جموں میں فرضی انشورنس دعویٰ کیس عدالت نے 2ملزمان کو مجرم قرار دیا

 عظمیٰ نیوز سروس

سرینگر //سی بی آئی جموں کے خصوصی جج نے پیر کو دو ملزمین بشمول اورینٹل انشورنس کمپنی کے پینل کے ایک تفتیش کار اور ایک دعویدار کو جعلی انشورنس دعوئوں سے متعلق ایک کیس میں مجرم قرار دیا۔ایک بیان کے مطابق، سی بی آئی نے 2007 میں ملزمان کے خلاف ان الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا کہ ان افراد نے1997-98 کے دوران ایک دوسرے کے ساتھ سازش رچی اور، سرینگر میں واقع مکانات آگ میں جل کر خاکستر ہونے کے لیے جعلی انشورنس دعوے پیش کیے۔بیان میں مزید الزام لگایا گیا کہ ملزم نے انشورنس کمپنی یعنی اورینٹل انشورنس کمپنی لمیٹڈ سے 9,52,913 روپے کا ناجائز دعوی حاصل کیا، حالانکہ جموں و کشمیر کے آتشزدگی کے ایمرجنسی سروسز کمانڈ، سرینگر ریکارڈ کے مطابق متعلقہ مدت کے دوران آتشزدگی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔”تفتیش مکمل ہونے کے بعد، چارج شیٹ 2009 میں داخل کی گئی تھی۔ ستیش چندر وسوری کی رہائشی عمارت کے سلسلے میں جھوٹے دعوے کے سلسلے میں چارج شیٹ، ملزم سبھاش صراف، راج ناتھ ٹکو، تفتیش کار،ستیش چندر وسوری دعویدار اور بدری ناتھ کول، ڈیولپمنٹ آفیسر، اورینٹل انشورنس کمپنی سرویئر کے خلاف 2009 میں دائر کی گئی تھی۔اس میں مزید کہا گیا کہ تمام ملزمان کے خلاف 2010 میں الزامات عائد کیے گئے تھے۔ “ملزم سبھاش صراف، سرویئر اور بدری ناتھ کول، ڈیولپمنٹ آفیسر، مقدمے کی سماعت کے دوران فوت ہوئے ، اس لیے ان کے خلاف الزامات ختم کئے گئے۔”بیان میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے بعد، عدالت نے ملزم آر این ٹکو، تفتیش کار اور ستیش چندر وسوری، دعویدار، کو قصوروار ٹھہرایا۔ “سی بی آئی نے الزامات کی حمایت میں 32 گواہوں اور 97 دستاویزات کی جانچ کی جو عدالت میں ٹرائل کے امتحان میں کھڑے تھے۔ سزا کی مقدار کل سنائی جائے گی،”