جموں میں حد بندی کمیشن کیخلاف کانگریس کا احتجاج

سرینگر//جموں میں کانگریس پارٹی نے حد بندی کمیشن کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ کمیشن عوامی تجاویز پر توجہ نہیں دے رہا ہیں ۔ اس احتجاجی مظاہرے کی قیادت ریاستی صدر غلام احمد میر کررہے تھے ۔احتجاجیوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں ریاست کے لوگوں کی شناخت میں جو کچھ رہ گیا تھا، اسے بھی ختم کیا جا رہا ہے۔سی این آئی کے مطابق حد بندی کمیشن جو کہ اس وقت جموں کشمیر کے دورہ پر ہے اور آج جموں میں قیام پذیر ہیں، کے خلاف کانگریس نے جموں میں احتجاج کیا ۔ اس ضمن میں ریاستی کانگریس صدر غلام احمد میر نے کہا کہ کمیشن عوام کی تجاویز کو ترجیح نہیں دے رہا ہے۔ اس رپورٹ کو لے کر لوگوں میں بے اطمینانی پائی جاتی ہے جس پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔حد بندی کمیشن کی سات رکنی ٹیم نے جسٹس (ریٹائرڈ) رنجنا پرکاش دیسائی کی سربراہی میں جموں کنونشن سینٹر میں عوامی سماعت کی۔ اس دوران کانگریس نے حد بندی کمیشن کی مسودہ رپورٹ کے خلاف شہر کے شہیدی چوک پر احتجاجی دھرنا دیا۔ کانگریس نے پوسٹروں کے ذریعے حد بندی کمیشن کو 'تناؤ کمیشن' اور 'آئی واش کمیشن' کہا۔کانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر، جو احتجاج کی قیادت کررہے تھے ،نے کہا کہ کمیشن لوگوں کی تجاویز کو ترجیح نہیں دے رہا ہے۔ اس رپورٹ کو لے کر لوگوں میں بے اطمینانی پائی جاتی ہے جس پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ اس میں نہ تو علاقے کا جغرافیائی محل وقوع دیکھا گیا ہے اور نہ ہی اہل علاقہ کی رائے لی گئی ہے۔ رپورٹ سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ جن لوگوں نے رپورٹ تیار کی ہے، ان کے پاس جغرافیائی محل وقوع کے بارے میں واضح معلومات نہیں ہیں۔ کمیشن کو رپورٹ تیار کرنے میں دو سال سے زیادہ کا عرصہ لگا۔ اس رپورٹ میں ریاست کے لوگوں کی شناخت میں جو کچھ رہ گیا تھا، اسے بھی ختم کیا جا رہا ہے۔غلام احمد میر نے کہا کہ آج جموں ڈویژن کے لوگوں کو اپنے خیالات کے اظہار کے لیے دو گھنٹے کا وقت دیا گیا۔ کیا اتنے کم وقت میں تمام لوگوں کے مسائل سننا ممکن ہے؟ اس نے کہا کہ یہ ایک قسم کا مذاق تھا۔ کمیشن کو دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی وقت دینا چاہیے تھا جو اس کمیشن کی رکن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آخر کمیشن کو وہی کرنا ہے جو بی جے پی لیڈر کہیں گے۔