جمال الدین افغانیؒ اور’’پان اسلامزم‘‘

 افغانستان کی عظیم ہستی اورممتازشخصیت جس نے علامہ اقبالؔ کومتاثر کیا،وہ سیدجمال الدین افغانی (۱۸۳۸۔۱۸۸۷عیسوی )ہیں۔جمال الدین افغانی مشہورمحدّث سیدعلی ترمذیؒ کی اولادمیںسے تھے۔اسدآباؔدافغانستان میںپیداہونے والے اس نابغہ کواقبالؔ مسلمانوں کی نشاۃِ ثانیہ کامؤسس قراردیتے ہیں۔ ۷؍اپریل ۱۹۳۲عیسوی کو چودھری محمد احسن کے نام اپنے خط میںلکھتے ہیںکہ :’’زمانۂ حال میںمیرے نزدیک اگرکوئی شخص مجدّد کہلانے کامستحق ہے تووہ صرف جمال الدین افغانی ہے۔ مصر،ایران،ترکی اورہندوستان کے مسلمانوں کی اگرکوئی تاریخ لکھے تواسے سب سے پہلے عبدالوہاب نجدی اوربعدمیں جمال الدین افغانی کاذکرکرناہوگا۔ موخرالذکرہی اصل میںمؤسس ہے، زمانۂ حال کے مسلمانوںکی نشاۃِ ثانیہ کا ۔ اگرقوم نے انہیںمجدّد نہیںکہا یاخودانہوںنے اس کادعویٰ نہیںکیا، تواس سے ان کے کام کی اہمیت میں کوئی فرق اہل بصیرت کے نزدیک نہیںآتا۔‘‘(مکاتیب اقبال ۔جلد۳۔ص ۴۰۳  از مظفرحسین)
جمال الدین افغانی سے علامہ اقبال کی ملاقات کا واضح ثبوت نہیں ملتا۔لیکن ان کے علم وفضل اور انقلابی تحریک کا غلغلہ مشرق و مغرب میں تھا۔ان کی شخصیت میں ایسی جاذبیت اور الفاظ میں ایسا اثر تھا کہ وہ جس ملک میں بھی جاتے ،اکثریت ان کی عالم اسلام کے اتحاد کی تحریک کے حامی و معاون بن جاتے۔مشہور فرانسیسی مفکر رینانؔ (Earnest Renan 1823-1892)نے اپنے تاثر کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے:’’ان کی آزاد فکر اور ان کے شریفانہ کردارنے مجھے ایسامتاثرکیا کہ گویا میرے سامنے ابن سیناؔ ، ابن رشدؔ یادورِقدیم کے مسلمانوںسے کوئی زندہ ہوکر آگیا ہو‘‘۔(بحوالہ :علامہ اقبال ،چندجہتیں۔ص ۱۲۶  :  مختار مکّی)
رینان ؔ کادعویٰ تھا کہ اسلام کی تعلیمات جدیدسائنس وعلوم کے عمل کے مخالف ہے۔ جمال الدین افغانی نے ان سے فاضلانہ مباحثہ کیا اور تبحّر علمی کاثقہ یورپین مستشرقین پربٹھادیا۔ خود رینانؔ نے اُن کے مضامین کوپسند کیاہے۔ (علی گڑھ میگزین ، علی گڑھ نمبر ۔ص ۱۲۳)مفتی محمد عبدہٗ کے بقول’’ وہ بلند حوصلہ اورزبردست قوتِ ارادی کے مالک تھے ۔ علم وحکمت کے شیدائی ،مادّیت سے گریزاں اورروحانیت کے دلدادہ ‘‘۔ (ایضاً)
اقبال کے دورِشباب میں جمال افغانی اکثرہندوستان آتے رہتے ۔ان کانقطۂ نظر’ اتحاد ملّت اسلامیہ ‘تھا۔اوراغیار کی غلامی سے نجات ۔ علامہ اقبالؔ بھی اس کے لئے کوشاں تھے، اس وجہ سے وہ جمال الدین افغانی سے قریب اورمتاثر ہوئے ۔ ڈاکٹرجاویداقبال ان اثرات کاتذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’ہندوستان میںجمال الدین افغانی کی بین الملّی اتحاد اسلامی تحریک کاپرجوش خیرمقدم کیاجاتا ۔ چنانچہ جب بھی وہ یہاں سے واپس گئےتو معتقدین کی ایک جماعت اپنے پیچھے ہندوستان چھوڑ گئے۔ اقبالؔ بھی مسلم نوجوانوںکی طرح اس جماعت کے رُکن تھے ، جوسید افغانی کے تصور اتحادِ ملّی سے متاثرہوئی‘‘۔ (شذراتِ فکر اقبال ۔ص۵۰)
جمال الدین افغانی مغرب کے محکوم قوموںمیں قوم پرستی کاجذبہ پیداکرناچاہتے تھے تاکہ وہ مغربی استعمارکامقابلہ کرسکیں۔ وہ ’تحریک اتحاد عالم اسلامی‘ کے علمبردارتھے ۔جسے مغرب نے اپنے بغض اورعنادسے ’پان اسلامزم‘(Pan Islamism)کانام دے رکھاہے۔ وہ مسلم ممالک کوایک خلافت کے جھنڈے تلے متحد ومنظم کرناچاہتے تھے ۔ حب الوطنی کو وہ انسان کافطری جذبہ مانتے تھے لیکن حبّ دین کو حبّ الوطنی پر فوقیت دلواناچاہتے تھے ۔ وہ عالم اسلام میں احیاء اسلام کے لئے کوشاں تھے ۔ ان کاخیال تھا کہ :مغربی اقوام مشرقی ثقافت کی نشوونما کے لئے نہیں بلکہ ان کے استحصال کے لئے ان میںاحساسِ کمتری پیدا کرتی ہے اور انہیںیہ باورکرانے کی کوشش کرتی ہے کہ مغرب ہی تمام خوبیوں اورکمالات کا حامل ہے اورانسانی ثقافت مغربی زبانوں ہی کے ذریعے ممکن ہے ۔ (علامہ اقبال ، چندجہتیں ۔ص ۱۲۷)
جمال افغانی مشرقی قوم کواپنی ثقافت ،زبان وادب اوراس کی عظمت رفتہ کا صحیح احساس دلاناچاہتے تھے :’’جن لوگوں کی اپنی زبان نہیں ، اُن کی اپنی شخصیت وقومیت نہیں ، نیز جس قوم کی اپنی کوئی تاریخ نہیں ،اُس کی دنیامیںکوئی عزت نہیں اور جن لوگوں کی نظرمیںاپنے ثقافتی ورثے اور اپنے بزرگوںکے کارناموںکی کوئی قدرومنزلت نہیںہوتی ، اُن کا نام تاریخ میںمحفوظ نہیںرہتا‘‘۔(ایضاً )
سامراجیت و استعمارکے خلاف افغانیؔ ہر وقت سعی کرتے رہے۔نوآبادیات میں استعماری طاقتوں کی ظاہری ترقی سے پردہ کشائی کی۔بعد میں فلسطینی نژاد مفکر ایڈورڈ سعیدؔ(Edward Saed 1935-2003)نے بھی جمال الدین افغانیؔ کی طرح مغربی استعمارکی حقیقت واضح کی۔ ان کے بقول علمی ،ادبی ،ثقافتی اورفنی ترقیوںکے پیچھے حکمراںقوم کی اپنی غرض وغایت ہوتی ہے اور اپنی قوت کومستحکم کرنے کے لئے وہ علمی میدان میںبھی ایسی ہی صورت پیداکرتے ہیںجواُن کی حکمرانی کومزید مستحکم بنادے۔ لہٰذا انہوںنے اپنی قوت اورحکمرانی کی غرض سے ذہن ودماغ بھی جیتنا چاہا اور یہ تبھی ہے کہ جب ترقی کے نام پرذہنوں کومتاثر کیاجائے۔ محکوم قومیں لازماً یہ تصورکرتی رہی ہیں کہ جوکچھ ہورہاہے، وہ ان کی ترقی کاسبب ہے کیونکہ نوآبادیات کے نظام میں علمی اورثقافتی استحصال کاپہلو مخفی ہوتاہے۔ ایڈورڈ سعید اپنے نوآبادیاتی مطالعے کے سلسلے میںاس نتیجے پرپہنچا کہ:
           "That, study, understanding, knowledge, evaluation, masked as blandishment to rule." ( Orientalism, pg.  107)           
معلوم ہوا ایڈورڈ سعید ؔ کی نگاہ میںحکمرانوںکے ذریعہ مطالعہ ،تفہیم ،علم ،تجزیہ سبھی ان کی حکمرانہ چالوںسے مطابقت رکھتی ہے۔ ان کے چکنے چپڑے طریق کار سب کے 
 ان کی فتوحات کاحصہ ہیں۔ گویا Power سے نوآبادیاتی علوم کو الگ نہیںکیاجاسکتا۔
سیدجمال الدین افغانی کسی ایک ملک کے رہنمانہیںتھے بلکہ عام اسلام کے متفقہ رہنما تصورکئے جاتے تھے ۔ان کے خیالات ونظریات کااثر ترکی ،ایران ،مصر ہندوستان اورشمالی افریقہ کی قومی تحریکوںپر بہت ہی گہراپڑا۔ انہوںنے جدیددنیاکے اجتماعی مسائل کواسلامی نقطۂ نظر سے حل کرنے کا راستہ بتایا ۔ اور قدیم وجدیداندازِ فکرکوملاکر ایک جامع وہمہ گیر اسلامی اندازِ فکر کی بنا ڈالی ۔ان کی تحریک کوبدنام کرنے کے لئے’ پان اسلامزم ‘(یعنی پوری دنیامیں جبراً اسلام کومسلط کرنا )کالفظ استعمال کیاجاتاہے۔ علامہ اقبالؔ اس تصورکے سخت مخالف تھے اوراسے بہتان سمجھتے تھے ۔ اپنے ایک بیان میں جوکہ انہوںنے ۲۸ستمبر ۱۹۳۲ء؁ کو لاہورمیں جاری کیا تھا ، فرماتے ہیں :’’پان اسلامزم کا لفظ فرانسیسی صحافت کی ایجاد ہے اور یہ لفظ ایسی مفروضہ سازش کے تحت انہوںنے استعمال کیا تھا جواس کووضع کرنے والوں کے خیال میںاسلامی ممالک،غیراسلامی اقوام ،خاص کریورپ کے خلاف کررہے ہیں۔ بعدمیں پروفیسر براؤنؔ اوردیگراشخاص نے پوری تحقیقات کے بعد یہ ثابت کردیاہے کہ یہ کہانی غلط تھی ۔ پان اسلامزم کاہَوا پیدا کرنے والوں کامنشاصرف یہ تھا کہ اس کی آڑ میں یورپ کی چیرہ دستیاں جواسلامی ممالک میںجاری تھیں،جائز قراردی جائیں‘‘۔ (گفتارِ اقبال۔ص ۱۷۷  :  محمدرفیق افضل)’جاویدنامہ‘ کے آٹھویںباب میں جب وہ فلک قمر سے فلک عطارد پہنچتے ہیں توانہیں وہاں جمال الدین افغانی اورترکی کے سعید حلیم ملتے ہیں۔ مولانارومیؔ ، افغانی ؔکا تعارف اقبال ؔ سے کراتے ہوئے کہتے ہیں   ؎
گفت مشرق زیں دوکس بہترنزاد ناخنِ شاں عُقدہائے ماکشاد
سیّدالسّادات مولانا جلال زندہ ازگفتارِ اورسنگ وسقال
یعنی ایشیامیںان دوآدمیوںسے بہتر انیسویںصدی میںکوئی دوسراشخص پیدانہیںہواہے،جنہوںنے اپنی دینی فراست اور ذاتی قابلیت کی بدولت ہمارے تمام سیاسی، تمدنی اورمعاشی مسائل کاحل پیش کیاہے۔ ان کی تقریرمیںوہ جوش تھا کہ مردہ دلوںمیںبھی زندگی کی لہر دوڑجائے۔ عقیدت سے علامہ اقبال نے بصداحترام ان کے ہاتھوںکوبوسہ دیا ۔سید افغانیؔ نے مسلمانانِ عالم کاحال پوچھا تواقبالؔ نے جواب دیا کہ ان کے درمیان دین ووطن کی جنگ جاری ہے۔ ترکی ،ایرانی ،مصری ،عربی، افغانی اورہندوستانی غرض سب کے سب فرنگی تہذیب وتمدن کے زیراثرہیں۔ دوسری جانب اشتراکیت کے تحت یورپین اقوام مسلمانوں کوسیاسی ومعاشی اعتبارسے اپناغلام بنارہی ہے اورمسلمان چکّی کے دوپاٹ کے درمیان پِس رہے ہیں۔ افغانیؔ ان حالات پرتبصرہ کرتے ہوئے ملّت روس کوپیغام دیتےہیں اوراشتراکیت کی روح سے علامہ اقبالؔ کو آگاہ کرتے ہوئے کہتے ہیں   ؎
زانکہ حق درباطل اومضمراست    قلب اومومن دماغش کافراست
غریباں گُم کردہ اندرافلاک را درشکم جوئند جانِ پاک را
افغانی کی قبرعرصہ درازتک بے نام ونشان رہی۔بعدازاںایک امریکی نے ذاتی خرچ پراسے پختہ کراکے متعارف کرایا۔دسمبر۱۹۴۴ء میںمرحوم کے انتقال کے سینتالیس سال بعداستنبول سے آپ کاجسدِخاکی کابل لے جاکردفن کیاگیا۔
جمال الدین افغانی کی شخصیت پراُنکے شاگردرشیدمحمدعبدہ تبصرہ کرتے ہوئےکہتےہیںکہ افغانی کاعلم وفضل احاطہ تحریرسے باہرتھا۔آپ کو مطالب ومعانی کی گہرائیوںپرعبورتھا۔فنون،شاعری،مناظرہ ومجادلہ سب طرف آپ کاذہن کام کرتاتھا۔آپ نے اپنے علم سے مشرق ومغرب کومرعوب کیا۔مسلمانوںکے مفادات کے تحفظ کےلئےدن رات منہمک رہتے۔جہاںسے آپ کوشعاعِ امیدنظرآتی،فوراًاس سے روشنی حاصل کرنے کی سعی کرتے۔اکثراس راہ میںآپ کوحرماںویاس کاسامناکرناپڑا۔آپ پھربھی ہمت سے لگے رہے ۔شخصی کمالات کے تذکرے کوخاطرمیںنہ لاتے تھے کیونکہ آپ سمجھتے تھے کہ کمال توصرف ذاتِ باری تعالیٰ ہی کوزیب دیتاہے۔(بحوالہ۔تاریخ اسلام کی عظیم شخصیات جلددوم ؛ص۱۴۵) سیدجمال الدین افغانی کے سامنے جومشن تھا،اس میںمسلمانوںکی علمی،اخلاقی،دنیاوی واخروی بھلائی کے حصول کامکمل خاکہ تھا۔عالمِ اسلام کی ہرمیدان میںبرتری آپ کاخواب تھا۔