جعلی ویڈیو پوسٹ کرنے کے الزام میں بی جے پی آئی ٹی سیل کا لیڈر گرفتار

کلکتہ//مغربی بنگال سی آئی ڈی نے آج بی جے پی کے آئی سیل کے انچارج ترون سین گپتا کو سماجی ویب سائٹوں پر اشتعال انگیز فرضی ویڈیو کو پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے ۔ سی آئی ڈی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل راجیش کمارنے بتایا کہ آسنسول بی جے پی آئی ٹی سیل کے سیکریٹری کو گیتانجلی اپارٹمنٹ ہیرا پور سے گرفتار کیا گیا ہے ۔بی جے پی لیڈر نے ایک جعلی ویڈیو پوسٹ کیا تھا جس میں دکھایا گیا تھا کہ ایک مسلم آفیسر ہندو کو ماررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گپتا کے خلاف غیر ضمانتی دفعات لگائے گئے ہیں ۔گپتا نے اس ویڈیو کو رام نومی کے موقع پر 17اپریل کو اس ویڈیو کو پوسٹ کیا تھا۔مگر سی آئی ڈی نے ابھی اس کو نوٹس میں لیا اور گرفتار کیا ہے ۔اس پوسٹ میں دو مسلم آئی پی ایس آفیسر کے نام لیتے ہوئے بتایا تھاکہ یہ مسلم آفیسرس ہندؤں کو ماررہے ہیں ۔مسٹرترون سین گپتا نے فرضی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ بیر بھوم بنگلہ دیش کا حصہ یا پاکستان کا؟ ۔ایس پی نشاط پرویز اور اے ڈی ایس پی فرحت عباس نے ہنومان بھگتوں کو مارنے کا آرڈر دیا ہے ۔یہ دونوں مسلم آفیسرس مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کافروں جو بت کی پوجا کرتے ہیں کی پٹائی کررہے ہیں ۔یہ سب ممتا ز بیگم (ممتا بنرجی)کے مسلمانوں کو امپاور منٹ کرنے کا نتیجہ ہے ۔بیر بھوم جلد ہی بنگلہ دیش کا حصہ ہوجائے گا ۔خیال رہے کہ نشاط پرویز اس وقت سی آئی ڈی آپریشن میں ڈی آئی جی ہیں۔سماجی ویب سائٹ پر فرضی ویڈیو پوسٹ کرکے فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش میں یہ تیسری گرفتاری ہے ۔دو دن قبل ہی کلکتہ پولس نے بی جے پی لیڈر نوپور شرماکے خلاف ایف آئی آر درج کیا تھا جنہوں نے گجرات فسادات کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے دکھلایا تھا کہ یہ سب بشیر ہاٹ میں ہورہا ہے ۔پولس ذرائع کے مطابق سماجی سائٹوں پر اشتعال انگیز تصویریں پوسٹ کرنے والوں کے خلاف پولس سخت کارروائی کرے گی ۔بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے کہا ہے کہ کیا قانون صرف بی جے پی کیلئے ہیں ، سین گپتا نے یہ ویڈیو اپریل میں پوسٹ کیا تھا اور اب سی آئی ڈی گرفتاری کررہی ہے ۔یہ سب بی جے پی کی شبیہ کو بگاڑنے کی کوشش کا حصہ ہے ۔فرضی ویڈیو پوسٹ کرنے کے معاملے میں پولس نے حال ہی میں احمد حسین جو کالیا گنج کا رہنے والے ہیں اور بھاپ چٹرجی جو روپ نگر کے رہنے والے ہیں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔چٹرجی نے بھوجپوری فلم کا ایک سین پوسٹ کرتے ہوئے اس کو بادوریا فسادات سے جوڑ دیا تھا جب کہ حسین نے مذہبی جذبات کو مجروح کیا تھا۔وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے گزشتہ ہفتہ بادوریا فساد کی عدالتی جانچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ بی جے پی فیس بک اور دیگر ساجی سائٹوں کے ذریعہ بنگال میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی کوشش کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اس کاغلط استعمال کرکے افواہ پھیلارہی ہے ۔اس کے بعد سے ہی مغربی بنگال پولس اور دیگر ایجنسیاں سوشل میڈیا پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ۔سی آئی ڈی کے ایک آفیسر نے کہا کہ عوام کو سماجی ویب سائٹ کے استعمال کرتے ہوئے احتیاط سے کام لینا چاہیے ۔ہمیں یہ پورا حق ہے کہ ہم ان کے خلاف سخت کارروائی کریں جو قابل اعتراض ویڈیو پوسٹ کرکے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کی وجہ سے مذہبی جذبات مجروح ہو ں یا پھر اشتعال انگیزی پیدا ہو۔ہم عوام کے ذریعہ پوسٹ کیے جارہے پوسٹوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں ۔میرے خیال سے سماجی ویب سائٹوں پر فرضی تصویریں پوسٹ کرنے سے ہم سب کو گریز کرنا چاہیے ۔اس پر کوئی سیاست نہیں ہوگی۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتہ شمالی24پرگنہ کے بشیر ہاٹ سب ڈویژن کے بادوریا اور دیگر علاقے میں ایک 17سالہ طالب علم کے ذریعہ فیس بک پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک پوسٹ ڈالنے کے بعدبڑے پیمانے پر ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی واردات ہوئی تھی۔