جموںوکشمیر4دہائیوں سے غیر یقینی صورتحال سے دوچار: حریت (ع)

سرینگر//حریت (ع)کانفرنس نے کہا ہے کہ کوئی بھی دو تنازعات والے علاقے یکساں نہیں ہوتے ہیں اور افغانستان اور جموںوکشمیر کے درمیان تنازع کی نوعیت بھی مختلف ہیں ۔ ایک بیان میں حریت (ع) نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران افغانستان میں سیاسی اتھل پتھل اور افراتفری کے واقعات کے بعد جو نئی حکومت تشکیل دی گئی ہے، اس سے حریت (ع) کانفرنس کو توقع ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں سے وہاں جاری مسلسل جنگ و جدل کا ماحول اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوجائیگا۔بیان میں کہا گیا کہ کوئی بھی دو تنازعات والے علاقے یکساں نہیں ہوتے ہیں اور افغانستان اور جموںوکشمیر کے درمیان تنازع کی نوعیت بھی مختلف ہیں ،تاہم ہم بحیثیت کشمیری افغانستان کے عوام کے دکھ درد کو اچھی طرح محسوس کرسکتے ہیں کیونکہ بحیثیت قوم ہم بھی کم و بیش تین چار دہائیوں سے ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں اور اس طرح کی صورتحال اقوام و ممالک پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ بیان میں توقع ظاہر کی گئی کہ افغانی عوام جلد ہی اس صورتحال سے نکل آئیں گے اور جیسے ہی ملک اپنے عوامی خواہشات کے مطابق مستقبل کی تعمیر کا عمل شروع کرے گا ،تمام علاقائی اور بین الاقوامی رکن ممالک اس کی حمایت کریں گے ۔بیان میں کہاگیا کہ حریت (ع)یہ بھی توقع رکھتی ہے کہ افغانستان میں جو حکومت قائم ہوئی ہے وہ وسعت کا مظاہرہ کرکے سب کو ساتھ لیکر چلے گی اور یہ بات ذہن میں رکھے گی کہ دین اسلام میں انسانی مساوات ، باہمی حقوق ، معاشی انصاف اور مذہبی رواداری کے بنیادی اقدار ہیں ،ان پر من و عن عمل کرنے کی کوشش کریگی ۔بیان میں اس بات کی بھی امید جتلائی گئی کہ یہ اصول و اقدار ہر لحاظ سے بین الاقوامی سطح پر قابل قبول ہونگے۔حریت(ع) افغانستان کے شہریوں کی سلامتی اور ملک میں تعمیر و ترقی اور خطے کے استحکام کیلئے نیک خواہشات پیش کرتی ہے۔