے کبھی صحیح ڈھنگ سے استعمال نہیں کیابلکہ بدعنوانی اوراقرباپروری کو اتنا پروان چڑھایا کہ اب کورپشن اور اقربا پروری جموں وکشمیرمیں پائی جانے والے 2جڑواں برائیاں بن چکی ہیں ۔انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ جموں وکشمیرسے جڑے مسائل کے حل میں پاکستان کاکوئی رول نہیں ہے ،اسلئے جولوگ (حریت) پاکستان کوفریق مانتے ہیں ،اُن کیساتھ بھی تب تک کوئی مکالمہ یابات چیت نہیں ہوسکتی جب تک وہ پاکستان کاراگ الاپناترک نہ کریں ۔پٹنہ یو نیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے گورنر نے کہاکہ مرکز نے مالی معاونت میں کبھی کوئی کمی نہیں کی، بلکہ قیام امن کیلئے رقومات کی واگزاری لازمی تھی، لیکن جو لوگ اقتدار میں رہے، انہوں نے کبھی بھی صحیح کام نہیں کیا۔انکا کہنا تھا کہ مالی معاونت کرنے کے بعدمرکزکی جانب سے ریاستی حکمرانوںکوجوابدہ نہ بنائے جانے کی وجہ سے ہی فنڈس کاصحیح اندازمیں استعمال نہیں کیاگیا،اورنہ ان فنڈس کوتعمیراتی، ترقیاتی اورفلاحی مقاصدکیلئے بروئے کا ر لا یا گیا ۔ ستیہ پال ملک نے کہاکہ جموں وکشمیرمیں کورپشن کی یہ انتہاہوگئی کہ یہاں کے ادارے بھی اسکی لپیٹ میں آگئے ہیں،اورکوئی کام بناء کورپشن کے ہونامشکل تربنادیاگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ مختلف اسکیموں کی عمل آوری یادیگرمقاصدکے تحت رقومات یافنڈس فراہم کرنے کے بعدمرکزکی جانب سے ریاستی حکمرانوں سے جواب طلب نہ کرناایک وجہ رہی ہے کہ ان فنڈس کازمینی سطح پرکوئی فائدہ نہیں پہنچا۔کسی سرکاری ادارے یامحکمے کانام لئے بغیرریاستی گورنرنے حاضرین کوبتایاکہ کورپشن اوراقرباپروری دوایسی جڑواں برائیاں ہیں ،جنہوں نے جموں وکشمیرمیں انتظامی ،حکومتی ،سیاسی اورعوامی سطح پربھی منفی نقوش چھوڑے ہیں ۔ ملک نے کہاکہ مرکزکی جانب سے بطور گورنر جموں وکشمیرکی پیشکش کے وقت وہ (ملک)بڑے فکرمندتھے کیونکہ یہ ریاست سیاسی بحران کی شکاررہی ہے ۔تاہم انہوں نے کہاکہ جب مجھے لگاکہ یہ ایک چیلنج ہے تومیں نے اسکوقبول کرلیا،اوراب میں اس چیلنج کاخوشی خوشی مقابلہ کررہاہوں ۔انہوں نے ایک بار پھر جموں وکشمیرکوبھارت کاایک اٹوٹ انگ یاجزئولاینفک قراردیتے ہوئے واضح کیاکہ جموں وکشمیرسے جڑے مسائل کے حل میں پاکستان کاکوئی رول نہیں ہے ۔انہوں نے مزاحمتی گروپوں یالیڈروں کانام لئے بغیرپھریہ بات دہرائی کہ جولوگ پاکستان کوفریق سمجھتے ہیں یاکہ پاکستان کوبات چیت میں فریق مانتے ہیں ،اُن کیساتھ نہ کوئی مکالمہ ہوگا،اورنہ معاملہ سازی۔