جموں میں پارہ 44ڈگری

جموں //جموں میں گرمی کی شدت میں دن بدن اضافہ ہورہاہے اور جمعہ کادن رواں موسم کا سب سے گرم دن ثابت ہواجس دوران پارہ44.1ڈگری سیلشس ریکارڈ کیاگیا جو معمول سے 6ڈگری سیلشس زیادہ ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق جموں میں جمعہ کا دن رواں موسم کا سب سے زیادہ گرم دن رہا جبکہ اس سے قبل جمعرات کو درجہ حرارت 43ڈگری سیلشس رہا ۔محکمہ کے مطابق اتوار تک گرمی کی شدت سے راحت کاکوئی امکان نہیں ہے ۔محکمہ کے ایک افسر نے بتایاکہ جموں کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت مزید بڑھے گا اور یہ 45ڈگری سیلشس تک جاسکتاہے ۔ریاست میں محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سونم لوٹس نے شدت کی گرمی میں لوگوں کواحتیاط برتنے کی اپیل کی ہے ۔انہوں نے اپنے ٹوئٹر کے صفحہ پر لکھاکہ جموں میں درجہ حرارت 43.6ڈگری سیلشس کو چھورہاہے اور اگلے دو تین دنوں میں یہ 45ڈگری تک جانے کا امکان ہے جو ہر سال جاتاہے جبکہ 1984اور1988میں درجہ حرارت 47ڈگری سیلشس تک بھی جاچکاہے ۔دریں اثناء جموں کے بیشتر علاقوں میں جھلسادینے والی گرمی کے بیچ محکمہ بجلی کی طرف سے بجلی کٹوتی کی جانے لگی ہے جس سے عوام کی مشکلات اور بھی بڑھ گئی ہیں ۔اس دوران چیف انجینئر الیکٹریکل مینٹننس و رورل الیکٹریفیکیشن ونگ جموں سدھیر گپتا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اہم اوقات میں بھاری الیکٹرانک اشیاء کا استعمال کرنے سے گریز کریں ۔انہوں نے بتایاکہ شدت کی گرمی کی وجہ سے جموں میں بجلی کی طلب میں اضافہ ہواہے اور شام 6بجے سے لیکررات 11بجے تک بجلی کا زیادہ استعمال ہورہاہے ۔انہوں نے عام لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس دورانیہ میں بجلی کا کم سے کم استعمال کرنے کی کوشش کریں ۔انہوں نے یہ اپیل بھی کی کہ ہیٹر ، مائیکرو ویو ککر ، واٹر پمپ ، آئرن ، واشنگ مشین و دیگر استعمال کی الیکٹرانک اشیاء کو بھی ان اوقات میں بند رکھاجائے ۔ان کاکہناتھاکہ اگر بجلی پر آئندہ دنوں اسی طرح سے بوجھ رہا تو میٹروالے علاقوں میں ایک گھنٹے کی کٹوتی کرناپڑے گی جبکہ غیر میٹر والے علاقوں میں معمول کے مطابق 7گھنٹے بجلی کٹوتی رہے گی ۔انہوں نے مزید بتایاکہ شام آٹھ بجے سے رات ایک بجے تک صنعتی یونٹوں کو بھی سپلائی بند رہے گی ۔