جموں خطہ کے تعلیمی اداروں میں کشمیری زبان کے لیکچراروں کی مبینہ تقرری کا معاملہ

جموں//جموں خطہ کے تعلیمی اداروں میں مبینہ طور پر کشمیری زبان متعارف کروائے جانے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے وزیر تعلیم سید محمد الطاف بخاری نے آج ایسی تمام افواہوں کو من گھڑت قرار دیا۔ ریاست کی یونیورسٹیوں سے ڈوگری زبان کو خارج کرنے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ حکومت اس علاقائی زبان کو مزید فروغ دینے کی عہد بند ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت تمام علاقائی زبانوں خصوصاً کشمیری اور ڈوگری کو یکساں بنیادوں پر فروغ دینے کی وعدہ بند ہے۔ان باتوں کا اظہار وزیر موصوف نے افسروں کی ایک میٹنگ کے دوران کیا جو ریاست کی مختلف یونیورسٹیوں میں علاقائی زبانوں کے فروغ کے لئے پڑھائے جانے والے مختلف کورسوں کا جائیزہ لینے کے لئے طلب کی گئی تھی۔ وزیر نے کہا کہ کشمیری اور ڈوگری زبانیں یکساں اہمیت کی حامل ہیں اور کسی بھی اسامی کو ڈوگری سے کشمیری میں منتقل نہیں کیا گیا ہے۔ میٹنگ کے دوران وزیر موصوف نے فیکلٹی اور زبانوں کے فروغ کے لئے اضافی فیکلٹی کی تعیناتی کا بھی جائیزہ لیا۔میٹنگ میں تعلیم کی وزیر مملکت پریا سیٹھی،اعلیٰ تعلیم کے کمشنر سیکرٹری اصغر حسن سامون کے علاوہ کئی یونیورسٹیوں کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی۔اس موقعہ پر وزیر نے مختلف تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جانے والی زبانوں کے تعلق سے فیکلٹی کے بارے میں تفصیلات طلب کیں۔ انہوں نے زبانوں کو فروغ دینے کے لئے مختلف کالجوں کے سربراہوں کو ضروری ہدایات دیں۔میٹنگ میں تعلیمی اداروں کی کارکردگی میں بہتری لانے اور ریاست میں تعلیمی شعبۂ کے مزید فروغ کے لئے کئی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔