جمعرات شام 7بجے سے پیر صبح 7بجے تک۔11 اضلاع میں ’کورونا لاک ڈائون‘ نافذ

سرینگر// جموںکشمیر میںعالمگیروبائی بیماری کوویڈ- 19کے پھیلائو پر قابو پانے کیلئے انتظامیہ کی جانب سے اب تمام11اضلاع میں جمعرات 7 بجے سے 84گھنٹوں تک جاری رہنے والا’ کورونا لاک ڈائون‘ شروع ہوگیا ہے۔ سرینگراورجموں سمیت تمام اضلاع میں جمعرات کی شام 5 بجے سے ہی پولیس وفورسزکے اضافی دستوںکی تمام اہم شاہراہوں ،سڑکوں ،لنک روڑس ،اہم پلوں ،بازاروں اوردیگرعلاقوں میں تعیناتی عمل میں لائی گئی ۔خیال رہے 84گھنٹوں تک جاری رہنے والا یہ لاک ڈائون وادی کے سرینگر،اننت ناگ،بارہمولہ ،بڈگام ،کولگام ،پلوامہ اور گاندربل اضلاع میں نافذالعمل ہے جبکہ جموںصوبے میںجموں ،کٹھوعہ ،ریاسی اوراودھم پور اضلاع میں لاگو ہے۔جمعرات کی شام جموں وکشمیر کے باقی ماندہ 9اضلاع  (بانڈی پورہ، ڈوڈہ، کشتواڑ، کپوارہ، پونچھ راجوری، رام بن، سانبہ اور شوپیان) میں جمع کی شام 7بجے سے پیر کی صبح 7بجے تک کورونا لاک ڈائون کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ لاک ڈائون 3مئی بروزسوموارصبح 7بجے تک جاری رہے گا۔لاک ڈائون کے نفاذ کے مقررہ وقت سے پہلے ہی سرینگراورجموں سمیت سبھی11اضلاع میں بازارخالی ہونے لگے جبکہ دوپہرسے ہی تمام شاہراہوں ،سڑکوں اورلنک روڑس پرگاڑیوں کی آواجاہی کاکافی رش نظرآیا ۔ اس دوران کچھ مقامات پرٹریفک جام کی صورتحال بھی پیداہوگئی ۔دن کے وقت بازاروں میں صبح سے ہی خریدوفروخت زیادہ نظرآئی ،کیونکہ لوگ تین دنوں کیلئے گھروں میں مختلف غذائی اجناس کواسٹاک کرنے کیلئے مصروف رہے ۔ لوگوں کو مچھلیاںسبزیاں ،میوے ،انڈے ،مرغ اور گوشت خریدتے دیکھاگیا۔تاہم بازاروں میں بھاری رش کی وجہ سے سماجی دوری اورجسمانی فاصلہ قائم رکھنے کاکوئی خاص خیال نہیں رکھاگیا۔ کئی قصبہ جات میں دکانات باری باری یاایک کے بعدایک دن کھولنے کی بندش کے بجائے جمعرات کوزیادہ تردکانات کھلے ہی رہے ۔شام 6بجے سے بازارخالی ہونے لگے اورشام سات بجے تک بیشتر بازاروں میں سناٹا چھاگیاتھا ،تاہم شاہراہوں ،بین ضلعی سڑکوں اورلنک روڑس پرگاڑیوں کی آمدورفت جاری تھی ۔ گاڑیوں میں نصب لائوڈاسپیکروں کے ذریعے لاک ڈائون کااعلان بھی کیاگیااورلوگوں سے کہاگیا کہ وہ جلدی اپنے گھروںکوچلے جائیں اور گھروںسے باہرنہ آئیں ۔اس حوالے سے ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر اعجاز اسد کی جانب سے حکم نامہ بھی جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ ضلع سرینگر میں موجودہ کوروناصورتحال کا تفصیلی جائزہ ضلع آفات سماویٰ مینجمنٹ اتھارٹی ، سرینگر نے لیا،جس کے دوران موجودہ مثبت شرح ، ہسپتالوں میں بستروں کی دستیابی اور فعال سرگرم معاملات کو زیر غور لایا گیا۔

 قابل اجازت سرگرمیاں

سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں ، تمام لازمی خدمات بشمول ان سرگرمیوں کو چلانے کی اجازت ہوگی،جبکہ ریستوران صرف ہوٹل مہمانوں کے لئے کھلے رہ سکتے ہیں تاہم مہمانوں کو صرف کمروں میں ہی خورد و نوش پیش کیا جائے۔قومی و بین الریاستی شاہرائوں پرضروری سامان کی آسانی سے نقل و حرکت ، خانہ بدوشوں کی ریوڑوں کے ہمراہ نقل مکانی ، دربار مو ملازمین و عملہ اور دیگر مصنوعات جیسے زرعی اورباغبانی کے سامان کی نقل و حمل کیلئے کورونا کرفیو رکاوٹ نہیں بنے گا۔سرکاری و نجی صنعتی اور سائنسی ادارے، پیداواری مقاصد کے کھلے رہیں گے ۔ انٹرنیٹ خدمات ، آئی ٹی ، ٹیلی کام ، آئی ٹی فعال خدمات کے شعبے ، بشمول ای کامرس سرگرمیوں کو بھی لاک ڈائون کے دوران اجازت ہوگی۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری شناختی کارڈ دکھانے کے بعد ملازمین کو اپنی خدمات انجام دینے کیلئے کوئی بھی پابندی نہیں ہوگی۔ تمام ترقیاتی و تعمیراتی کاموں کو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔ آرڈر کے مطابق ٹیکہ کاری مہم جاری رہے گی جبکہ کالونیوں ، رہائشی علاقوں اور بندشوں والے علاقوں میں حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی کے لئے مقامی موبائل ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔

نا قابل اجازت و محدود سرگرمیاں

تمام تعلیمی ادارے پہلے ہی بند ہیں اور بند رہیں گے جبکہ تمام شاپنگ کمپلیکس ، بازار ،  نائی کی دکانیں ، سنیما ہال ، ریستوران اور بار،کھیل کود کے کمپلیکس ، جیم ، سوئمنگ پول ، باغات ، چڑیا گھر وغیرہ بند رہیں گے۔حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ شادیوں،مذہبی اورسماجی اجتماعات  میں صرف 50 افراد تک شرکت کی اجازت ہوگی ، خواہ وہ گھر کے اندر ہو یا باہر ، اور جناز / آخری رسومات ، میں صرف 20 افراد شریک ہونے کی اجازت ہے۔
 

 صحافیوں پرکوئی قدغن نہیں:پولیس

بلال فرقانی
 
سرینگر// پولیس کے انسپکٹر جنرل کشمیر زون وجے کمار نے کہا کہ پولیس کی تمام اکائیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کے دوران صحافیوں کی آزاد نقل و حرکت کو آسان بنائے۔ کشمیر پولیس زون ٹویٹرہینڈل نے آئی جی پی کشمیر کے حوالے سے ٹویٹ کیا "آئی جی پی نے پرنٹ اورالیکٹرانک دونوں سے وابستہ میڈیا افراد سے شناختی ثبوت اپنے ساتھ رکھنے کو کہا ہے۔"لاک ڈاؤن کے اوقات کے دوران ، تمام پولیس اکائیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ" پریشانی سے آزاد "صحافیوں کی دونوں پرنٹ اور الیکٹرانک کو سہولت دیں، صحافیوں سے درخواست ہے کہ وہ شناختی کارڈ لے کر جائیں، کسی بھی مدد کے لئے # ڈائل -112 آئی جی پی کشمیر مسیج کریں۔
 
 

سرینگر کے لوگ گھروں میں رہیں

ضلع ترقیاتی کمشنر کی اپیل

بلال فرقانی
 
سرینگر//ڈپٹی کمشنرسری نگر اعجاز اسد نے لوگوں سے لاک ڈاؤن کے دوران گھروں میں ہی رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دوران لازمی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا میرا کام ہے۔انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ لاک ڈاؤن کے نفاذ سے قبل ہی میرے دفتر پر کرفیو پاس کے حصول کے لئے لوگوں کی طرف سے پیغامات اور کالز کا سیلاب امڈ آیا ہے،میں لوگوں سے ایک بار پھر گھروں میں ہی رہنے کی اپیل کرتا ہوں، لازمی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا میری ڈیوٹی ہے، اس کو مجھ پر چھوڑیں‘۔ٹویٹ میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں کورونا زنجیر کو توڑنے اور سری نگر کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرنی ہے۔