جموں میں احتجاج اور دھرنوں سے دربار کا استقبال

جموں //سیول سیکرٹریت کے جموں میں کام کاج شروع ہو تے ہی متعدد تنظیموں نے اپنی مانگوں پر احتجاج کیا ۔تاہم ان تنظیموں کی جانب سے دی گئی سیکرٹریٹ چلو کال کو پولیس نے ناکام بنا دیا ۔سرمائی راجدھانی میں دربار کھلنے کے پہلے دن نان گزیٹیڈ پولیس پریزنرز ویلفیئر فورم ،آل جموں وکشمیر ایس آر ٹی سی ایمپلائز ایسوسی ایشن اور جموں و کشمیر خدمت سنٹر ایسوسی ایشن نے ا پنی مانگوں پر احتجاج کرتے ہوئے سیول سیکرٹریٹ کی جانب مارچ شروع کیا لیکن پولیس نے اندرا چوک میں مظاہرین کے  سیکرٹریٹ مارچ کو ناکام بنادیا ۔مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت مخالف نعرے اور ملازمین کی مانگوں کو تحریر کیا ہواتھا ۔ مظاہرین کی جانب سے سیول سیکرٹریٹ کی جانب مارچ کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا تھا جس نے مظاہرین کے مارچ کو روک دیا ۔ایس آر ٹی سی ایسوسی ایشن کے لیڈران نے ریاستی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ان کی مانگوں کو پورا نہیں کیا جارہاہے جس کی وجہ سے ملازمین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔نان گزیٹیڈ پولیس پریزنرز ویلفیئر فورم کے لیڈروں نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ نے ان کی مانگوںکو حل کرنے کیلئے کئی کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں لائی لیکن ان کی مانگوں کو ابھی تک حل نہیں کیا گیا ۔فورم ممبران نے کہاکہ قاعدہ کے تحت جو ملازمین اپنی ملازمت کی 10سالہ مدت پوری کر چکے ہیں ان کو ترقی دی جاتی ہے لیکن مذکورہ محکمہ میں ملازمین کو 18سے 20سال کا عرصہ ہو چکا ہے ان کو ابھی تک محکمانہ ترقی نہیں دی گئی ہے اور اس طرح کی نا انصافی کو کبھی بھی برداشت نہیں کیا جائے گا ۔اسی طرح جموں وکشمیر خدمت سنٹروں میں تعینات رضاکاروں اور ایسوسی ایشن کے لیڈران نے احتجاج کے دوران کہاکہ حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے 1300سے زائد تربیت یافتہ اراکین کیساتھ نا انصافی کی جارہی ہے ۔دوسری جانب ایس ایس اے اور رہبر تعلیم ٹیچرز فورم نے پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنے کے دوران کہاکہ ن کی تنخواہ کافی عرصہ سے وگزار نہیں کی گئی ۔مظاہرین نے کہاکہ گزشتہ ماہ کی گئی ہڑتال کے دوران ریاستی انتظامیہ نے ان کی تمام مانگوں کو پورا کرنے کیساتھ ساتھ ساتویں پے کمیشن کو لاگو کر نے کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن ابھی تک کسی بھی مانگ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ ساتویں پے کمیشن اور تنخواہ کو جلداز جلد وگزار کیا جائے ۔وہیں محکمہ بجلی میں تعینات عارضی ملازمین نے چیف انجینئر کے دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے اپنی تنخواہ کی وگزاری کی مانگ کی ۔مظاہرین نے ریاستی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ گزشتہ کئی ماہ سے ان کو تنخواہ نہیں دی گئی ہے جس کی وجہ سے ملازمین کی مشکلات میں لگا تار اضافہ ہو تا جارہا ہے ۔