جس کے لئے رکھا روزہ، وہی افطار کرائے گا

جاوید اختر بھارتی
 

دنیا میں ہر طرح کے لوگ ہیں۔ امیر بھی غریب بھی، کمزور بھی طاقتور بھی ہیں، سرمایہ دار بھی اور مزدور بھی ہیں ، صبر و شکر ادا کرنے والے بھی اور ناشکری کرنے والے بھی ہیں۔ پیٹ بھر کھانے والے بھی ہیں اور اکثر و بیشتر فاقہ کرنے والے بھی ہیں لیکن سب کا مالک ایک ہے۔ سب کا رزاق ایک ہے اور یہ تو ایمان ہونا چاہئے کہ رزق دینے والا پروردگار ہے اور کوئی نہیں۔ انسان تو مزدوری تک صحیح طریقے سے نہیں دیتا ہے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر انسان کو رزق دینے کا اختیار حاصل ہوتا تو یہ دوسروں پر کتنا ظلم ڈھاتا۔  سبب اور ذرائع تو الگ بات ہے مگر وہ سبب اور ذرائع بھی اللہ تعالیٰ نے ہی بنائے ہیں۔

پوری دنیا مل کر کسی کو کچھ دینا چاہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نہ چاہے، تو پوری دنیا مل کر بھی اُسے نہیں دے سکتی۔ پوری دنیا مل کر کسی سے کچھ چھیننا چاہے اور اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو پوری دنیا مل کر بھی اُسے نہیں چھین سکتی۔ رب العالمین کا حکم ہوجائے تو ہاتھ کا لقمہ منہ میں نہ جائے۔ خود دنیا میں جنت بنواکر بھی اپنی جنت دیکھ نہ پائے، بے شمار خچروں پر خزانے کی کنجیاں لاد کر چلنے والا خزانہ سمیت زمین کے اندر دھنس جائے۔ اسی لئے اس کا واضح پیغام ہے کہ اے میرے بندوں! تم زمین والوں پر رحم کرو، ترس کھاؤ تاکہ آسمان سے تمہارے اوپر رحم و کرم کی برسات ہوسکے۔

 قارئین کرام آئیے اصل موضوع کی طرف انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے انسان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھے۔ چاہے کوئی امیر ہو یا غریب، دونوں اللہ کے بندے ہیں ۔یہ ہمیشہ احساس ہونا چاہئے کہ آخر مرنے کے بعد جب دفن کیا جاتا ہے تو چاہے امیر ہو یا غریب اس کی قبر میں وہی مٹی ڈالی جاتی ہے جو قبر کی کھدائی سے نکلتی ہے۔ کسی کو بھی قبر میں اُتار نے کے بعد الگ سے کوئی مخصوص طرح کی مٹی نہیں منگائی جاتی، یہاں تک کہ زندہ رہتے ہوئے انسان خریداری بھی اکثر و بیشتر اُسی بازار سے کرتا ہے ،جس بازار سے امیر و غریب دونوں کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ خریداری ہر آدمی اپنی وسعت کے اعتبار سے کرتا ہے۔ سحری و افطار کا وقت بھی امیر و غریب دونوں کے لئے یکساں ہے، ہاں! لوازمات میں فرق ہوسکتا ہے مگر اس فرق کو بھی اسلام نے نظر انداز نہیں کیا ہے۔ ہاں، مسلمان بھلے نظر انداز کردے مگر نظر انداز کرنے والے مسلمانوں کو بھی اور انسانوں کو بھی مذہب اسلام نے پابند کیا ہے اور صاف لفظوں میں بیان کیا ہے کہ تم بھر پیٹ کھاکر سوجاؤ اور تمہارا پڑوسی بھوکا سوئے ،تو تم مومن نہیں ہو۔ معلوم ہوا کہ یہ ضروری ہے کہ امیر غریب کا خیال رکھے، طاقتور کمزور کا خیال رکھے، بھر پیٹ کھانے والا بھوکوں کا خیال رکھے، غرضیکہ ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کا خیال رکھے ، ایک انسان دوسرے انسان کا خیال رکھے اور ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا خیال رکھے ۔مذہب اسلام کی تعلیم پر غور کرنے کے ساتھ مکمل طور پر عمل کیا گیا ہوتا تو مسلمانوں کے اندر بھیک مانگنے والی بیماری پیدا نہیں ہوئی ہوتی اور آج لاؤڈ اسپیکر سے بھیک نہیں مانگی جاتی اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی بھیک مانگنے کے لئے مسلمانوں کا بھیس اختیار نہیں کرتے۔ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے توکل بھی مضبوط ہوتا، اللہ کی ذات پر بھروسہ بھی مضبوط ہوتا مگر ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ مزاج بنتا جارہا ہے کہ پیسہ ہی سب کچھ ہے کیونکہ سماج میں عزت اُسی کو دی جاتی ہے، جس کے پاس پیسہ ہے۔ محافل و مجالس و تقاریب میں اُسی کو بلایا جاتا ہے جس کے پاس پیسہ ہے، جس کی وجہ سے غریبوں کے دل سے آہ نکلتی ہے اور وہ خون کے آنسو روتا ہے ۔

مضمون کے آخر میں حال کا ایک واقعہ تحریر کرنا بہت ہی مناسب لگتا ہے، ہوسکتا ہے یہ قوم و ملت کے لئے نفع بخش ثابت ہو۔ راقم نے ایک بستی میں جاکر دیکھا اور ایک ننھے روزہ دار کا بھی حال دیکھا، غریب گھرانہ ہے سحری کا وقت ہوچکا ہے، میاں بیوی نیند سے بیدار ہوئے ۔بیوی کہتی ہے کہ ایک ہی روٹی ہے سحری کیسے ہوگی، شوہر کہتا ہے کہ صحابہ کرام نے تو صرف ایک کھجور سے بھی سحری کی ہے بلکہ صرف پانی پی کر بھی سحری ہے اور افطار بھی کی ہے، ہمارے پاس تو ایک روٹی ہے ہم دونوں آدھی آدھی کھا لیتے ہیں۔ جیسے ہی روٹی کے دو ٹکڑے کئے تو ننھا بیٹا بھی جاگ اٹھا اور دسترخوان کے پاس آکر بیٹھ گیا کہ میں بھی سحری کروں گا اور میں بھی روزہ رکھوں گا۔ میاں بیوی دونوں نے اپنے ہاتھوں سے بچے کو روٹی کھلائی اور خود پانی پی کر سحری کی اور روزہ رکھا، اب ظہر بعد ہوگیا۔ پاس پڑوس کے لوگ افطار کا انتظام کرنے لگے ،بیوی کی آنکھوں میں آنسو آگئے ،گلے میں ایک ہار تھا ،اسے اُتارا شوہر کے ہاتھوں میں دیا اور کہا کہ ہمارے بیٹے نےروزہ رکھا ہے، جاؤ اس ہار کو فروخت کرکے اس کے لئے افطار کا سامان خرید لاؤ ۔اب شوہر وہ ہار جیب میں رکھ کر گھر سے نکلتا ہے، راستے ایک جگہ مکان تعمیر ہورہا تھا، وہاں جاکر کہتا ہے کہ مجھے کام چاہئے۔ مالک نے کہا ٹھیک ہے سیمنٹ کی بوریاں اُٹھاؤ، اینٹ پتھر مستری تک پہنچاؤ، تمہارا یہی کام ہے۔ وہ غریب انسان کام میں لگ گیا۔ اُدھر گھر پر لوگ انتظار کررہے ہیں کہ چار گھنٹے ہوگئے، ابھی تک کچھ پتہ نہیں۔ ماں بیٹے سے کہتی ہے کہ بیٹا کیسے تو افطار کرے گا، ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں۔ بیٹا کہتا ہے کہ ماں میں نے جس پروردگار کے لئے روزہ رکھا ہے، وہی افطار کرائے گا۔ ماں نے بیٹے کو سینے سے لگایا، اُدھر شوہر گھر میں داخل ہوا۔ بیٹے کے افطار کے لئے بہت سارے سامان کو دسترخوان پر سجایا اور بیوی کے ہاتھوں میں وہ ہار بھی دیا اور کہا کہ اے میری شریک حیات افطار کرو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ مجھے ایک کام مل گیا ہے اور رمضان بھر کام پر جانا ہے۔ روزانہ پیسہ ملے گا اور سحری و افطار کا انتظام بھی ہو جائے گا۔ واقعی رمضان خیر و برکت کا مہینہ ہے ،وہ پاک پروردگار سب کا پالنہار ہے، یہ دسترخوان اور افطاری کا اہتمام اُسی کی رحمت ہے۔ ہمیں رمضان المبارک کا مہینہ ملا ،یہ ہمارے لئے خوش قسمتی کی بات ہے ۔اُس اللہ رب العالمین کا جتنا بھی شکرادا کریں وہ کم ہی ہے۔

[email protected]