جموں حملہ ریاست کو تقسیم کرنے کی سازش:مزاحمتی خیمہ

سرینگر//مسلم لیگ نے جموں میں بے بس اور نہتے مسلمانوں کے خلاف بلوائیوں کی انسانیت سوز کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے مخصوص لوگوںکا پس پردہ ایجنڈا قرار دیا ہے ۔ لیگ کے جنرل سیکریٹری محمد رفیق گنائی نے ایک بیان میں کہا کہ جس طرح بلوائیوں نے جموں کے اندر مسلمانوں پر زیادتی کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع کیا ہے اور بھارت کی ریاستوں میںکشمیری مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کرنے کے لئے ماحول تیار کیا جارہا ہے وہ نہ صرف نہایت ہی قابل تشویشناک معاملہ ہے بلکہ اس سے کسی بہت ہی بڑے فتنے کی بُو بھی آتی ہے جس فتنے کا مقصد پورے جموں سے مسلمانوںکیلئے جموں کے دروازے بند کرنا ہوسکتا ہے ۔ تحریک کشمیر نے جموں میںفرقہ وارانہ حملوں اور نہتے کشمیریوں کے خلاف حملوں اوراملاک کو نقصان پہنچانے کی کاروائیوں کو سوچی سمجھی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ گجرات ماڈل کی کاروائیاں جموں کشمیر کے عوام کو نہ تو تقسیم کرسکتی ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف کمر بستہ کرسکتی ہیں۔ کشمیری امن پسند قوم ہے اور امن کی حفاظت کیلئے ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ دیکر شانہ بشانہ چلنا جانتے ہیں۔محاذآزادی کے صدر محمد اقبال میر نے ایک بیان میںجموں میں کچھ شرپسند بلوائیوں کی جانب سے کشمیریوں اور مقامی مسلمانوں  کے خلاف  تشدد اور درجنوں گاڑیوں کو نقصان پہنچانے، کشمیریوں کو ڈرانے دھمکانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ آر ایس ایس ذہنیت کے شرپسند جموں میں 1947  جیسے فرقہ وارانہ حالات برپا کرنا چاہتے ہیںتاکہ جموں کو پھر ایک بار مسلمانوں سے خالی کرا یا جائے ۔انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ یہ سب کچھ پولیس کی ناک کے نیچے ہوا۔