جموں سے سرینگر آرہی گاڑی کو حادثہ

بانہال//جموں سرینگر شاہراہ پر جمعرات کی دوپہر پیش آئے سڑک کے ایک حادثے میں سرینگر کا 28سالہ نوجوان لقمہ اجل بن گیا جبکہ دوسرا زخمی ہوا ۔ ایس ایس پی رام بن محترمہ پی ڈی نتیا نے حادثے کی تفصیلات شئیر کرتے ہوئے کہا کہ بغیر نمبر کے نئی آلٹو کار جموں سے سرینگر کی طرف آنے کے دوران بانہال کے نزدیک تلباغ شابن باس کے مقام شاہراہ سے لڑھک کر قریب دو سو فٹ گہری کھائی میں جاگری ۔ حادثہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس ، فوج اور بانہال والنٹیرز کے رضاکار نے بچاو کاروائیوں کا آغاز کیا اور کھائی سے دونوں زخمیوں کو نکال کر ایمرجنسی ہسپتال بانہال منتقل کیا جہاں بعد میں ایک زخمی نے دم توڑا جبکہ دوسرے زخمی کو ایس ایم ایچ ایس سرینگر منتقل کیا گیا ۔پولیس نے حادثے میں مرنے والے کی شناخت عامر احمد ولد عبداللہ زرگر ساکنہ گلاب باغ سرینگر کے طور کی جبکہ بانہال سے سرینگر منتقل کئے گئے زخمی کی شناخت فیصل معراج ولد معراج الدین خان ساکنہ رعنا واری سرینگر کے طور کی ہے۔
 
 

تعمیراتی کمپنی کے ڈمپر کو حادثہ پیش 

ڈرائیور بچ نکلا،کمپنی کے خلاف ورکران کا احتجاج 

محمد تسکین
بانہال// جمعرات کی شام ریلوے ٹنل نمبر 77 کی رسائی کیلئے سڑک پر ایک ڈمپر کو حادثہ پیش آیا ہے اور تعمیراتی کمپنی ABCI  کا ڈرائیور محمد عامر میر ولد بہار احمد میر ساکنہ درمنن بنکوٹ بانہال معمولی زخموں کے ساتھ بچ نکلا ہے۔ ریلوے ٹنل کی تعمیراتی کمپنی ABCI کے ڈرائیوروں اور ورکروں نے اس حادثے کے بعد کسی بھی کمپنی  افسر کے موقع پر نہ پہنچنے کے خلاف اپنا احتجاج درج کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حادثے کا شکار ہوئے ڈمپر میں ڈیزل ختم ہوچکا تھا اور چڑھائی پر چڑھنے کے دوران ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے ڈمپر نے  مسنگ کی زور دار آواز کے ساتھ پلٹ گیا۔ انہوں نے کہا کہ جمعرات کی صبح سے ڈمپر کا ڈرائیور محمد عامر میر ڈمپر میں ڈیزل ڈالنے کا معاملہ کمپنی کے متعلقہ زمہ داروں کی نوٹس میں لا چکا تھا لیکن حادثہ رونما ہونے تک یہ معاملہ ان سنا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خوش قسمتی سے ڈمپر سڑک پر ہی الٹ گیا اور نیچے جانے کی صورت میں وہاں کمپنی ورکروں ،  مشینری اور جنریٹرز کو  نقصان پہنچنے کا خطرہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد کمپنی کے وابستگان وہاں پہنچے۔ تعمیراتی کمپنی کے ورکروں نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ وہ  تعمیراتی کمپنی اے بی سی آئی کی اپنے ورکروں کے تئیں لاپرواہی کے خلاف جمعہ کو ریلوے ٹنل نمبر 77 ڈی کے باہر احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کرینگے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تعمیراتی کمپنی نے زیر تعمیر ریلوے ٹنل کے اندر اور باہر ایک سو سے زائد ورکروں کیلئے نہ کوئی میڈیکل اسٹنٹ تعینات کیا گیا ہے اور ناہی ہنگامی حالات کیلئے کوئی ابتدائی طبی امداد ، فسٹ ایڈ یا ادویات دستیاب رکھی گئی ہیں۔