ججر کوٹلی میں گرفتارساتھی طالب علم کی سرینگر منتقلی کا مطالبہ

 سرینگر// سرینگر جموں شاہرہ پر ادھمپور کے ججر کوٹلی علاقے میں15ستمبر کو جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان جھڑپ سے قبل حراست میں لئے گئے کشمیری نوجوان محمد اقبال کی سلامتی کے خدشات کو لیکر نیم طبی طلاب نے پریس کالونی میں احتجاج کرتے ہوئے فوری طور پر انہیں سرینگر منتقل کرنے اوراتہ پتہ بتانے کا مطالبہ کیا۔منگل کی صبح کوصورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ( سکمز) نرسنگ کالج میں زیر تعلیم سینکڑوں طلاب جمع ہونے احتجاج کیا۔احتجاجی مظاہرین ،جن میں طالبات کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی نے دھرنا دیااور ہاتھوں میں تختیاں اور بینئر بھی اٹھائے۔ ان بینروں پر’’سات بہنو کے بھائی کو رہا کرو، اقبال کو رہا کرو،اقبال کہا ہے اورہم اپنے محبوب طالب علم کے ساتھ ہے‘‘ کے نعرے درج تھے۔ اس موقعہ پر ایک طالبہ نے کہا کہ اقبال کے بارے میں انتظامیہ کوئی خبر نہیں دے رہی ہے کہ انہیں کس جگہ مقید کیا گیا ہے،جس کی وجہ سے انکی سلامتی کے حوالے سے انہیں خدشات لاحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ فوری طور پر اقبال کو سرینگر منتقل کیا جائے اور منصفانہ و شفافانہ انداز میں کیس کی تحقیقات کی جائے۔احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ اقبال کا والد موذی مرض کینسر میں مبتلا ہے اور وہ اپنے بیمار والد کے علاج کے سلسلے میں جموں گیا تھا اور اْس کاکسی بھی جنگجوتنظیم کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ متواتر طور کالج میں حاضری دیتا تھا اور وہ اپنے والدکے علاج معالجہ کے سلسلے میں جموں جارہا تھا اور راستے میں اسے کن حالات اور کہاں حراست میں لیا گیا وہ یہ جاننے سے قاصر ہیں تاہم وہ سکمز میںبی ایس سی نرسنگ کررہا تھا اور 9 ستمبر کو آخری بار کلاس میں آیا تھا۔اس دران طلاب کی طرف سے منگل کو بھی کلاسوں کا بائیکاٹ جاری رہا۔