جرأت و بے باکی!

دو  الفاظ ہم آپسی گفتگو میں کثرت سے سنتے رہتے ہیں :’’بے باکی‘‘ اور ’’بہادری‘‘۔ یہ دونوں لفظ ایک ہی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں اور دونوں کامیابی کے بنیادی رکن شمار ہوتے ہیں۔یقینا ’’بے باکی‘‘ گستاخی اور لاپروائی سے مختلف چیز ہے‘ اسی طرح ’’بہادری‘‘ اور ’’بے قاعدگی‘‘ میں بہت فرق ہے۔بے باکی اور بہادری‘ مردانگی کی علامت ہیں اور بہت سارے امور میں یہ دونوں چیزیں کامیابی کے لئے ایک پل کی حیثیت رکھتی ہیں،بلکہ مختلف النوع ترقیاں اور معاشرتی اور فکری انقلابات بے باکی اور بہادری کے بغیر ممکن ہی نہیں۔بزدل اور ڈرپوک افراد سردی کے مارے ٹھٹھر تے پرندوں کی طرح ایک گوشے میں چھپ جاتے ہیں‘ اپنے لوگوں یا غیروں کے خوف سے کوئی کام اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے۔ ایسے لوگ ناقابل ِفراموش ہوتے ہیں نہ ہی زندگی میں کوئی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ ایسے لوگ اگر بہت ہی زیادہ تیر مار لیں تو  بھی صرف اپنی موجودہ حالت برقرار رکھ پاتے ہیں،لیکن بے باک اور بہادر افراد پہلے اپنے مقصد یا ہدف کی اہمیت سمجھتے ہیں‘ اور اسی تعلق سے کام کے ہر پہلو پر غور کرتے ہیں۔ ہدف تک پہنچنے کے کام کے نفع نقصان کا اندازہ لگا کر پروگرام بناتے ہیں اور پھر کسی لومۃ لائم کی پرواہ کئے بغیر ہدف پر اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔یہیں پر گستاخی وجنون اور بے باکی و بہادری میں فرق کی ریکھاکھنچ جاتی ہے۔ بے پروا ہ افراد سوچے سمجھے بغیر کام شروع کر دیتے ہیں، اپنے اقدام کے نفع و نقصان پر نظر نہیں رکھتے، ایسے لوگ اگر کوئی پروگرام بھی بنائیں تو دنیا کے سمجھ دار لوگ اسے پسندیدہ قرار نہیں دیتے۔ اس قماش کے لوگ اپنے زورِ بازو کا فریب کھا جاتے ہیں یا اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتے ہیں۔ اس نقطے کی مزید وضاحت کے لئے ہم یہاں تاریخ کا ایک واقعہ حافظے کی تختی سے اُتار کر پڑھتے ہیں :
پیغمبرِ اسلام ﷺ کے وصال بعد مسیلمہ نام کے ایک جھوٹے شخص نے یمن میں نبی ہونے کا  جھوٹادعویٰ کر ڈالا جس سے بہت فساد بپا ہوا۔ لشکر اسلام اس کی سرکوبی کرنے کے لیے مدینہ سے یمن کوچ کر گئے۔ مسیلمہ کے سپاہیوں نے مقابلہ کیا ، طرفین میں ہوش رُبا رَن بڑا مگر باطل  کے طرف دار شکست کھاکرمنتشر ہو گئے‘ لیکن مسیلمہ کذاب خود اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ ایک بڑے باغ میں پہنچ کر حفاظت کی حصار میں آ گیا۔ باغ کی بھی چار دیواری تھی اور باغ محفوظ قلعے کے بیچ میں تھا۔ قلعے میں زندگی کی ضروریات چند مہینوں کے لیے کافی تھیں۔ لشکر اسلام چند روز تک قلعہ کے اطراف کا محاصرہ کئے بیٹھے رہا‘ مگر لاحاصل۔ مشہور مسلمان سپہ سالار ابو دجانہؓ کی سربراہی میں ایک اجلاس ہوا۔ اس میں سب سے پہلے تو درپیش کام اور منزل کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی کہ اگر مسیلمہ گرفتار نہ ہوا تو محاصرہ ختم ہونے کے بعد وہ پھر اپنی فریب کاریوں اور جھوٹ سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کر کے گمراہ کرے گا ،یوں اسلام ا ور مسلمانوں کاایک بڑا نقصان پہنچنے کا احتمال ہے ۔ طے پایا کہ اس لئے اگر مسلیمہ کذاب کی گرفتاری میں چند مجاہدین ِاسلام شہید بھی ہو جائیں تو بھی ہدف کا حصول ایک اہم فتح ہوگی۔اس کے بعد مسیلمہ کی گرفتاری کے طریقوں پر گفتگو ہوئی۔ ابو دجانہؓ نے کہا :’’میں دس جانباز سپاہی جانتا ہوں جو اس مقصد کے لیے اپنی جان دینے پر آمادہ ہوں‘‘۔ دس جانبازوں نے فوراً اس مشن کی تکمیل کے لئے اپنی آمادگی ظاہر کر دی، پھر ’’ابو دجانہؓ‘‘ نے کہا :’’یہ دس آدمی جن میں‘ میں بھی شامل ہوں‘ ایک ایک کر کے ڈھال کے اوپر بیٹھیں گے‘ دوسرے فوجی اپنے نیزوں کے ذریعے ڈھال کو اوپر بلند کریں گے، یہاں تک کہ ڈھال پر بیٹھے ہوئے آدمی کا ہاتھ قلعہ کی دیوار کے اوپر پہنچ جائے۔ جب اس طرح سب لوگ دیوار پر پہنچ جائیں گے تو رسیوں کی مدد سے قلعہ کے اندر داخل ہوں گے۔ سب سے پہلے میں رسی لٹکائوں گا‘ اندر جائوں گا‘ قلعہ کا دروازہ کھولنے کی کوشش کروں گا‘ اگر میرے ساتھی دیکھیں کہ میں مارا گیا ہوں تو دوسرا اسی طرح واردِ قلعہ ہو گا‘ اگر اسے بھی شہادت نصیب ہو تو تیسرا شخص اندر اُترے گا‘ اس طرح چند افراد کی جان بازی کے نتیجہ میں کوئی نہ کوئی دروازے تک پہنچ ہی جائے گا اور مسلمان فوج کے لیے دروازہ کھول دے گا‘‘۔اتفاق سے ابو دجانہؓ نے اکیلے ہی یہ سارا ہدف پورا کر لیا۔ انہوں نے رسی لٹکائی اندر اُترے‘ مختصر سی جنگ کے بعد وہ قلعہ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گئے اور اس طرح فتنہ ٔارتداد کا  مرکزی کردار مسیلمہ گرفتار ہوا ، پھر اس کے قتل کے بعد مر تدین کا باب ختم ہو گیا۔اگر ابو دجانہؓ اس قدر بہادری اور جاں سپاری کا مظاہرہ نہ کرتے تو مسلمانوں کو ہر گز فتح نصیب نہ ہوتی۔اسپین کی فتح کے موقع پر‘ موسیٰ بن نصیر‘ جو افریقہ میں مسلمان فوج کے سپہ سالار تھے‘ نے یورپ فتح کرنے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے اپنے غلام طارق بن زیاد کو تھوڑے سے فوجی دستے کے ساتھ جاسوسی کی غرض سے اسپین روانہ کیا۔جب طارق نے فوج کو حکم دیا کہ ان کشتیوں کو جن میں بیٹھ کر ہم نے سمندر عبور کیا ہے‘ جلا دئے جائیں تو حکم کی تعمیل ہوئی ۔ جب کشتیاں جلنے لگیں تو بعض لوگوں نے یہ کہہ کراعتراض کیا : ’’آپ نے کشتیوں کو آگ لگوا کر ہمیں بے بس کر دیا ہے‘ اب ہم اپنے گھر واپس نہیں لوٹ سکتے‘‘۔ طارق نے جواب دیا :’’مسلمان مرد کسی پرندہ کی طرح نہیں ہے کہ اس کا ایک مخصوص آشیانہ ہو‘‘۔اس کے بعد وہ اُٹھے‘ اس پہاڑ کے دامن میں کھڑے ہو گئے جسے آج ’’جبل الطارق‘‘ ( جبرالٹر) کہا جاتا ہے۔ سمندر کی موجیں ساحل کو تھپیڑے مار رہی تھیں۔ انہوں نے زور دار تقریر کی کہ کان اُن ہی کی آواز سن رہے تھے اور سمندر کا شور گویا خاموش ہو گیا تھا۔طارق ابن زیاد نے کہا:’’اے لوگو! ٹھاٹھیں مارتا سمندر تمہارے پیچھے ہے اور دشمن کی فوج تمہارے سامنے‘ تمہارے دشمنوں کے پاس راشن اور اسلحہ کے انبار لگے ہوئے ہیں لیکن تمہارے پاس وہی غذا ہے جسے تم دشمن کے ہاتھوں سے اپنے طاقت ور پنجوں میں لے سکو‘ تمہارے پاس کمر سے لٹکی ہوئی ان تلواروں کے علاوہ اور کوئی اسلحہ نہیں ہے‘‘۔اس بے باکانہ تقریر نے مسلمان فوجیوںمیں ایک ہیجان برپا کر دیا اور ان کی رگوں میں خون جوش مارنے لگا‘ انہوں نے انتہائی بہادری سے مختصر سے عرصہ میں دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور اس طرح اسپین فتح ہوا‘‘۔
جب عیسائی مذہب کی اصلاح کے سلسلے میں مارٹن لوتھر منظر نامے پر آئے تو چرچ کے پادریوں کے خوف کی بنا پر عوام کی آہیں اُن کے سینوں میں گھٹ کر رہ گئی تھیں۔ کسی کی جرأت نہیں تھی کہ پوپ اور اس کے اطراف واکناف کے پادریوں پر معمولی سی تنقید بھی کر سکے۔’’مارٹن لوتھر‘‘۱۵۱۰ء میں روم گیا۔ اس نے دیکھا کہ بڑے عہدوں پر فائز پادری‘ مذہبی رسوم اور وظیفوں کو ادا کرنے میں لاپروائی برتتے ہیں۔ یہ دیکھ کر مذہبی اصلاحات کے سلسلے میں اس کا عزم وارادہ پختہ تر ہو گیا۔ آخرکار ۱۵۱۷ء میں اس نے اپنا ایک اعلان چرچ کے دروازے پر چپکا دیا اور عوام کو اطلاع دی کہ اس کے پاس کچھ نکات ہیں جو وہ صائب الرائے افراد کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے۔لوتھر نے اپنے تمام نکات میں مذہبی رہنمائوں کے طور طریقوں پر سخت اعتراض کیا تھا۔ اس نے کہا کہ لوگوں کی نظروں میں محترم ہو کر وہ ان کے گناہ بخش دینے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مارٹن نے پادریوں کی اس حرکت کو ایک قسم کا سوئے استفادہ قرار دیا۔اس کی تیکھی تنقید پر چرچ کے بڑوں کو سخت غصہ آیا۔ انہوں نے اسے خبردار کیا کہ وہ اپنی ان ناپسندیدہ اور ناہنجار باتوں سے باز آجائے‘ لیکن اس نے اس تنبیہ اور دھمکی کا کوئی اثر نہ لیا بلکہ محافل اور مجالس میں احتجاج کر تا رہا اور دلائل بھی پیش کرتا رہا۔ویٹکن نے مجبور ہو کر اس کے کفر کا فتویٰ صادر کیا۔ اس نے پوپ کے فتوے کو برسرِ عام جلا کر راکھ کر دیا اور فریڈرک سوم کے پاس پناہ لی لیکن پھر بھی اپنا کام جاری رکھا۔ آخرکار اپنی بے باکی اور جرأت کے نتیجہ میں اس نے عیسائی مذہب کی بعض غلط باتوں کو مذہب سے جدا کر کے دم لیا اور پروٹسٹنٹ فرقہ کی داغ بیل ڈالی۔
اب تک جو تاریخی مثالیں ہم نے پیش کیں وہ معاشرتی امور میں جرأت کے مظاہرے سے متعلق تھیں لیکن آپ ذاتی امور میں بھی جرأت اور بے باکی کی بہت سی مثالیں تاریخ کے صفحات میں پڑھ سکتے ہیں۔
جو شخص بھی کامیابی کا خواہش مند ہے، اُسے یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ زندگی کے کسی شعبے میں بھی کامیابی کا حصول بغیر ہمت و شجاعت کے ناممکن ہے!اگر آج ہمارے معاشرے کی اصلاح نہایت سست روی اور سبک رفتاری سے ہو رہی ہے تو اُس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری زندگی کی بنیاد محض دفاع پر قائم ہے، ہم آگے بڑھنے کی جرأت نہیں رکھتے، جب کہ بہادر ، بے باک اور جری افراد ہمارے درمیان انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔
جن افراد میں جرأت وہمت نہیں ہوتی، وہ اپنی موجودہ حالت قائم رکھنے کی خاطر ہاتھ پیر چلاتے ہیں‘ ان کی نظر میں ترقی کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ اگر ان کی زندگی میں کوئی موڑ آتا بھی ہے تو وہ اس سے استفادہ نہیں کرتے۔بے باک افراد کی زندگی میں جب کسی بہتری اور تبدیلی کا امکان نظر آتا ہے تو وہ زحمتیں برداشت کر کے بھی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔یہ جان لینا چاہیے کہ ہر انقلاب اور ہر تبدیلی کے لیے  محنتیں ،تکلیفیں اور زحمتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ زندگی کے ہر موڑ پر دُکھ درد بھی موجود ہوتے ہیں۔ بچہ جب ماں کے رحم سے گزر دنیا میں آتا تو زندگی کے اس موڑ پر اُسے ایک تنگ راستے سے زحمتوں کے ساتھ گزرنا پڑے گا تاکہ زیادہ وسیع اُفق پر وہ اپنی زندگی کی بساط پھیلا سکے۔بے باک افراد زندگی کے کسی موڑ پر جب پہنچتے ہیں تو ہر قسم کی مصیبت ہنستے ہوئے برداشت کر لیتے ہیں۔دیکھا گیا ہے کہ بہت سے افراد اپنی موجودہ حالت پر راضی نہیں رہتے لیکن کیونکہ اُن میں جرأت نہیں ہوتی ، اس لئے وہ آگے بڑھنے اور بہتری کے سلسلے میں سختیوں کو برداشت نہیں کر پاتے۔ اس طرح وہ جہاں ہیں، وہیں رہ جاتے ہیں اور عمر بھر صرف روتے پیٹتے رہتے ہیں۔ بقول علامہ اقبال ؒ   ؎
 عبث ہے شکوۂ  تقدیر یزداں
 تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے
(((((((((((((((())))))))))))))))))))