جموںو کشمیر میں 18000 آشوبِ چشم معاملات | جموں میں 12000 ، وادی میں تعداد 6000

پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں آنکھوں کے انفیکشین آشوب چشم سے ابتک18000 متاثر ہوئے ہیں۔ جن میں جموں میں 12000 جبکہ وادی میں 6ہزار سے زائدشامل ہیں۔ ماہرین امراض چشم کا کہنا ہے کہ یہ انفکیشن زیادہ نقصان دہ نہیں ہے اور 7دنوں کے اندر ٹھیک ہوجاتا ہے۔ جموں و کشمیر میں تقریباً ایک ماہ کے دوران قریب 20ہزار لوگ انفکیشن سے متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر صوبے میں آنکھوں کا انفکیشن اگست کے پہلے ہفتے سے شروع ہوا اور ابتک 6ہزار سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اتوار کی صبح تک بارہمولہ ضلع میں 1050 ، بانڈی پورہ میں 25، اننت ناگ میں790، بڈگام 360، کولگام میں 170، گاندربل میں 290، پلوامہ میں 950، 625 شوپیان ، سرینگر میں800 اور کپوارہ میں 415کے قریب افراد آشوب چشم سے متاثر ہیں۔اسکے علاوہ 542صدر اسپتال سرینگر، 250جے وی سی بمنہ، 100سے زائدرعناواری اور سکمز میں علاج و معالجہ کرایا ہے۔ جی ایم سی سرینگر میں شعبہ امراض چشم کی سربراہ ڈاکٹر صبیہ رشید نے کہا کہ روزانہ آنے والے مریضوں کی تعداد 20 سے 30 افراد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دو ہفتوں کے دوران 500سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا جو معمول سے زیادہ ہے اور انفکیشن سے بچنے کیلئے لوگوں کو سینٹائز ، علیحدہ تولیہ اور صابن کا استعمال کرنا چاہئے۔جی ایم سی اور اسپتال جموں کے شعبہ امراض چشم کے سربراہ ڈاکٹر اشوک شرما نے کہا، “جی ایم سی اسپتال، جموں میں آنکھوں کے فلو کے 11ہزار500 سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ہسپتال میں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ کرنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ خطے کے مختلف اضلاع اور یہاں تک کہ جموں شہر سے بھی زیادہ تر متاثرہ افراد اپنی حالت خراب ہونے کے بعد جی ایم سی جموں ہسپتال پہنچے ہیں۔10 اگست کو جموں خطے کے تمام 10 اضلاع جموں، ڈوڈہ، کٹھوعہ، کشتواڑ، پونچھ، راجوری، رام بن، ریاسی، سانبہ اور ادھم پور میں کیسوں کی کل تعداد 9127 تھی۔زیادہ تر کیس جموں، سانبہ اور کٹھوعہ سے رپورٹ ہوئے تھے۔ڈاکٹر اشوک کمار شرما نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ او پی ڈی میں کچھ حد تک کمی آئی ہے لیکن ابھی بھی روزانہ او پی ڈی میں آنے والے میں 180مریض آنکھوں کے انفکیشن کے شکار ہوتے ہیں‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ پچھلے 45دنوں کے دوران لگ بھگ12ہزار مریضوں کا علاج و معالجہ ہوا ۔ ڈاکٹر اشوک شرما کا کہنا تھا کہ جس علاقے میں یہ وائرس پھیلتاہے ، جب تک نہ 50فیصد مریضوں کو متاثر کرتا ہے تب تک اس میں کوئی کمی نہیں آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان معاملات میں کمی آنے میں ابھی 15دنوں کا وقت درکار ہے۔