جموں میں مہاراجہ ہری سنگھ کے یوم پیدائش پر ریلی کااہتمام، ہتھیاروں کی کھلم کھلا نمائش

جموں// جموں میںریاست کے سابق مہاراجہ ہری سنگھ کے 124ویں یوم پیدائش کے موقعہ پر نکالی گئی ریلیوں میں تلواروں ، بندوقوں اور پستولوں کا کھلم کھلا مظاہرہ کیا گیا۔ اگر چہ صوبہ بھر میں متعدد مقامات پرسابق مہاراجہ کے یوم پیدائش کے سلسلہ میں کئی تقاریب کا اہتمام کیا گیا تھا تا ہم شہر میں دو بڑی ریلیاں نکالی گئیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ یوا راجپوت سبھا کی جانب سے نکالی گئی ریلی میں نوجوان ہاتھوں میں تلواریں، بارہ بور بندوقیں اور پستول لہراتے ہوئے نظر آئے ۔اطلاعات کے مطابق ہوا میں کئی فائر بھی کئے گئے تاہم ان خبروں کی تصدیق نہیں ہو سکی ۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ امب پھلا چوک، ڈوگرہ چوک اور توی کراسنگ پر آواز یںسنی گئیں تاہم وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ بندوق کا فائر تھا،یا پٹاخے تھے۔ دوسری ریلی بی جے پی ایم ایل اے لال سنگھ کی قیادت والی ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن کے پرچم تلے نکالی گئی جو لکھنپور سے شروع ہو کر شہر کے مین بازاروں سے گزرتی ہوئی ہری پیلس میں اختتام پذیر ہوئی ۔ اپنے خطاب میں لال سنگھ نے کہا کہ ’جموں نے 1931میں ہری سنگھ کی طرف سے لندن میں منعقدہ رائونڈ ٹیبل کانفرنس میں اختیار کئے گئے موقف کی بھاری قیمت ادا کی ہے‘۔ لال سنگھ نے دعویٰ کیا کہ ہری سنگھ نے اس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’میں ہندوستانی پہلے اور مہاراجہ بعد میں ہوں ‘ اور اس کے اس  بیان سے مشتعل برطانوی حکمرانوں نے مہاراجہ کیخلاف سازش رچی۔لال سنگھ نے کہا کہ ہم ہندوستان کی حمایت کرنے کی آج بھی قیمت چکا رہے ہیں ۔ لال سنگھ نے جموں کے ساتھ امتیاز کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اب ڈوگرے بیدار ہو گئے ہیں اور اگر ان کے ساتھ نا انصافیوں کا سلسلہ جاری رہا تو وہ اپنے حق کو چھین کر حاصل کریں گے۔ لال سنگھ نے کہا کہ ’ہم ڈوگرے جانتے ہیں کہ ریاست کیسے تشکیل دی جاتی ہے اور اسے کیسے چلایا جاتا ہے ‘۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ ذات پات اور برادری کے اختلافات سے بالا تر متحد ہو کر اپنی بقاء کیلئے طویل جنگ لڑنے کے لئے تیار ہو جائیں ۔