جموں میں آگ کی ہولناک واردات

۔ 13بری طرح زخمی،دکان میں شعلے بھڑک اُٹھے، پھر سلنڈر دھماکے ہوئے

 
جموں// جموں کے ریذیڈنسی روڈ پر ڈاک بنگلو کے قریب ایک سکریپ کی دکان میں پیر کی شام آگ لگنے سے ایک خاتون اور ایک بچے سمیت کم از کم 4 افراد زندہ جل گئے اور 13دیگر زخمی ہو گئے۔جی ایم سی جموں کے حکام نے بتایا کہ انہیں چار لاشیں ملیں جن میں ایک خاتون اور ایک نابالغ بچے کی لاشیں شامل ہیں۔سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس جموں، چندن کوہلی نے بتایا کہ "جموں کے ریذیڈنسی روڈ علاقے میں واقع ایک سکریپ کی دکان میں آگ بجلی کی تاروں میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی۔ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ کا یہی شبہ ہے۔ایس ایس پی نے کہا کہ آگ نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور مزید کہا کہ دکان کے اندر پڑے چند ایل پی جی سلنڈر پھٹ گئے جس سے آگ مزید بڑھ گئی۔انہوں نے کہا، "اس واقعے میں 15 افراد زخمی ہوئے اور ان سبھی کو مقامی لوگوں کی مدد سے پولیس، فائر اور ہنگامی خدمات کی بھرپور کوششوں سے جائے وقوعہ سے نکال لیا ۔انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو علاج کے لیے جی ایم سی جموںمنتقل کیا گیا۔  جی ایم سی جموں عہدیداروں نے بتایا کہ "4 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے  اور ان کی شناخت ہونا باقی ہے۔ مرنے والوں میں ایک خاتون، ایک بچہ اور دو مرد شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے 13 زخمیوں کو داخل کرایا ۔ ان کی شناخت مرجمہ خاتون (23)، انور حسین (35)، 53 سالہ نامعلوم شخص، مومنہ خاتون (25)، منار الحسین (3 سال سے زائد کا لڑکاولد مہجو دین کے طور پر ہوئی ہے۔ 7 سالہ لڑکی آسام کے رہنے والے اسرار الاسلام (19) ولد انور حسین ساکن آسام، انکو رام (53) عرف انتو ولد کرشن لال ساکن گولے گجرال جموں۔ پپو (45) ولد بابو لال ساکن بہار موجودہ بھگوتی نگر، نیلما (35) مہجو دین (25) ولد انور حسین، سکتم (25) بیوی زہر اللہ، سیمیرینیسا (30) بیوی۔ اشوب، رہائشی اور سوزو بانو 4 سالہ ولد اشوب، آسام کے رہنے والے ہیں۔"مرنے والے افراد کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ خاتون اپنے بچے کو پکڑے ہوئے تھی جب دونوں اس افسوسناک واقعے میں زندہ جل گئے۔