جموں وکشمیر حکومت بڑھتی بے روزگاری کے تئیں غیر سنجیدہ:منجیت سنگھ

 جموں//اپنی پارٹی صوبائی صدر جموں اور سابقہ وزیر منجیت سنگھ نے حکومت پر جموں وکشمیر میں بڑھتی بے روزگاری کے تئیں غیرسنجیدہ روایہ اپنانے کی مذمت کی ہے۔ وجے پور میں اپنی پارٹی ورکروں کی ماہانہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایسا لگتا ہے حکومت کے پاس روزگار کا کوئی متبادل نہیں اور نہ ہی خالی آسامیاں مشتہر کی جارہی ہیں۔ بدقسمتی سے وسائل پر غیر مقامی افراد نے قبضہ جمالیا ہے ، کاروبار کو بھی جموں وکشمیر کی تاریخ میں پہلی بار خطرہ لاحق ہے۔انہوں نے کہاکہ لوگوں میں سب سے زیادہ تشویش کا باعث بڑھتی بے روزگاری ، اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہے لیکن ووٹ بنک سیاست کے لئے سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے سانبہ ضلع کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ متحدہوکر آنے والے اسمبلی انتخابات کے اندر بھاجپا کو جواب دیں۔ انہوں نے کہاکہ بھاجپا لوگوں کے جائز مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے ، صرف غیر ضڑوری معاملات کو ہوا دیکر سیاسی روٹیاں سینکی جارہی ہیں۔ اگر چہ کٹھوعہ اور سانبہ اضلاع کے اندر ہنراور غیر ہنر یافتہ نوجوانوں کو صنعتی شعبوں میں روزگار مہیا کرنے کے لئے وافر مواقع دستیاب ہیں لیکن بیرون ریاست کے لوگوں کو یہاں پر فیکٹری یونٹس اور کمپنیوں میں کام پر لگایاجارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پٹرول، ڈیزل اور ایل جی پی سمیت اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ غریب تو دور متوسط طبقہ کے لوگوں کے لئے بھی بہت ساری چیزیں خریدنا مشکل ہورہا ہے۔ منجیت سنگھ نے کہاکہ علاقائی اتحاد جموں وکشمیر میں امن وخوشحالی کے لئے ناگزیر ہے لہٰذ ا لوگوں کو اپنی پارٹی کی حمایت کرنی چاہئے۔ انہوں نے جموں ڈولپمنٹ اتھارتی پر بھی زور دیاکہ وہ لوگوں کوہراساں نہ کریں۔ انہوں نے جموں۔پٹھانکوٹ قومی شاہراہ کے کنارے لوگوں کی اراضی ہڑپ کرنے میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے رویہ کی مذمت کی اور کہاکہ لوگوں کو فی کنال بیس لاکھ معاوضہ دیاجارہا ہے جوکہ بہت کم ہے۔