جموں وکشمیر اوسط کسانوں کی گھریلو آمدنی میں تیسرے نمبر پر

 جموں//منیجنگ ڈائریکٹر آئی ایف ایف سی او کسان سندیپ ملہوترا نے سول سیکرٹریٹ میں پرنسپل سیکرٹری زرعی پیداوار اور بہبودِ کساناںنوین کمار چودھر ی سے ملاقات کی ۔ اُنہوں نے یہاں جموںوکشمیر کے کسانوں او رباغبانی ماہرین کو تکنیکی مداخلت فراہم کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔آئی ایف ایف سی او کسان ہندوستانی کسان فرٹیلائزر کو آپریٹیو لمٹیڈ ( آئی ایف ایف سی او ) کا ایک ذیلی اِدارہ ہے جو ہندوستان کا سب سے بڑا کسان کوآپریٹیو ہے۔آئی ایف ایف سی او کسان کی ٹیم نے پرنسپل سیکرٹری کو ایک تفصیلی پرزنٹیشن دی اور اَپنی مہارت میں مختلف تکنیکی مداخلتوں کی وضاحت کی۔ٹیم نے کہا کہ کس طرح تکنیکی طریقے یا ’’ ایگری ٹیکنالوجی‘‘ ،ریموٹ سنسنگ ، ہائپر سپیکٹرل امیجری ، ڈیجیٹل پروفائلنگ ، پورٹیبل سوئیل ٹیسٹنگ ٹیسٹنگ سہولیات کسی خاص کھیت اور اس کی متعلقہ فصل کے لئے اِنتہائی موزوں ہائپر شعبوں کو فروغ دینے کے لئے نبارڈ کے ساتھ شراکت داری میں بھی کام کرے گا۔ پرنسپل سیکرٹری نے آئی ایف ایف سی او کسانوں کے نمائندوں سے کہا کہ وہ ایک تفصیلی تجویز پیش کریںاور اگری ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے اور باغبانی شعبے کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیاہے۔انہوں نے مزید کہاکہ بادام ، اخروٹ ، زیتون ، ہلدی اور اَدویات کے پودوں میں سے چند دیگر فصلوں کا اِبتدائی طورپر اگری ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا جائے گا۔پرنسپل سیکرٹری نے آئی ایف ایف سی او کسان کی ٹیم سے کہا کہ نیتی آیوگ کے ایک حالیہ سروے کے مطابق جموںوکشمیر ایک برس کے اندر زراعت اور اس سے منسلک شعبوں میں مجموعی طورپر پانچویں نمبر پر آگیا ہے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ یوٹی اَب اوسط کسانوں کی گھریلو آمدنی میں تیسرے نمبر پر ہے۔اُنہوں نے کہا کہ محکمہ باغبانی نے گذشتہ برس 10لاکھ پودے لگائے ہیں اور اِس برس اس سے تین گنازیادہ پودے لگائے جانے کی اُمید ہے ۔محکمہ کا مقصد یوٹی کی کمی والے علاقوں میں ایلو ویر ا ور لیمن گر اس کی کاشت کو فروغ دینا ہے۔پرنسپل سیکرٹری نے جموں وکشمیر حکومت کی طرف سے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے چلائی جانے والی مختلف ہینڈ ہولڈنگ سکیموں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مربوط ڈیری ڈیولپمنٹ سکیم کے تحت یوٹی دودھ کی پیداوار میں 30 فیصد سرپلس بننے جارہا ہے ۔اِسی طرح پرواز کے تحت کسانوں کو ائیر کار گو پر 50فیصد سبسڈی دی جارہی ہے ۔ اِس طرح ان کی پیداوار کو شارجہ اور دبئی اور بھارت کے آٹھ بڑے شہروں میں بین الاقوامی منڈیو ں تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔میٹنگ میںموجود اَفراد میں ڈائریکٹر جنرل ہارٹیکلچر کشمیر اعجاز احمدبٹ، ایم ڈی جے اینڈ کے ایگرو اِنڈسٹریز ڈیولپمنٹ کارپوریشن ڈاکٹر ارو ن کمار منہاس ، ڈائریکٹر ہارٹیکلچر جموں رام سیواک ، ڈائریکٹر ہارٹیکلچر پی اینڈ ایم  جے اینڈ کے ویش پال مہاجن ، ڈائریکٹر زراعت جموں کے کے شرما ، ڈائریکٹر زراعت کشمیر محمد اقبال چودھری اور جنرل منیجر نبارڈ جموں بھی شامل تھے۔ایک اور میٹنگ میں ایف سی آئی کے افسران اور پرنسپل سیکرٹری کے درمیان یہ فیصلہ لیا گیا کہ منڈیوں میں ایم ایس پی پردھان کی خریداری کو اِس برس 31؍ دسمبر تک بڑھایا جائے گا۔ اَفسران کو ادائیگیوں کے مسائل کو ایک ہفتے کے اندر حل کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ۔