جموںوکشمیر بینک کاروباریوں کے تحفظات اور تجاویز پر غور کرے گا | بینک چھوٹے قرض دہندگان کو او ٹی ایس سکیم کے دائرے میں لانے کی کوشش کرے گا:ایم ڈی

نیوز ڈیسک
سری نگر//فیڈ ریشن چیمبر س آف اِنڈسٹریز کشمیر ( ایف سی آئی کے ) کے ایک وفد نے اس کے صدر شاہد کاملی کی قیادت میں جموں وکشمیر بینک کے ایم ڈی اور سی اِی او بلدیو پرکاش سے بینک کے کارپوریٹ ہیڈ کوارٹر میں ملاقات کی۔میٹنگ میں صدر سیّد رئیس مقبول ، نائب صدر سیّد شجاعت اَندرابی ، زونل ہیڈ سری نگر سیّد شفاعت رفاعی اور بینک کے دیگر سینئر اَفسران بھی موجود تھے۔ اِس میں وفد نے وادی میں صنعتی شعبے کو درپیش مسائل کو اُجاگر کرتے ہوئے اَپنے تحفظات کا ایک چارٹر پیش کیا۔بلدیو پرکاش نے وفد کے خدشات اور درخواستوں کو بغور سننے کے بعد تسلیم کیا کہ بینک اور کاروبار کے درمیان تعلقات باہمی طور پر فائدہ مند ہیں۔ایم ڈی اور سی اِی او نے کہا’’ کاروباری برادری ہماری طاقت ہے۔ اگر آپ کماتے ہیں، تو ہم کماتے ہیں۔ اگر آپ منافع کماتے ہیں، تو ہم منافع کماتے ہیں۔ باہمی طور پر فائدہ اُٹھاتے ہوئے، ہمیں صنعتی تجارت کے لحاظ سے بڑے ترقیاتی اہداف کی طرف ترقی اور کام کرنا ہے‘‘۔ایم ڈی نے چارٹر کے بارے میں کہا کہ بینک ان کے ہر ایک تحفظات اور تجاویز پر غور کرے گا۔اُنہوں نے کہا،’’تاہم، بینک کو ریگولیٹری رہنما خطوط پر سختی سے عمل کرنا ہوگا جو اس کے قرض لینے والوں کی صورت حال کو سمجھنے کے باوجود اس کی کارروائی کے دائرہ کار کو محدود کرتی ہے۔ ہمیں اِس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ عوامی رقم کی بازیابی ہو۔‘‘اُنہوں نے جموں وکشمیر کے چھوٹے قرض دہندگان کے لئے مکمل ہمدردی کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ بینک یقینی طور پر ایسے قرض دہندگان کو او ٹی ایس سکیم کے دائرے میں لانے کی کوشش کرے گا جو رائج ریگولیٹری دفعات کے مطابق ہوں۔اِس سے قبل ایف سی آئی کے کے صدر شاہد کاملی نے بینک اور صنعت کے درمیان تعلقات کو ماں بیٹے کے بندھن سے تشبیہ دی۔اُنہوں نے کہا،’’ جموںوکشمیر بینک کی خطے میں سماجی و اِقتصادی منظر نامے کی تشکیل میں بہت زیادہ اہمیت ہے اور بینک نے جموںوکشمیر یوٹی میں صنعتی شعبے کو آگے لے جانے میں ایک اہم کردار اَدا کیا ہے اور ہم اس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا،’’ گذشتہ تین برسوں میں یا اس سے زیادہ کے دوران، ہم نے بہت زیادہ نقصان اٹھایا ہے اور اس شعبے میں سرمائے کی کمی ہے جسے بینک مطلوبہ منصوبے بنا کر پورا کر سکتا ہے تاکہ معاشی بحالی کی ضرورت ہو۔‘‘وفد نے بینک کی اوٹی ایس سکیم کو کاروبار کی مالی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے ایک اچھا قدم قرار دیتے ہوئے بینک حکام سے سکیم میںکچھ ترمیم کرنے کی درخواست کی۔ اراکین نے مزید کہا ،’’ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ زیادہ تر قرض دہندگان اپنے قرضوں کی ادائیگی کرنا چاہتے ہیںلہٰذاچھوٹے قرض لینے والوں کو بھی او ٹی ایس سکیم کے دائرے میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘