جدیدیت اور مغربیت

ہم میں سے اکثر لوگ جدیدیت اور مغربیت کی غلط تشریح کرتے ہیں اور اس اْلجھن میں ہیں کہ جدیدیت اور مغربیت میں مشابہت ہے اور شاید یہ ایک ہی عمل ہے لیکن حقیقت میں یہ دو الگ الگ اصطلاحات ہیں۔ سادہ الفاظ میں جدیدیت کا مطلب دورِ حاضر کے طرزِ عمل پر زندگی گزارنا یا جدید سماج سے ہم آہنگی اختیار کرنا ہے۔ جدیدیت وہ عمل ہے جس میں چیزوں کو بہترین استعمالی حالت میں نکھارا جاتا ہے جسکی وجہ سے ہماری زندگی آسان اور آرام دہ بنتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور جدید طریقوں سے زندگی کا معیار بہت بہترین ہوا ہے اور خطروں کے خدشات بہت کم ہوگئے ہیں۔ جدید تعلیم سے ہم سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت آگے بڑھ چکے ہیں۔ جدید ذرائع نقل و حمل سے ہم گھنٹوں میں ساری دنیا کا چکر لگا سکتے ہیں۔ اگرچہ جدیدیت میں بہت خرابیاں اور نقصانات بھی ہیں لیکن جب ہم ان خرابیوں کا موازنہ جدیدیت کی خدمات سے کرتے ہے تو ہم ان خرابیوں کو نظرانداز کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
 اس کے برعکس مغربیت کا مطلب غیر مغربی ممالک کا مغربی اخلاق و اقدار کی نقل کرنا ہے۔ مغربیت کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کی انسان اپنی تہذیب کو بھول کر مغربی تہذیب و تمدن اور انکا رہن سہن اختیار کرے۔مغربیت سامراجیت کا نیا روپ اور عالمگیریت کا نتیجہ ہے۔ دیکھنے میں آتا ہے کہ مغرب کے ترقی یافتہ ممالک طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دنیا کے باقی ممالک سے کچھ ایسا کھیل کھیل رہے ہیں کہ ہم اپنی تہذیب اور روایات کو بھول کر اْنکے تہذیب کی اندھی تقلید کر رہے ہیں اور اسی کو جدیدیت سمجھ رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہمیں محسوس بھی نہیں ہورہا ہے کہ ہمارے ساتھ کونسا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور آئے دن ہم اپنی زندگی کو مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگ رہے ہیں۔ مغربی فلسفہ کے دانشوروں نے ہمارے ذہن میں ایسا زہر بھر دیا ہے کہ ہم یہ سوچنے کی قوت بھی کھو بیٹھے ہیں کہ مغربی تہذیب کا یہ باغ جو ہمیں باہر سے سبز دکھائی دے رہا ہے، دراصل اندر سے کھوکھلا ہے اور ہم اس سبز باغ کی جھوٹی آڑ میں آکر اپنے مذہب، خاندان اور رشتوں کی روایات بھول چْکے ہیں۔
یہ ایک عیاں حقیقت ہے کہ ہماری مشرقی تہذیب مغربی تہذیب سے بالکل مختلف ہے۔ مشرقیت اور مغربیت دو غیر متوازی اصطلاحات ہیں جن کا کوئی بھی میل نہیں ہے۔ دونوں کے قوانین، معیار اخلاق، روایات، تہذیب آپس میں بالکل متضاد ہیں۔ہمارے یہاں اپنے واضح اورمقرر کردہ اصول، حقوق اور فرائض ہیں جو مغربی ممالک سے بالکل مختلف ہیں کیونکہ انکا اپنا نظام زندگی ہیں جو مشرقی ممالک میں کوئی مناسبت نہیں رکھتا ہے۔ لیکن یہ ایک دل شکستہ بات ہے کہ کچھ لوگ جدیدیت کے نام پر مغربیت اختیار کر رہے ہیں اور اپنی روز مرہ زندگی میں مغربی عادات و اطوار اپنا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں مغربیت کو ہی جدیدیت سمجھا جاتا ہیں اور اسی آڑ میں ہم نے مغربی تہذیب کو اپنا لیا ہے۔ اگرچہ اس بات کی کوئی واضح دلیل نہیں ہے کہ مغربی تہذیب اور انکی طرزِ زندگی مشرقیت سے بالاتر ہے لیکن پھر بھی جو لوگ مشرقی تہذیب کے طرز پر زندگی گزار رہے ہیں اْنہیں پرانے خیالات کا سمجھا جاتا ہے۔
حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو مغربی تہذیب کے اقداراور اصول بہت پست ہیں اور اس تہذیب نے خاندانی زندگی کو توڑ کے رکھ دیا ہے۔ اس تہذیب نے مادیت کو فروغ دے کے لوگوں کا سکون قلب چھین لیا ہے اور مذہبی بنیادوں کو ہلا کے رکھ دیا ہے جسکا نتیجہ سماج کی بربادی ہے۔ اسلئے بہتر یہی ہے کہ ہم مغربی تہذیب کی نقل نہ کریں اور اپنی تہذیب کو نکھار کر جدیدیت کو اپنائیں۔یہاں پر ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم مغربیت کو اپنائے بغیر جدیدیت کو اپنا سکتے ہیں ؟ اس کے مثبتی جواب میں جاپان ایک بہترین مثال ہے۔ جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے جس نے مغربیت کو اپنائے بغیر جدیدیت کی حدوں کو پار کیا ہے۔جاپان سائنس اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے لیکن جاپان نے اپنی تہذیب اور شناخت نہیں بدلی ہے۔ انکا اپنا ایک الگ رہن سہن ہیں۔ مغربی ممالک کے برعکس انکا اپنا ایک خاص خاندانی نظام ہیں۔جاپان کی مثال سے ہم یہ بات وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم مغربیت اور مغربی تہذیب کو اپنائے بغیر جدید ہو سکتے ہیں۔ 
جدیدیت کو اپنانا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن پہلے جدیدیت اور مغربیت کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہے۔ جدیدیت کا مطلب سائنس اور ترقی کی دنیا میں اپنی تہذیب و تمدن کو نکھارنا ہے۔ جدیدیت کا مطلب صرف ادارہ جاتی سطحوں پر تبدیلی لانا نہیں ہے بلکہ یہ بنیادی تبدیلی ذاتی سطح پر سماج کی بہبودی کیلئے ضروری ہے۔لیکن ہمیں اس چیز میں ہمیشہ حساس رہنا چاہئے کہ یہ تبدیلی ہمارے اصولوں اور اقدار کی قیمت پر نہ ہو اور ہمیں جدیدیت اور ترقی کیلئے مغربی طرز زندگی اپنانا نہ پڑے کیونکہ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کے بہت بھیانک اور مضر نتائج ہوسکتے ہیں۔
رابطہ۔ سوپٹ دیوسر کولگام،لیکچرار گورنمنٹ ڈگری کالج کولگام
موبایل نمبر۔ 7006569430
ای میل ۔ [email protected]