جموں میں خانہ بدوشوں کا احتجاج | جموں سے کشمیرآنے کیلئے مائیگریشن کی اجازت دینے کا مطالبہ

 سرینگر//جموں کے خانہ بدوشوں نے ڈپٹی کمشنر جموں کے دفتر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے یہ مانگ کی کہ انہیں جموں سے کشمیر روائتی مائیگریشن کرنے کی اجازت فراہم کی جائے ۔کشمیر نیو زسروس( کے این ایس) کے مطابق جموں کے ضلع ترقیاتی کمشنر دفتر کے باہر خانہ بدوش گوجر بکروالوںنے جمعہ کے روزاپنے مطالبات کو لے کر احتجاج کیا ۔احتجاج میں شامل لوگوں نے بتایا کہ طبقہ سے وابستہ افراد پچھلے کئی دنوں سے کشمیر جانے کے لیے اجازت نامہ حاصل کرنے کے غرض سے ضلع ترقیاتی کمشنر جموں کے دفتر آتے ہیں ،تاہم انہیں شام کو خالی ہاتھ واپس گھر جانا پڑتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ رمضان کا مہینہ چل رہا ہے۔ ہم روزے سے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود دن بھر ڈی سی آفس کے چکر لگانے پڑتے ہیں لیکن ہمیں کشمیر جانے کے لیے اجازت نامہ نہیں دیا جاتا ہے۔کشمیر جانے کی اجازت نہ ملنے پر گوجر بکروالوں نے کہا کہ انہوں نے کشمیر جانے کی پوری تیاری کی ہے اور ٹرک ڈرائیوروں کو بھی کرایہ دیا ہے تاکہ ہم اپنے ساتھ مویشی لے جائیں۔انہوں نے ڈی سی جموں سے اپیل کی کہ ان کا مسئلہ جلد از جلد حل کر کے عید سے قبل مائیگریشن کی اجازت دی جائے۔اس احتجاج میں شامل لوگوں نے بتایا گاڑیوں میں مال بھرا ہوا ہے جو کھڑے ہیں جس کی وجہ سے انہیں کافی نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔واضح رہے کہ کشمیر صوبہ کے خانہ بدوش سردیوں میں جموں کا رخ کرتے ہیں اور گرمیوں کے موسم میں کشمیر واپس روانہ ہو کر یہاں کے پہاڑوں پر زندگیاں بسر کرتے ہیں ، لیکن سرکاری حکمنامہ کے تحت انہیں قومی شاہراہ پر چلنے کی اجازت ہونا چاہئے، ہر سال گوجر بکروال طبقے کو ضلع ترقیاتی کمشنر کے دفاتر سے اجازت حاصل کرنا پڑتا ہے۔