جموں میںبڑھتی گرمی میں اضافے کا رجحان مسلسل جاری ،دن میں باہر نکلنا مشکل | شہر میں گرمی سے کارو باری سرگرمیاں بھی متاثر لوگوں کی راحت کیلئے جے پی ڈی سی ایل کا اضافی 200 میگاواٹ بجلی خریدنے کا عمل مکمل:حکام

یٰسین جنجوعہ

جموں //جموں خطے میں گزشتہ کچھ دنوں سے چل رہی شدید گرمی کی لہر مسلسل جاری ہے جبکہ روزانہ درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے عام زندگی کیساتھ ساتھ جموں شہر میں کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہونا شروع ہو گئی ہیں ۔خطہ میں گزشتہ کچھ دنوں سے درجہ حرارت 40ڈگری سے بھی زیادہ ریکارڈ کیاجارہا ہے جس سے خطے میں چلچلاتی گرمی سے کوئی راحت نہیں مل رہی ہے حالانکہ جمعہ کی شام جموں میں موسم نے کچھ دیر کیلئے کروٹ لی تھی جس کے دوران ہلکی بوندھ باندھی بھی ہوئی تاہم بارش نہیں ہو لیکن اس کے بعد سے گرمی کا حال جوں کا توں ہی رہا جبکہ محکمہ موسمیات نے خطہ میں 27 مئی تک موسم کی کوئی خاص سرگرمی نہ ہونے کی پیش گوئی کی ہے، جموں میں گزشتہ دو دنوں سے پارے نے اپنا اوپر جانے کا رجحان جاری رکھا۔اس شدت کی گرمی کی وجہ سے جموں شہرکیساتھ ساتھ ملحقہ علاقوں میں جہاں روز مرہ کی زندگی متاثر ہو ئی ہے وہیں جموں شہر میں کئی ایک مقامات پر پینے کے صاف پانی کا سپلائی نظام بھی متاثر ہونا شروع ہو گیا ہے جس کو لے کر عوام متعلقہ محکمہ کیخلاف سراپا احتجاج ہیں ۔اسی طرح جموں شہر کا سب سے مصروف ترین علاقہ سمجھا جانے والا رگھو ناتھ بازار میں لوگوں کا آنا جانا انتہائی کم ہو گیا ہے ۔حالانکہ دن کے مقابلے میں صبح اور شام کے اوقات میں لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تاہم دن میں مارکیٹ لگ بھگ خالی رہتی ہے جس کی وجہ سے مذکورہ مارکیٹ کے کاروبار پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔دوسری جانب جموں میں بڑھتی گرمی کیساتھ ہی بجلی کی کٹوتی کا عمل بھی شروع ہے تاہم متعلقہ حکام نے بتایا کہ جموں میں گرمی سے نجات کیلئے دو سو میگا واٹ اضافی بجلی کا بندوبست کیاجارہا ہے ۔ ایم ڈی جے پی ڈی سی ایل وکاس کنڈل نے کہا کہ ایک بڑے فیصلے میں جے پی ڈی سی ایل نے جموں کے لئے اضافی 200 میگاواٹ بجلی خریدنے کا عمل مکمل کر لیا ہے اور اس سے جموں کے لوگوں کے لئے جاری شدید گرمی کے موسم میں بڑی راحت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکام عوام کیلئے ہموار بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے بہترین کوششیں کر رہے ہیں۔ موصوف نے بتایا کہ جموں صوبے کے لئے بجلی کا موجودہ کوٹہ 1200 میگاواٹ تھا جبکہ ایل جی انتظامیہ کی انتھک کوششوں سے اس کوٹہ کو بڑھا کر 1400 میگاواٹ کر دیا گیا ہے۔ایم ڈی جے پی ڈی سی ایل نے بتایا کہ 24 مئی بروز جمعہ کو صوبہ جموں میں شدید آندھی آئی تھی جس کے نتیجے میں جے پی ڈی سی ایل کی ٹرنک لائنوں پر درخت گرنے کی وجہ سے کھمبوں اور تاروں کو نقصان سمیت مختلف مقامات پر بڑے نقصانات ہوئے ہیں تاہم، تمام انجینئرز سمیت پی ڈی ڈی کے عملے نے انتھک محنت کی اور سو فیصدبجلی کی بحالی کو یقینی بنایا ۔انہوں نے واضح کیا کہ جموں شہر کے سمارٹ میٹر والے علاقوں میں کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی اور اضافی بجلی کی دستیابی کے ساتھ دیہی علاقوں میں کٹوتیوں میں بھی کمی آئے گی۔ ایم ڈی جے پی ڈی سی ایل نے جموں کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بجلی کا درست استعمال کریں اور کسی بھی قسم کی بجلی چوری میں ملوث نہ ہوں تاکہ تمام صارفین کو بجلی دستیاب ہو سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جے پی ڈی سی ایل ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گا جو بجلی چوری میں ملوث ہیں اور اس طرح کے عمل سے سرکاری خزانے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ رہا ہے اور ایماندار صارفین کو کچھ شرپسندوں کے غیر قانونی طریقوں سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔آفیسر موصوف نے بتایا کہ سمارٹ میٹرنگ مشن موڈ میں نافذ العمل ہے اور سمارٹ میٹروں والے علاقوں میں بلاتعطل اور باقاعدہ بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ نقصانات کو بھی کم کرنا ہے۔منیجنگ ڈائریکٹر جے پی ڈی سی ایل نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ توانائی کی بچت کرنے والے کولنگ آلات استعمال کریں ۔