جموں میں91کروڑ روپے کابینک گھوٹالہ کیس دوبارہ سی بی آئی جانچ کا حکم

 عظمیٰ نیوز سروس

سرینگر// 91 کروڑ روپے کے بینک گھوٹالے معاملے میں پرنسپل سیشن جج جموں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو چالان واپس کر دیا ہے اور ساتھ ہی تحقیقات پر سنگین سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ جج نے ابتدائی جانچ میں واضح کوتاہیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سی بی آئی کو مزید تحقیقات کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ حکم جہلم انڈسٹری لمیٹڈ، اور نیو جموں فلور ملز آر سی، جہلم انفرا پروجیکٹ انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کے خلاف چارج شیٹ کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا۔ یہ فرمیں مبینہ طور پر غیر قانونی لین دین اور قرض کھاتوں سے متعلق دھوکہ دہی کی سرگرمیوں میں ملوث تھیں۔پرنسپل سیشن جج سنجے پریہار نے تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ناکافی اور گہرائی کا فقدان ہے۔

 

انہوں نے نوٹ کیا کہ تفتیشی افسر اس مبینہ اسکینڈل کے پیچھے سچائی سے پردہ اٹھانے کے لیے انکوائری کے اہم خطوط کو آگے بڑھانے میں ناکام رہا۔استغاثہ نے مدعا علیہان پر دھوکہ دہی اور جعلسازی کا الزام لگایا تھا، اور الزام لگایا تھا کہ شکایت کنندہ بینک سے نقد قرض کی سہولیات حاصل کرنے کے لیے جھوٹے دستاویزات بنائے گئے تھے۔ تاہم، عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ہینڈ رائٹنگ کے ماہر کی فرانزک رپورٹ کے منفی نتائج برآمد ہوئے، جو کہ ٹھوس شواہد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔اسکے علاوہ عدالت نے اس گھوٹالے میں ملوث بینک حکام کے کردار کی تحقیقات میں ناکام رہنے پر سی بی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ جج پریہار نے ثبوت کے من گھڑت ہونے کے کسی بھی امکان کو مسترد کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔اس پس منظر میں عدالت نے تینوں مقدمات کی مزید تحقیقات کا حکم دیا۔ چارج شیٹ قانون کے مطابق مناسب کارروائی کرنے کی ہدایات کے ساتھ سی بی آئی کی خصوصی ٹاسک برانچ (بینکنگ فراڈ ایریا)، سی بی آئی ہیڈکوارٹر، نئی دہلی کو واپس کر دی گئی۔کیس کے پس منظر میں راج کمار گپتا کے خلاف الزامات شامل ہیں، جو مبینہ طور پر ملزم کمپنیوں کے پروموٹر ہیں۔بینک کے ایک نمائندے پر الزام تھا کہ انہوں نے پنجاب اینڈ سندھ بینک سے کیش کریڈٹ کی حدیں حاصل کیں۔ اس کے بعد کی تحقیقات میں 91 کروڑ روپے کے لین دین کا انکشاف ہوا جس میں جہلم انڈسٹریز، جہلم انفرا پروجیکٹ انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، اور نیو جموں فلور ملزشامل ہیں ۔