جماعت اسلامی جموں کشمیر پر پابندی

پلوامہ  دہشت گرد انہ حملے کے بعد جماعت اسلامی جموں کشمیر کے امیر ڈاکٹر عبدالحمید فیاض، ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی سمیت کئی ضلعی امرا اور اراکین وعہدیدار گرفتار کئے گئے ہیں ، جماعت کے دفاتر اور تعلیمی ادارے بھی سیل کئے گئے ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ’’ جماعت پاکستان حامی ہے اور ہند مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ ۲۸ فروری ۲۰۱۹ کو مرکزی وزارت داخلہ نے یو اے پی اے کے تحت اس تنظیم کو پانچ سال کے لئے کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا : ’’ جماعت اسلامی کشمیر ملی ٹنٹ تنظیموں کے رابطے میں ہے اور کشمیر اور دوسری جگہوں میں انتہا پسندی اور ملی ٹنسی کی تائید کرتی ہے‘‘۔ پابندی کے بعد اب تک جماعت اسلامی کشمیر کے تقریباً ۴۰۰ لوگ مبینہ گرفتار ہوچکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نہ صرف دفاتر بلکہ جماعت اسلامی کشمیر کے ارکان کے گھر بھی شمع بند (سیل) کئے جارہے ہیں جوکہ بڑی زیادتی ہے کیونکہ گھروں میں چھوٹے بڑے اور خواتین بھی رہتی ہیں جنہیںبغیر قصور کے مبتلا ئے عذاب کرنا سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ۱۹۵۳ میں جماعت اسلامی کشمیر نے جماعت اسلامی ہند سے اپنا تعلق توڑ کر الگ یونٹ بنائی جو اکتوبر ۱۹۵۴ میں قائم ہوگئی۔۱۹۶۵ سے ۱۹۸۷ تک جماعت اسلامی کشمیر نے اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا اور اس کے لیڈر سید علی شاہ گیلانی قانون ساز اسمبلی کے ممبر  رہے۔ ان کے علاوہ قاری سیف الدین ، عبدالرزاق، غلام نبی نوشہری اور علی محمد شیخ بھی جماعت کے ممبران اسمبلی منتخب ہوئے ۔۱۹۷۵ میں شیخ عبداللہ ۔اندرا معاہدے کی جماعت اسلامی کشمیرنے پرزور مخالفت کی،اس وجہ سے جماعت پر ایمرجنسی کے دوران پابندی لگائی گئی ۔اپریل ۱۹۷۹ میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد جماعت اسلامی کشمیر کے افراد اور ان کی املاک پر بہت حملے ہوئے۔
۱۹۸۷ میں جماعت نے کچھ  دیگر ہم خیال سیاسی پارٹیوں سے مل کر مسلم یونائیٹڈ فرنٹ ( مف)بنایا اور اسمبلی الیکشن میں حصہ لیا۔ اس میں مف کو ۹.۳۱ فی صد ووٹ ملے مگر اس کے صرف چار اُمیدوار کامیاب قرار دئے گئے کیونکہ انتخابات میں بہت دھاندلی کی گئی تھی۔ محمد یوسف شاہ ( آج کےسید صلاح الدین )۱۹۸۷ میں جماعت کی طرف سے انتخابات میں امیراکدل حلقہ ٔ انتخاب کے لئے اسمبلی امید وار تھے ۔ اس کے بعد سے جماعت نے کسی الیکشن میں حصہ نہیں لیا ۔ ۹۰ میں ملی ٹنسی شروع ہونے پر جماعت اسلامی کشمیر نے اس کا پہلے ساتھ نہ دیا مگر زیر زمین تنظیم حزب المجاہدین جماعت اسلامی سے منسوب ہوئی۔اسی بنا پر ۱۹۹۰ میں جماعت پر دوبارہ پابندی لگائی گئی ۔ سید علی شاہ گیلانی کو بھی حریت کانفرنس میں رہنے کے لئے جماعت کو چھوڑنا پڑا۔۱۹۹۷ میں جماعت نے حزب المجاہدین سے لاتعلقی کا اعلان کیا ۔جماعت اسلامی کشمیربہت سے اسکول اور خیراتی ٹرسٹ چلاتی ہے۔ایسے حالات میں جب کہ جماعت اسلامی کشمیرملی ٹنسی میں براہ راست یا بلواسطہ شریک نہیں ہے اور تعلیمی ، تبلیغی او ررفاہی کاموں میں مشغول ہے، اس پر پابندی لگاناسمجھ سے باہر ہے۔ اس کی کارروائی ا ور پکڑ دھکڑ سے کشمیر میں حالات مزید خراب ہونے کااحتمال ہے ۔ کشمیر کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے  لوگ خدشہ ظاہر کر تے ہیں کہ اس طرح کی سخت گیری سے مایوسی کے عالم میں مزید نوجوان ملی ٹنسی کی طرف راغب ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے علاوہ میرواعظ کشمیر ، جمعیت اہلحدیث وغیرہم جماعت اسلامی کشمیر پر پابندی کو غلط اقدام قرادے رہے ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی لیڈر اور سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے سوال اٹھایا ہے:’’حکومت ہند کو آخر جماعت اسلامی کشمیر سے اتنی پریشانی کیوں ہے؟انتہا پسند ہندو گروپوں کو جھوٹ پھیلانے اور ماحول خراب کرنے کی پوری آزادی ہے، جب کہ ایک ایسی تنظیم پر پابندی لگائی جارہی ہے جس نے کشمیریوں کی تعلیمی، سماجی اور فلاحی محاذوں پر لوگوں کی اَنتھک مدد کی ہے‘‘۔ اس سوال میں بہت وزن ہے۔ حکومت ہند اس نقطہ ٔ نظرکا جواب دے گی ،اگر چہ ا س کی اُمید نہیں ہے لیکن ملک  مین قانون کی حکمرانی اور عدالتوں سے بے لاگ انصاف کی اُمیدضرور ہے۔