جموں میں پرائمری سطح سکول بھی کھل گئے،طلباء کی کم حاضری

جموں//جموں بھر کے سکولوں کو 2 سال کی بندش کے بعد آف لائن کلاسوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے حالانکہ پہلے روز زیادہ تر تعلیمی اداروں میں طلبہ کی موجودگی بہت کم رہی۔عہدیداروں نے کہا کہ پرائمری سطح کی کلاسوں کے طلباء والدین کے کچھ تحفظات کے بعد تعداد میں کم آئے۔ایک عہدیدار نے بتایا کہ کچھ پرائیویٹ سکولوں نے نوٹیفکیشن جاری کر کے اپنے پرائمری سطح کے طلباء کو کل سے کلاسز میں شرکت کے لیے کہا ہے اور ان کے امتحانات بھی آف لائن موڈ کے ذریعے لیے جائیں گے۔ایک ماں نے اطلاع کے جواب میں ردعمل کا اظہار کیا"ہمیں کہا گیا ہے کہ کل سے اپنے بچوں کو موسم گرما کے یونیفارم میں جسمانی طور پر کلاسوں میں شرکت کے لیے بھیجیں۔ وہ آف لائن کلاس لینے جا رہے ہیں" ۔انہوںنے کہا "میرا بچہ نابالغ ہے اور جسمانی کلاسوں میں شرکت سے اس کی جان کو کوویڈ 19 کی وجہ سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے حالانکہ کیس کم ہو چکے ہیں"۔انہوں نے موسم گرما کے یونیفارم پہننے کی سخت ہدایات پر بھی ناراضگی ظاہر کی کیونکہ سکولوں نے والدین کو یونیفارم کا بندوبست کرنے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا۔ادھم پور کے گاؤں کے ایک سرکاری سکول کے استاد نے بتایا کہ "صرف 3 طلباء پرائمری سکول میں پڑھنے آئے تھے۔ ان میں سے دو کو کھانسی تھی۔ میں نے دونوں کو ان کے گھر بھیجا ہے اور والدین کو مطلع کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کا ڈاکٹر سے معائنہ کرائیں‘‘۔انہوںنے مزید کہا"حکومت کی ہدایات کے باوجود طلباء نہیں آرہے ہیں۔ تاہم ہم باقاعدگی سے سکول جا رہے ہیں‘‘۔دریں اثنا ادھم پور کے ایک پرائیویٹ اسکول کے پرنسپل شکتی شرما نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو بھیجنے کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ نابالغ بچوں کو ٹیکہ نہیں لگایا گیا ہے۔جموں ضلع کے ایک معروف اسکول کے انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے کہا "اس معاملے پر انتظامیہ کی طرف سے ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ آیا پرائمری سکول کے طلباء کو کلاسوں میں شرکت کے لیے کہا جائے یا نہیں۔ تاہم9ویں، 10ویں، 11ویں اور 12ویں جماعت کے طلباء سکولوں کے دوبارہ کھلنے کے بعد سے اپنی کلاسوں میں جا رہے ہیں‘‘۔ایک اور معروف سکول نے والدین کو واٹس ایپ کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ ان کا سکول آف لائن امتحانات نہیں منعقد کرے گا اور طلباء اگلے سیشن میں آف لائن کلاسز میں شرکت کریں گے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ محکمہ صحت اور سکول انتظامیہ نے سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر قائم کیا ہے تاکہ تعلیمی اداروں کے کھلتے ہی کوویڈ کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔محکمہ صحت کے ایک عہدیدار نے مزید کہا’’سکولوں میں کوئی علامات پائے جانے کی صورت میں سکول انتظامیہ ہسپتالوں کو آگاہ کریں گے اور اس کے مطابق ہسپتال فوری کارروائی کریں گے"۔