جماعت اسلامی کے زیر اہتمام مظفرآباد میں کل جماعتی کانفرنس منعقد

اسلام آباد//پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر کی آرپار قیادت کو اعتماد میں لے کر مسئلہ کشمیر پر بین الاقوامی سطح پر سفارتی مہم شروع کی جائے جس میں کشمیریوں کو بنیادی فریق کے طور پر شامل کیا جائے ۔اس موقع پر پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ پلوامہ حملے کے بعد پاکستان کو ایک موقع ملا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے سلسلے میںبھارت پر عالمی دبائو بڑھائے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیر دو طرفہ تنازعہ نہیں ،سہ فریقی تنازعہ ہے جس کا پائیدار حل کشمیریوں کی رائے اور مشاورت کے بغیر ممکن نہیں ہو گا۔موصولہ بیان کے مطابق جماعت اسلامی کے زیر اہتمام سبھی سیاسی جماعتوں کی مشاورتی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں جموں کشمیر کو ناقابل تقسیم وحدت قرار دیتے ہوئے کہا گیاکہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے اور حکومت پاکستان سے اپیل کی گئی کہ بھارت کی طر ف سے جموں کشمیر کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کے منصوبے کا نوٹس لیا جائے ۔کل جماعتی کانفرنس میں فیصلہ لیا گیا کہ کشمیر میں بھارتی مظالم بالخصوص جماعت اسلامی پر پابندی کے خلاف مظفرآباد میں غیر معمولی احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا جس میں ریاست کی تمام جماعتیں شامل ہوں گی ۔کل جماعتی کانفرنس کی صدارت جماعت اسلامی پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے امیر ڈاکٹر خالد محمود خان نے کی جبکہ مہمان خصوصی صدر ریاست سردار مسعود خان تھے۔سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیر دو طرفہ تنازعہ نہیں بلکہ سہ فریقی تنازعہ ہے اورکشمیریوں کی رائے اور مشاورت کے بغیر اس تنازعہ کا حل پائیدار نہیں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ پلوامہ حملے کے بعد پاکستان کو ایک موقع ملا ہے کہ وہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف بھارت پر عالمی دبائو بڑھائے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام گزشتہ 200سال سے آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں اور اس جدوجہد میں کشمیریوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارتی جارحیت کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ دنیا بھر میں اجاگر ہوا ہے اوردنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر پر ہے اسلئے حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کو میز کے درمیان میںرکھے اور اس مسئلہ کے حل کے لیے دنیا سے مدد لینے کی کوشش کرے۔انہوںنے کہاکہ پلوامہ واقعہ کے بعد کشمیر کا مسئلہ دنیا میں اجاگر ہوا ،عادل ڈار نامی نوجوان بھارتی فوج کے ظلم وجبر کے نتیجے میں ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوا۔انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت کشمیریوں کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے ۔ مسعود خان نے کہاکہ بھارت انتخابات سے پہلے کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق دفعات 370اور 35اے کو منسوخ کرنے کی کوشش میںہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرفاروق عبداللہ،عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی ان دنوں پاکستان کی حمایت میں بیانات دے رہے ہیں لیکن ماضی میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی بھارت کے سہولت کاروں کا کردار ادا کرتے رہے ہیں اسلئے پاکستان میں حریت قائدین سید علی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق،یاسین ملک،شبیر شاہ،آسیہ اندرابی کو ہی قائدین تسلیم کیا جائے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر خالد محمود خان نے کہاکہ کل جماعتی کشمیر کانفرنس کے ذریعے کشمیر کے بھائیوں کو یہ احساس دلانا مقصد ہے کہ اس پار کشمیری اور پاکستانی عوام کے ان کے ساتھ ہیں ۔انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی مسلمہ قیادت اور حریت کانفرنس کو اعتماد میں لے کر مسئلہ کشمیر پر بین الاقوامی سفارتی مہم شروع کی جائے جس میں کشمیریوں کوبنیادی فریق کے طور پر شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل کے تحت جلد ہی مظفرآباد میں ایک بڑا احتجاجی مظاہر ہ کیا جائے گا ،دوسرے مرحلے میں اسلام آباد میں بھی بڑا احتجاجی مظاہر ہ کیا جائے گا ۔ڈاکٹر خالد محمود خان نے کہاکہ کشمیر کی صورتحال کے سلسلے میںعالمی برادری کی توجہ کی ضرورت ہے اور اس تناظر میں بیس کیمپ کے کردار کو بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے جماعت اسلامی پر پابندی اورجماعت کے رہنمائوں کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔اس موقع پر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر شاہ غلام قادر نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے متاثرین کی امداد کے لیے جامع منصوبہ بنایا جارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ بھارت کے حالیہ جارحانہ اقدام سے دنیا یہ بات سمجھ رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں پائیدا ر امن قائم نہیں ہوسکتا ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر لطیف اکبر نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ تنازعہ کشمیر کے سلسلے میں حالیہ صورت حال کے تناظر میں تمام سیاسی جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس بلائی جائے اورکانفرنس کی سفارشات کی روشنی میں کشمیر کے سلسلے میں کام کیا جائے انہوں نے جماعت اسلامی جموںو کشمیر پر پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں 10ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں ،ان پر حملے ہو رہے ہیں اسلئے حکومت پاکستان ان طلبہ کو پاکستان میں تعلیم کیلئے بلائے اور ان کا خرچہ بھی برداش کرے۔ جماعت اسلامی پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے سابق امیر عبدالرشید ترابی نے زور دیا کہ ریاستی عوام اتحاد ویکجہتی سے بھارتی منصوبوں کو ناکام بنائیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی پر پابندی کی مذمت کی ۔کل جماعتی مشاورتی کانفرنس سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے سابق صدر جنرل محمد انور خان ،جماعت اسلامی کے سابق امیر سردار اعجاز افضل خان،مسلم کانفرنس رہنما وممبر قانون ساز اسمبلی سردار صغیر خان،پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ،جموں وکشمیر پیپلز پارٹی کے صدر راجہ فضل کریم ، حریت کانفرنس کے غلام محمد صفی،سید عبداللہ گیلانی،محمود احمد ساغر،رفیق ڈار،غلام نبی نوشہری ،اعجاز رحمانی،جمعیت علماء جموں وکشمیر کے صدر امتیازصدیقی،جمعیت علماء کے امتیاز عباسی،جمعیت اہلحدیث کے شہاب الدین مدنی ،نائب امیر جماعت اسلامیو گلگت بلتستان کے امیر مشتاق ایڈوکیٹ ،راجہ جہانگیر خان،نورالباری سمیت دیگر قائدین نے خطاب کیا ۔