جموں میں کی تباہی : ڈوڈہ میں سیول سوسائٹی کا شرپسند عناصرکیخلاف زبردست احتجاج

ڈوڈہ// وادی کشمیر کے لیتہ پورہ پلوامہ میں سی آر پی ایف افراد کی ہلاکتوں کے بعد حالات نے پوری ریاست خاص کر صوبہ جموںمیں ایک بار پھر تنائو پیدا کیا۔شرپسند عناصر نے وادی کشمیر ،پیر پنچال ،اور وادی چناب کی گاڑیوں کو زبردست نقصان پہنچایا۔جموں بس اسٹینڈ ، کھٹیکاں تالاب ، گوجر نگر، جانی پور، بٹھنڈی و دوسری جگہوں پر املاک اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایاگیا۔ اِن تمام معاملات کو لے کر صدر مقام ڈوڈہ میں سیول سوسائٹی ، بیوپار منڈل بار ایسوسی ایشن ممبران و عام لوگوں نے جموں میں مسلمانوں پر ہورہے ظلم و ستم اور املاک کو نقصان و کئی افراد کو زرد کوب کرکے زخمی کرنے کے خلاف ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا جس دوران ڈوڈہ کی قدیمی و سرائے عید گاہ پارک کے آس پاس کی دُوکانیں بھی بند رکھیں۔ یہ احتجاج ڈوڈہ کے اولڈ بس اسٹینڈ سے شروع ہوکر بھرت روڈ اور پھر وہاں سے واپس آکر مین روڈ اور ڈپٹی کمشنر آفس ڈوڈہ سے گزرکر گھنٹہ گھر مستقبل ایس پی آفس ڈوڈہ تک پہنچا ۔اس موقعہ پر مقررین نے گورنر انتظامیہ اور پولیس کے خلاف جم کر نعرے بازی کی ۔مقررین نے جموں کی انتظامیہ اور پولیس پر سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ جموں میں صرف مسلمانوں کی شدید مار پیٹ کرنا ،املاک کو نقصان پہنچانا ،ان کی گاڑیوں کو نذر آتش کرنا ،ڈرانا اور دھمکانا یہ کہاں کا اصول اور ضوابط ہے۔انہوں نے کہا کہ خرمن امن کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ،یہی شر پسند لوگ فرقوں کے درمیان نفرت کی دیوار حائل کرتے ہیں۔عادل احمد گاٹھوان ،سلیم اختر وانی،شاداب سہروردی اور مدثر فاروق اور ایڈووکیٹ سید عاصم ہاشمی نے اپنی تقریر میں کہا کہ گورنر انتظامیہ اور پولیس حکام پوری طرح ناکام ہوچکی ہے،جموں میں مسلمانوں کو دھمکانا اور ان سے ناوراسلوک رکھنے کا کیا مقصد ہے اورپولیس کیوں خاموش تماشائی بنی رہی ۔ان کاکہناتھاکہ پولیس نے ان شر پسندعناصر کو کیوں نہیں روکا گیااورجموںکی انتظامیہ نے فوراً کرفیو نہیں لگایا ۔عاصم نے کہا کہ اگر ان عناصر کو پولیس کی پشت پناہی حاصل ہے تو ریاست میں حالات خراب ہوتے ہیں یا تنائو رہتا ہے تو یہ نا اہلی ہو گی اور گورنر اور انتظامیہ ہی اس کی ذمہ دار ہے۔ان کا مطالبہ تھا کہ جن لوگوں نے مسلمانوں کے ساتھ ایسا کیا ایک تو ان شر پسندعناصر کے خلاف ایف آئی آر اور سخت قانونی کارروائی کی جائے جبکہ جن افراد کی گاڑیوں یا دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے ان کو معقول معاوضہ فراہم کیا جائے ۔بعد میں یہ احتجاجی مظاہرہ پر امن طور سے اختتام پذیر ہوا ۔