جموں تصادم میں مارے گئے جنگجو خود کش حملہ کرنے کی طاق میں تھے: دلباغ سنگھ

نیوز ڈیسک
جموںْْ جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ کا کہنا ہے کہ سنجوان جموں میں تصادم کے دوران مارے جانے والے جنگجو سیکورٹی فورسز پر خودکش حملہ کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے۔

 

انہوں نے کہا کہ یہ جنگجو وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے سے قبل خود کش حملہ کرکے اس دورے کو متاثر کرنا چاہتے تھے۔

 

موصوف پولیس سربراہ نے ان باتوں کا اظہار جمعے کو جائے تصادم آرائی پر نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب دینے کے دوران کیا۔

 

انہوں نے کہا: ’مصدقہ اطلاع پر کارروائی کرکے جموں وکشمیر پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز نے اس آپریشن کو کامیابی سے منطقی انجام تک پہنچایا جس کے لئے میں اپنے افسروں، اہلکاروں اور سیکورٹی فورسز کو مبارک باد دیتا ہوں‘۔

 

ان کا کہنا تھا کہ مہلوک جنگجو جیش محمد نامی جنگجو تنظیم سے وابستہ تھے اور یہ سیکورٹی فورسز پر خود کش حملہ کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے۔

 

سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے سے قبل سیکورٹی فورسز پر خود کش حملہ کرنا ان کا مشن تھا تاکہ اس دورے کو متاثر کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان جنگجوؤں نے حال ہی میں در اندازی کی ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ماضی میں بھی جنگجوؤں کے اس قسم کے عزائم کو ناکام بنایا ہے اور آگے بھی ان کو اپنے مذموم ارادوں کو پورا ہونے میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

 

بارہمولہ میں انکاؤنٹر کے دوران سترہ سالہ لڑکے کی ہلاکت کے بارے میں پوچھے جانے پر موصوف ڈی جی پی نے کہا کہ پاکستانی ایجنسیاں نوجوانوں کے ذہنوں کو ناپاک کرنے کے لئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتی ہیں۔

 

انہوں نے کہا: ’ہم نے اس لڑکے کے اہلخانہ کو موقع انکاؤنٹر پر لایا جنہوں نے اپنے لڑکے کو سرنڈر کرنے کی اپیل بھی کی‘۔ان کا کہنا تھا: ’ایسا لگتا ہے جن کے ساتھ یہ لڑکا پھنسا تھا وہ کٹر پسند جنگجو تھے انہوں نے اس کو واپس جانے کی اجازت نہیں دی ہوگی‘۔

 

 سنگھ نے کہا کہ ہم نے کئی لڑکوں جو راستے سے بھٹکے ہوئے تھے، کو واپس اپنے اہلخانہ کے ساتھ ملایا۔