جموں صوبے کے اول تا9ویں اور11ویں جماعت تک طالب علموں کی ماس پروموشن کو منظوری

سرینگر//محکمہ سکولی تعلیم نے منگل کو جموں صوبے میں پڑنے والے جماعت اول تا 9ویں اور11ویں کے سبھی طالب علموں کو ماس پرموشن فراہم کرنے کے منصوبے کو منظوری دی۔
حکومت نے جموں کشمیر کے دونوں سرمائی زونوں میں 11ویں جماعت کے ششماہی امتحان میں شامل ہونے والے اُمیدواروں کو بھی ماس پروموشن کے زمرے میں لایا ہے ۔
یہ فیصلہ اُس منصوبے کے بعد لیا گیا ہے جو جے کے بورڈ آف سکول ایجو کیشن کی چیئر پرسن وینا پنڈتا نے4اپریل کو حکومت کے سامنے پیش کیا تھا۔
بورڈ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے”کورونا وائرس سے پیدا صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے، حکام نے اُس منصوبے کو منظوری دی ہے جس کا مقصد لاک ڈاﺅن کے نتیجے میں بچوں کے تعلیمی کیریئر کو بچانا ہے“۔یہ فیصلہ تعلیمی سرگرمیاں معطل رہنے کی وجہ سے لیا گیا ہے۔
ڈائریکٹر سکول ایجو کیشن، جموں انورادھا گپتا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا”اول جماعت سے 9ویں کے طالب علموں ،جو پہلے ہی سالانہ امتحان میں شامل ہوئے تھے ، کے سوالناموں کی جانچ اور نتائج تیار کرنا موجودہ حالات میں ممکن نہیں ہورہا تھا“۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں میں نیا تعلیمی سال یکم اپریل سے شروع ہونا تھا جو ملک بھر میں لاک ڈاﺅن کے نتیجے میں نہیں ہوا۔اس لئے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکام کے سامنے ماس پروموشن کا منصوبہ رکھا گیا تھا۔منصوبے کو منظوری دیتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ جموں صوبے کے اول سے نویں جماعت کے طالبان علم کو اگلے کلاسوں کیلئے ترقی دی جاتی ہے۔
ایک سرکاری حکمنامے میں کہا گیا ہے ” گرمائی زون کے جن 11ویں جماعت کے اُمیدواروں کو امتحامات میں شامل ہونا تھا اور جو معطل ہوگئے ہیں، کو بھی پروموٹ کیا جاتا ہے“۔تاہم مذکورہ طالب علموں کی پروموشن پر یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اُنہوں نے سالانہ امتحان میں شامل ہونے کیلئے فارم جمع کراکے سبھی لوازمات پوری کی تھیں۔ 
اس کے علاوہ جموں کشمیر کے سرمائی زون کے11ویں کے طالب علموں جنہیں ششماہی امتحانات میں شامل ہونا تھا ،کو بھی ماس پروموشن دی گئی ہے، شرط یہ کہ انہوں نے سبھی لوازمات پوری کر رکھی ہوں۔