جموں میں اپنی پارٹی وفد حد بندی کمیشن سے ملاقی

جموں//اپنی پارٹی لیڈران کے ایک وفد نے نائب صدر چوہدری ذوالفقار علی کی قیادت میں کل یہاں شام کو سرمائی راجدھانی جموں کے ایک نجی ہوٹل میں جسٹس (ریٹائرڈ)رنجنا دیسائی کیس ربراہی والی حدبندی کمیشن سے ملاقات کی۔ وفد میں جنرل سیکریٹری وکرم ملہوترہ، صوبائی صدر جموں منجیت سنگھ، نائب صدر جموں صوبہ سید اصغر علی اور سابقہ ایم ایل اے حاجی ممتاز احمد خان شامل تھے۔ انہوں نے ایک تفصیلی میمورنڈم بھی کمیشن کو پیش کیا جس میں اِس بات پرزور دیاگیاکہ یوٹی جموں میں وکشمیر میں بلا تاخیر سیاسی عمل شروع کیاجائے اور انتخابات کرائے جائیں۔ سال2018سے یہاں پر لوگوں کو اپنے حق رائے دہی سے محروم رکھاگیاہے جوکہ ہندوستانی جمہوریت پر بدنما داغ ہے۔ وفد نے کمیشن ممبران کو بتایا’’جموں وکشمیر کو بیروکریٹس اور بیروکریسی چلارہی ہے۔ بیروکریسی شائید اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر بھی رہی ہو لیکن یہ جمہوریت کا متبادل نہیں ہوسکتی‘‘۔ وفد نے مزید کہاکہ سابقہ ریاست کی اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے عمل میں تیزی لائی جائے اور اِس میں زیادہ سے زیادہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ صلاح ومشورہ کیاجائے۔ حلقوں کی حد بندی سے متعلق حتمی فیصلہ لینے سے قبل کمیشن دور دراز علاقوں، تحصیل صدور مقامات اور ضلع صدور مقامات کا دورہ کیاجائے تاکہ ٹوپوگرافی، جغرافیائی حدو حال اور آبادی کا پتہ چل سکے ۔ وفد نے کہاکہ یہ ضرور ی ہے کہ دور دراز علاقہ جات پیر پنجال (راجوری پونچھ)، رام بن، ریاسی، رام نگر، اودھمپور اور کٹھوعہ ضلع کے بنی، بلاور ، بسوہلی اور صوبہ کشمیر کے دیگر دور دراز علاقہ جات کا دورہ کیاجائے۔ انہوں نے حدبندی کمیشن پر تنظیم نو قانون2019کے منڈیٹ کے مطابق آباد ی کے مطابق نشستیں بڑھانے پرزور دیا ۔انہوں نے کہاکہ اسمبلی حلقوں کی سرنو حدبندی کے لئے ضلع کو انتظامی یونٹ منایاجائے اورجہاں پر کہیں پیچیدگی کا مجبوری ہے تو کم سے کم یونٹ پٹوار سرکل ہونا چاہئے ۔وفد نے پیر پنجال خطہ کو اعلیحدہ پارلیمانی نشست دینے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ سرحد ی اضلاع پونچھ وراجوری کی کل آبادی10لاکھ ہے اور جموں سانبہ ضلع کی 18.5لاکھ آبادی۔ وفد نے کمیشن سے اسمبلی حلقوں کی سرنو حد بندی عمل میں تیزی لانے کی گذارش کی۔ اپنی پارٹی ممبران نے کمیشن سے کہاکہ لارڈ ہیوارڈ نے 1924میں مشہور بات کہی تھی کہ انصاف کا مطلب صرف یہ نہیں کہ انصاف کیاجائے بلکہ یہ دیکھنا بھی چاہئے۔ انصاف میں تاخیر بھی نا انصافی کے مترادف ہے، لہٰذا صاف وشفاف اور غیر جانبدار طریقہ سے حد بندی عمل مکمل کیاجائے۔ وفد نے یہ بھی بتایاکہ آخری مرتبہ 2019میں الیکشن کمیشن نے جموں وکشمیر کا لوک سبھا انتخابات سے قبل دورہ کیاتھا۔ اُس وقت بھی سبھی سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور گذارش کی تھی کہ لوک سبھا انتخابات کرائے جائیں مگر اُن کی بات نظر انداز کر دی گئی بعدا زاں جموں وکشمیر یونین ٹیراٹری میں اسمبلی انتخابات کو چھوڑ کر باقی سارے الیکشن کروائے گئے۔ کمیشن نے یقین دلایاکہ اُن کی تجاویز پر غور کیاجائے گا۔