جموں صوبہ میں ڈی ڈی سی چنائو کے ساتویں مرحلہ کے تحت72فیصد رائے دہی

جموں // ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات کے ساتویں مرحلے کے تحت جموں کے 18حلقوں میں784 پولنگ مراکزپر رائے دہی ہوئی۔ جموں صوبے میں اوسطاً 71.93 فیصد ووٹ ڈالے گئے جس میں سے پونچھ ضلع میں سب سے زیادہ یعنی 80.12 ، ریاسی ضلع میں 76.75 اور اودھمپور ضلع میں 75.63 فیصد ووٹ ڈالے گئے جبکہ جموں صوبے کے ڈوڈہ ضلع میں سب سے کم یعنی 58.82 فیصد ووٹ پڑے ۔ جموں صوبے کے سانبہ ضلع میں  74.38 فیصد ، کٹھوعہ میں 72.85 فیصد ، رام بن میں67.75 فیصد ، راجوری میں 73.10 فیصد، کشتواڑ میں 69.89 فیصد جبکہ جموں ضلع میں 68.66 فیصد ووٹ ڈالے گئے ۔ ساتویں مرحلے کے انتخابات کے دوران جن سرپنچ اور پنچ حلقہ ہائے انتخاب کیلئے ووٹ ڈالے گئے اُن کی ووٹ شماری جاری ہے ۔ 
 
 

 راجوری میں74  فیصد جبکہ پونچھ میں80 فیصدووٹنگ | مینڈھر کے کئی پولنگ مراکز پر ہاتھی پائی اور لڑائی جھگڑوں کی اطلاعات

جاوید اقبال+طارق شال
 مینڈھر+راجوری//ضلع ترقیاتی کونسل کے انتخابات کے ساتویں مرحلے کے تحت ووٹنگ راجوری اور پونچھ اضلاع کے چار علاقائی حلقوں میں ہوئی جس میں پونچھ کے مینڈھر سے امن و امان میں خلل کے متعدد واقعات کی اطلاع ملی ہے جبکہ ضلع راجوری میں رائے دہندگی پْر امن رہی۔سب ڈویژن مینڈھر کے حلقہ انتخاب مینڈھر اے اور مینڈھر بی میں ڈی ڈی سی انتخابات بڑے جوش وخروش کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے۔ کئی جگہوں پر سکون پولنگ ہوئی اورکئی جگہوں پر لڑائی جھگڑے بھی دیکھنے کو ملے لیکن کوئی نقصان نہیں ہوا البتہ مینڈھر اے کے گرسائی علاقہ میں دو گروپوں کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوا جس میں دو لوگ معمولی زخمی ہوئے لیکن پولنگ پر کوئی اثر نہیں پڑ ااور پولنگ پرسکون حالات میں جاری رہی۔ لوگ صبح سے ہی بڑی تعداد میں گھروں سے نکلے اور لمبی لمبی قطاریاں کئی پولنگ سٹیشنوں پر لگ گئیں اور اطمینان کے ساتھ پولنگ کرتے رہے پولنگ کی شرح 80%عشاریہ ایک فیصد رہی۔ ڈپٹی کمشنر پونچھ راہل یادو نے کہا کہ مینڈھر اے اور بی میں ڈی ڈی سی انتخابات کی شرح 80.1%فیصد ووٹروں نے رائے دہندگی کا استعمال کیا۔ ڈی سی نے کہا کہ بھاری تعداد میں ووٹروں نے پولنگ سٹیشن پر پہنچ کر ووٹ ڈالے۔ انکا کہنا تھا کہ کہیں پر دنگا فساد کی اطلاع ملی ہاتھ پائی ہوئی البتہ ماحول پر امن رہا ۔ دریں اثنا ، ضلع راجوری میں 74.2 فیصدرائے دہندگان نے متعلقہ پولنگ اسٹیشن کا رخ کیا۔ ووٹران صبح ہی موسم خوشگوار ہونے کی وجہ ووٹ ڈالنے کے لئے اپنے اپنے پولنگ بوتھوں پر جمع ہو گئے۔ ووٹران نیروجال، دوداسن بالا،چک جرالاں،بگنوٹی، سیم سمت، ساج اور بھٹیاں گکھروٹ سیری دھنور کے پولنگ اسٹیشنوں پر دور دراز کے علاقوں سے آئے ۔ اطلاعات کے مطابق حلقہ انتخاب راجوری میں74.2 فیصد جبکہ سیری حلقہ میں72.1 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر راجوری ، محمد نذیر شیخ نے بتایا کہ ضلع راجوری کے دو حلقوں میں ساتویں مرحلے کے تحت رائے دہی کسی بھی واقعے کے پر امن طور پر گزر گئی اور لوگوں نے بڑی تعداد میں اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا"ضلع راجوری کے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر رائے دہندگان کی لمبی قطاریں نظر آئیں جہاں ووٹنگ ہوئی اور معاملات مکمل طور پر پرامن رہے" ۔
 
 
 

رام بن ضلع کے دو حلقوں میں | 67فیصدووٹ پڑ ے

 ایم ایم پرویز
رام بن// رام بن ضلع میں ساتویں مرحلے کے ڈی ڈی سی انتخابات کیلئے پولنگ کا آغاز ایک دھیمے نوٹ پر ہوا اور سردی کی صورتحال کے کی وجہ دو ڈی ڈی سی علاقائی انتخابی حلقوں صبح لوگ گھروں میں ہی رہے۔ضلع کے مختلف حلقوں کے 11 پنچوں سمیت 2 ڈی ڈی نشستوں اور 4 سرپنچوں کے لئے پولنگ صبح سات بجے شروع ہوئی تاہم ان علاقائی انتخابی حلقوں کے کچھ پولنگ اسٹیشنوں میں صبح کے وقت سرگرمی نہ ہونے کے برابر تھی لیکن گیارہ بجے کے بعد پولنگ کی رفتار تیز ہوگئی۔67 پولنگ اسٹیشنوں پر تقریباً23557 رائے دہندگان اپنے حق رائے دہی کے استعمال کے اہل تھے۔ڈی ڈی سی انتخابات کے علاوہ 11پنچوں اور چار سرپنچوں سمیت میونسپل کمیٹی رام بن کے ایک کارپوریٹر نشست کیلئے بھی ووٹنگ ہوئی۔ڈپٹی کمشنر رام بن ناظم ضیا خان کی جانب سے دیئے گئے اعدادوشمار کے مطابق رام بن اے حلقے میں 66.78 فیصد ووٹ ڈالے گئے جبکہ رام بن بی میں 68.32 فیصد ووٹنگ ہوئی۔مجموعی پولنگ کا تناسب 67.75 فیصدرہا۔
 
 
 
 

پولنگ مراکز پر قبضہ کا الزام، سرنو پولنگ کے مطالبہ کو لیکر احتجاج

جاوید اقبال
مینڈھر//سب ڈویژن مینڈھر میں مینڈھر بی میں پولنگ ختم ہوتے ہی یادگار چوک مینڈھر میں کئی انتخابات لڑنے والے امیدواروں نے دھرنا دے کر کئی پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ ووٹ ڈالنے کی مانگ کی۔ امیدواروں کے ہمراہ حلقہ انتخاب مینڈھر بی سے عام لوگوں نے بھی شرکت کی اور گاڑیوں کی آمدورفت کو بندکرکے دوبارہ پولنگ کی کئی گھنٹوں تک مانگ کرتے رہے۔ لوگوں نے امیدواروں کے ہمراہ نعرے بازی کرتے ہوئے دوبارہ سخی میدان پنچائت اور ملک پور کے پولنگ بوتھوں پر دوبارہ ووٹ ڈالنے کی مانگ کی۔ یہ دھرنا شام دیر تک جاری رہا اور امیدوار لگا تار دوبارہ پولنگ کی مانگ کرتے رہے دوبارہ پولنگ کی مانگ کرنے والے امیدواروں میں کانگریس پارٹی سے وابستہ پروین سرور خان، نیشنل کانفرنس سے وابستہ ایڈووکیٹ نذیر چوہدری، بی جے پی سے وابستہ چوہدری میرمحمد، اپنی پارٹی کے امیدوار طاہر مرزا اور آزاد امیدوارعاقب خان ،ا نجینئر غلام نبی چوہدری تھے۔ انہوں نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے صبح سے ہی انتظامیہ سے اپیل کی کہ سخی میدان پنچائت اور ملک پور پنچائت میں دھاندلی ہورہی ہے لہٰذا فوری طور انتظامیہ وہاں پر پہنچے اور دھاندلی کو بند کروائے۔ انکا کہنا تھا کہ وہاں پر موجود آزاد امیدوار کے حامیوں نے کئی امیدواروں کو دھکے مارے اور وہ لگاتار فر ضی ووٹ ڈالتے رہے لہٰذا جب تک دوبارہ پولنگ کا حکم نہیں ہوگا ہم اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ انہوں نے آزاد امیدوار کے کئی رشتہ دار ملازمین کو معطل کرنے کی بھی مانگ کی اور کہا کہ یہ لوگ صبح سات بجے سے ایک بجے تک لگاتار فرضی ووٹ ڈالتے رہے لیکن انہوں نے کسی کی بھی نہ سنی اور انتظامیہ بری طرح ناکام ثابت ہوئی۔ اس دوران انتظامیہ سے وابسطہ آفیسران نے دھرنے پر بیٹھے امیدواروں کے ساتھ بات چیت بھی کی اور ان سے کہا کہ ہمیں ریزولیشن دے دو ہم اعلی حکام اور الیکشن کمیشن کو لکھے گے اور آپ کی بات اعلی حکام تک بھی پہنچائیں گے ۔اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر پونچھ راہول یادونے کہا کہ مینڈھر اے ڈی ڈی سی حلقہ کے گورسائی کے علاقے میں احتجاج کو پر سکون کردیا گیا ہے جبکہ ڈی ڈی سی حلقہ میندھر بی کے مینڈھر قصبے کے علاقے میں احتجاج ابھی بھی جاری ہے۔ڈی سی نے کہا"لوگ کچھ پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ گنتی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ہم نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ متعلقہ پریذائیڈنگ افسران سے تفصیلی رپورٹ لینے کے بعد معاملہ ریاستی الیکشن کمشنر کے پاس اٹھایا جائے گا کیونکہ دوبارہ انتخاب کا فیصلہ ایس ای سی کا مینڈیٹ ہے" ۔جب اس سے بوتھ پر قبضہ کرنے کے الزامات کے بارے میں پوچھا گیا تو ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے اور احتجاج کے الزامات یہ ہیں کہ ووٹرز کو ڈرایا گیا ہے لیکن ہم تحقیقات کے بعد ہی اس کی تصدیق کرسکتے ہیں۔
 
 
 

 ڈوڈہ کے بھالہ حلقہ میں 58.81  فیصدپولنگ 

 اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میں ساتویں مرحلے کے تحت ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 58.81 و پنچائت کے ضمنی انتخابات کے لئے 78.38 فیصد رہی۔ تفصیلات کے مطابق ڈوڈہ کے بھالہ حلقہ میں ساتویں مرحلے کے تحت بدھ کے روز ووٹ ڈالے گئے۔ووٹنگ کا آغاز صبح سات بجے کیا گیا اور دو بجے تک جاری رہی۔ اس دوران جہاں کئی عمر رسیدہ افراد نے اپنے رائے دہی کا استعمال کیا وہیں سینکڑوں نوجوان رائے دہندگان نے پہلی بارے ووٹ ڈالا۔ اس حلقہ میں 12395 یعنی 58.81فیصد رائے دہندگان نے 6 ڈی ڈی سی امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالے جبکہ خالی پڑی سرپنچ نشست پر 71.73 و پنچ نشست کے لئے 78.38 فیصد ووٹ پڑے۔ ضلع الیکشن آفیسر ڈوڈہ ڈاکٹر ساگر ڈی ڈوئی فوڈے نے ایس ایس پی ممتاز احمد و دیگر آفیسران کے ہمراہ بھالہ کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا واضح رہے ضلو کے چودہ حلقوں میں سے تیرہ حلقوں میں سات مرحلوں میں ووٹنگ ہوگئی اور اب صرف عسر حلقہ باقی رہا ہے جہاں 19 دسمبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔
 
 
 

گولہ باری کے باوجودجم کر پولنگ

رمیش کیسر
نوشہرہ//ضلع راجوری کے نوشہرہ کے علاقے لائن آف کنٹرول کے کلال سے لو گ گولہ باری خطرات کے باوجود ووٹ ڈالنے کے لئے بڑی تعداد میں اپنے پولنگ اسٹیشنوں پر جا پہنچے۔ڈی ڈی سی انتخابات کے ساتویں مرحلے میں رائے شماری کے تحت بدھ کے روز ڈیال ، کلال سمیت کلال میں لائن آف کنٹرول کے متعدد دیہات میں بھاری پولنگ دیکھنے کو ملی۔لائن آف کنٹرول پر واقع ڈیئنگ اے ، بی اور کلال پولنگ اسٹیشنوں میں 74.0 ، 73.1 اور 77.2 فیصدرائے دہندگان نے ووٹ ڈالے ۔ یہ تینوں پولنگ اسٹیشن کلال سیکٹر کے ڈینگ پنچایت علاقے میں لائن آف کنٹرول پر واقع ہیں۔سرپنچ ڈیینگ رمیش چوہدری نے کہا"تقریبا ہر روز پاک فوج ہمارے علاقے میں فائر بندی کی خلاف ورزی کرتی ہے اور فائرنگ اور شیلنگ کا سہارا لیتی ہے لیکن بدھ کے روز بڑی تعداد میں لوگوں نے ووٹ ڈالے" ۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پنچایت میں زیادہ تر علاقہ لائن آف کنٹرول اور شیلنگ زون میں واقع ہے جس کے باوجود لوگوں نے بلا خوف و خطر بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے۔سرپنچ نے کہا "سب سے زیادہ غیر محفوظ پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ ہائی اسکول کلاال میں ہے جو کنٹرول لائن کے علاقے کبوتر گالا کے سامنے آتا ہے جہاں ہر روز بھاری مارٹر گولہ باری ہوتی ہے" ۔ڈپٹی کمشنر راجوری محمد نذیر شیخ نے بتایا کہ کلال میں ایل او سی کے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر پر امن ماحول میں ووٹنگ ہوئی۔ 
 
 
 

۔6ملازمین معطل ،تحقیقات کا حکم ،ایس ایچ او کیخلاف بھی انکوائری ہوگی

جاوید اقبال
مینڈھر// ڈی سی پونچھ راہل یادو نے ایس ڈی ایم مینڈھر کے خط اور اس کے ساتھ نتھی کئے گئے میمورنڈم کی روشنی میں 6سرکاری ملازمین کو بوتھ پر قبضہ کرنے اور الیکشن عمل میں رخنہ ڈالنے کے الزام میں معطل کرتے ہوئے ڈی سی آفس پونچھ کے ساتھ منسلک کردیا۔معطل کئے گئے ملازمین میں میڈیکل اسسٹنٹ مینڈھر افضل بشیر،فزیکل ایجوکیشن ٹیچرارائی منکوٹ امجد بشیر،فارسٹ پروٹیکشن فورس اہلکار شاہد بشیر،ٹیچر مڈل سکول بھٹاکاس مینڈھرمحمد مشتاق،گینگ کولی پی ڈبلیو ڈی مینڈھرسرفراز خان اور ایگریکلچر اسسٹنٹ مینڈھرمرتضیٰ علی ممتاز شامل ہیںجبکہ ایڈیشنل ڈی سی پونچھ کو انکوائری آفیسر مقرر کرکے الزامات کی تحقیقات کرکے ایک ہفتہ میں رپورٹ پیش کرنے کو کہاگیا ہے۔اس دوران ایس ایس پی پونچھ نے بھی ایڈیشنل ایس پی پونچھ کو الیکشن لڑ رہے امیدواروں کی تحریری شکایت کے پس منظر میں پولیس سٹیشن مینڈھر منظور احمد کوہلی کے غیر پیشہ وارانہ برتائو کی تحقیقات کرکے فوری طور رپورٹ پیش کرنے کو کہاہے۔
 
 
 

بصیر احمد خان نے ادھمپورمیں صنعتی مراکز کا تفصیلی دورہ 

اودھمپور//لفٹینٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے آئی آئی ڈی سنٹر بٹل بالیاں اودھمپور کا تفصیلی دورہ کیا دورے کا مقصد وہاں صنعتی یونٹ ہولڈروں کو درپیش مشکلات کا جائیزہ لینا اور اُن کا ازالہ کرنا تھا ۔ انہوں نے اودھمپور انڈسٹریل سیکٹر کے کئی کامیاب یونٹوں کے کام کاج کا بھی جائیزہ لیا ۔ مشیر کے ہمراہ ناظمِ صنعت ، منیجنگ ڈائریکٹر سیکاپ ، اے ڈی سی اودھمپور ، جی ایم ڈی آئی سی اودھمپور ، صدر انڈسٹریز ایسوسی ایشن اودھمپور ، صدر چیمبر آف کامرس اور مختلف محکموں کے افسران ، صنعتی یونٹوں کے نمائندگان تھے ۔ صدر انڈسٹریز ایسوسی ایشن اودھمپور اور دیگر  ارکان نے صنعتی علاقے کو درپیش مسائل جن میں پینے کے پانی کی قلت ، ناقص سڑک رابطہ سہولت ، بجلی کی قلت وغیرہ شامل ہیں کو اجاگر کیا ۔ انہوں نے چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کی فیس میں چھوٹ دینے، سنگل ونڈو سسٹم کی موثر عمل آوری ، صنعتی علاقے کیلئے ایک اعلیحدہ فیڈر کی تنصیب ، بجلی فیس میں معافی سکیم کی مدت میں توسیع ، وئیر ہاوس اور ٹرانسپورٹ یارڈ کے قیام ، صنعتی علاقے میں فائیر سٹیشن قائم کرنے ، گندھے پانی کیلئے ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تنصیب ، اُن صنعتی یونٹوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے جنہوں نے اب تک کام شروع نہیں کیا ہے کی مانگیں بھی ایسوسی ایشن نے مشیر کو پیش کیں ۔ اس موقعہ پر مشیر نے ناظمِ صنعت کو سیمنار منعقد کر کے صنعتکاروں کو صنعتوں کیلئے نئی سکیموں سے متعلق جانکاری دینے کی ہدایت دی ۔ صنعتکاروں سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے مشیر نے کہا کہ اس ملاقات کا مقصد صنعتی یونٹوں کو درپیش مسائل کی شنوائی کر کے اُن کا ترجیح بنیاد پر ازالہ کرنا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے صنعتی دور کے آغاز کیلئے ہمیں منظم طور کام کرنا ہو گا اور ممکنہ سرمایہ کاروں کو صنعتوں میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اودھمپور میں صنعتی یونٹوں کے قیام کیلئے وسیع صلاحیت موجود ہے اور بیمار یونٹوں کی تنسیخ بھی لازمی ہے ۔ انہوں نے موقعہ پر ہی افسروں کو آپس میں بہتر تال میل قائم کرنے اور ڈی آئی سی مراکز کو اپنے کام کاج میں فعالیت لانے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی یونٹوں کو درپیش مسائل اعلیٰ حکام تک پہنچائے جائیں گے ۔